صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

رئیس ہائی اسکول کے اردو بسیرا ہال میں ’کیا پڑھا آپ نے ہمیں بھی سنائیں‘ ادبی پروگرام میں کتابوں کی باتیں

597

بھیونڈی : (عارِف اگاسکر) کوکن مسلم ایجوکیشن سوسائٹی ، بھیونڈی تعلیم کی ترویج و اشاعت کے ساتھ ساتھ فروغ ِ زبان و ادب کے لئے بھی کوشاں رہتی ہے اسی سلسلے کو جاری رکھتے ہوئے جمعہ یکم فروری ۲۰۱۹ کی شام رئیس ہائی اسکول کے اردو بسیرا ہال میں کے ایم ای سوسائٹیز عوامی ای لائبریری کے زیر اہتمام ’کیا پڑھا آپ نے ہمیں بھی سنائیں‘ ادبی نشست استاد اور علم دوست شخصیت عبدالعزیز انصاری کی صدارت میں منعقد ہوئی ۔ ترغیب مطالعہ اور کتابوں سے آشنائی کے لئے اس بارمختلف شعبوں سے متعلق اصحاب نے اپنے مطالعے کا عطر سامعین کی خدمت میں پیش کیا ۔

صدر نے اپنے تاثرات پیش کرتے ہوئے کہا کہ ’ہماری کوشش یہ ہو کہ اس مفید پروگرام میں اردو ذریعۂ تعلیم کے اساتذہ کی شمولیت زیادہ سے زیادہ ہو تاکہ ان کے حوالے سے کتابوں کی باتیں قوم کے نونہالوں تک پہنچ کر انھیں کتب بینی کے لئے راغب کرسکیں‘ اس ادبی پروگرام میں چار کتابوں کی باتیں ہوئیں ۔ ابتداء میں ظہیرالدین انصاری نے وکٹر ای مارسڈن کی کتاب ، جس کا ترجمہ محمد یحییٰ خان نے ’یہودی پروٹوکولس‘ کے نام سے کیا ہے ، کا تجزیہ پُر تاثیر انداز میں پیش کیا ۔ بعد ازاں مشہور مصّور اور تخلیق کار سیماب انور نے اپنی منتخب سابق پولس کمشنر ڈاکٹر ستیہ پال سنگھ کی کتاب ’تلاش انسان کی‘ کی باتیں بتاتے ہوئے اسے اپنی نقد کی کسوٹی پر پیش کیا ۔

سبکدوش معلّم حفظ الکبیر پروازؔ نے اس موقع پر مرحوم مظہر سلیم کے افسانوں کے مجموعہ ’مٹھیاں‘ پر قدرے تفصیل سے روشنی ڈالی اور افسانہ نگار کو نوے کی دہائی کا اہم افسانہ نگار بتایا ۔ اخیر میں ناظمِ جلسہ محمد رفیع انصاری نے ڈاکٹر الیاس صدیقی کی کتاب ’ظرافت آمیز‘ پر لکھا اپنا مضمون پیش کرتے ہوئے متذکرہ کتاب پر اپنے خیا لات کا اظہار کیا ۔ مذکورہ ادبی نشست اپنے اغراض و مقاصد کے اعتبار سے بے حد کامیاب رہی ۔ ناظمِ دارالمطالعہ صادق انصاری نے مہمانوں کا استقبال کیا ۔ مقیم انصاری کے اظہارِ تشکّر پر محفل اختتام پذیر ہوئی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.