صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

گورکھپور کی نوشین کو یو پی ایس سی 2023 میں نواں رینک حاصل – Upsc Result 2023

128,460

یونین پبلک سروس کمیشن کے نتائج کا اعلان گذشتہ روز کیا گیا۔ جس میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کے کوچنگ سنٹر سے کوچنگ حاصل کرنے والے 70 طلبہ میں سے 31 طلبہ نے کامیابی حاصل کی انہیں میں سے ریاست اترپردیش کے گورکھپور کی نوشین بھی شامل ہیں۔

گورکھپور: گورکھپور کے ایک علاقے کی رہنے والی نوشین نے یو پی ایس سی 2023 میں نواں رینک حاصل کیا ہے۔ جس سے ان کے خاندان میں انتہائی خوشی کا ماحول ہے۔ نوشین کو یہ کامیابی چوتھی کوشش میں ملی ہے۔ نوشین نے اس کے لیے پانچ سال تک سخت محنت کی ہے۔ سنہ 2019 سے وہ لگاتار 3 سال پرائمری امتحان پاس کرتی رہی، لیکن مین امتحان میں کامیابی نہیں ملی۔ پھر بھی وہ مایوس نہیں ہوئی اور لگاتار کوشش جاری رکھی۔

نوشین نے کہا کہ ان کی کامیابی میں پورے خاندان کا حصہ ہے۔ وہ تین بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹی ہے۔ والد عبدالقیوم گورکھپور آل انڈیا ریڈیو میں انجینئر ہیں، والدہ زیبا خاتون گھریلو خاتون ہیں اور بڑا بھائی یونین بینک آف انڈیا میں ملازمت کرتا ہے۔ نوشین نے شہر کے ایک سرکاری اسکول سے سائنس اسٹریم میں انٹرمیڈیٹ کیا۔ وہ شروع سے ہی پڑھائی اور لکھنے میں ٹاپر تھیں۔نوشین کے والد عبدالقیوم نے کہا کہ نوشین سائنس کی طالبہ ہونے کے علاوہ تاریخ اور مضمون نگاری پر زبردست عبور رکھتی تھیں۔ یہ دیکھ کر انہوں نے اسے حوصلہ دیا اور انجینئرنگ کے بجائے دہلی یونیورسٹی سے تاریخ میں بی اے آنرز پڑھنے بھیج دیا۔ نوشین خالصہ کالج کی طالبہ تھیں اور گریجویشن کے بعد سول سروس کی تیاری شروع کردی تھی۔ اخبارات پڑھنے کے علاوہ نوشین نے دوسرے تعلیمی پلیٹ فارمز کو بھی بہت قریب سے دیکھا۔

نوشین نے کہا کہ جامعہ ملیہ کیمپس میں منعقدہ آر سی اے کوچنگ کا سول کی تیاری ان کی کامیابی میں بڑا دخل رہا ہے۔ نوشین کی دوست نے سب سے پہلے کامیابی کی اطلاع دی۔ اس کے بعد خاندان میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ نوشین نے کہا کہ انہیں ایک بڑی ذمہ داری ملی ہے۔ معاشرے کے پسماندہ لوگوں کو آگے بڑھانے کی ہر ممکن کوشش رہے گی۔

نوشین کی والدہ نے کہا کہ جب وہ پڑھنے بیٹھی تو اسے کھانے پینے کی بھی فکر نہیں تھی۔ لوگ سو جاتے اور وہ پڑھتی رہتی۔ وہ بھی کھانا اس کی میز پر رکھ کر سو جاتی۔ ان کی بہت سادہ اور ذہین بیٹی نے آج ان کے خاندان اور پورے گورکھپور کو فخر سے بلند کر دیا ہے۔ میں جتنی خوشی محسوس کرتا ہوں اس کا اظہار نہیں کیا جا سکتا۔ صرف 25 سال کی عمر میں انہوں نے ملک کا سب سے بڑا اور باوقار امتحان کامیاب کرکے نہ صرف اپنا بلکہ اہل خانہ اور اپنے قصبہ کا نام روشن کیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.