صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

نشہ کے نام پر نوٹنکی کرنے والے بے ایمانی گروپ کو ممبئی پولس کا نوٹس

خود تو ڈوبے ہیں صنم تجھے بھی لے ڈوبیں گے کے مصداق آئندہ الیکشن میں بنگالی کے ساتھ میں وارث پٹھان کی بھی لُٹیا ڈوبنے والی ہے

833

 

ممبئی : تمباکو کھا کر نشے کے نام پر پچاس لوگوں کو اکٹھا کرکے ناٹک کرنے والے بے ایمانی گروپ کے جھولر سردار آصف اتیاچار اور آزاد میدان فساد اور قتل کا اہم ملزم اور نام نہاد مذہبی شخصیت شری معین اشرف عرف بابا بنگالی نشے کی نوٹنکی کرنے والوں کو ممبئی کے ناگپاڑہ پولس اسٹیشن نے آرٹیکل ۱۴۹ کا نوٹص بھیجا ہے ۔ اس نوٹس سے یہ اندازہ لگایا جاسکتا ہےکہ پولس کو اس نشے کی نوٹنکی کی آڑ سے جھول جھال کے فنڈے کا اندازہ ہو گیا ہے ۔

 

نوٹس کے بعد سے بابا بنگالی گینگ اور اتیاچار بری طرح سے چھٹپٹا رہا ہے کیوں کہ حال ہی میں بنگالی گینگ الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے والی طرز پر ممبئی پولس کمشنر کے پاس پہنچا تھا اور لوگوں کے نزدیک سینہ چوڑا کرکے ناگپاڑہ کے سینئر پی آئی کا تبادلہ کرنے کا راگ الاپ رہا تھا لیکن یہ سب بھی چھلاوہ ثابت ہوا ۔ ممبئی پولس نے جب سے سنگھم دیکھی ہے تب سے انہیں وردی کی قیمت اور اس کی قوت کا اندازہ ہوگیا ہے اور یہ بھی پتہ چلا ہے کہ پاکھنڈی بابائوں کی کیا اوقات ہوا کرتی ہے ۔ واضح ہو کہ بابا بنگالی کے آگے پیچھے سیاست داں اور پولس والے اس امید پر کرتے ہیں کہ انہیں ان کے چمتکار سے کوئی فائدہ ہو جائے گا ۔ پولس والے تو تعلیم یافتہ ہونے کے سبب یہ جان گئے کہ بابا بنگالی کے پاس جھوٹی باتوں کے سوا کچھ نہیں ہے ۔ لیکن سیاست دانوں کو ابھی تک اس ڈھونگی بابا بنگالی شری معین اشرف میں چمتکار نظر آنے کی امید ہے جو اپنے بھائی کو ممبرا میں کارپوریشن کا الیکشن بھی نہیں جیتا پایا ۔

یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ نشے کے نام پر نوٹنکی کرنے والا بے ایمانی گروپ کا آصف اتیاچار جھولر اور اس کا بھانجہ سعودی سے ذلیل کرکے نکالا گیا ہے اور ممبئی میں بابا نشے کی نوٹنکی کرکے وصولی کرتا ہے ۔ اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے نشہ مخالف مرکز کا لاکھوں روپئے ڈکار چکا ہے جو ان لوگوں نے نشہ کے عادی نوجوانوں کے گھر والوں سے وصولا ہے ۔

 

نشے کی نوٹنکی میں ایم ایل اے وارث پٹھان بھی شامل تھے لیکن بھیڑ کو اکٹھا کرنے میں وہ بھی ناکام رہے ۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ آئندہ لوک سبھا الیکشن میں بنگالی کے ساتھ میں وارث پٹھان کی بھی لُٹیا ڈوبنے والی ہے اس لئے وارث پٹھان کو ابھی سے وقت رہتے بنگالی کا ساتھ چھوڑ کر بچھے کھچے ترقیاتی کاموں کی جانب توجہ دیں اور یہ ڈھونگی بابا کے ساتھ عوام کو بیوقوف بنانے سے باز آجائیں ۔

وارث پٹھان کا بنگالی کے ساتھ رہنے کا سبب یہ مانا جارہاہے کہ حال ہی میں ابو عاصم سے بابا بنگالی کو جھگڑا کرنا مہنگا پڑگیا ہے ۔ اس لئے رئیس شیخ کا ساتھ چھوڑ کر اب یہ وارث پٹھان کی پناہ لینا چاہ رہا ہے ۔ حیرتناک بات یہ ہے کہ ناگپاڑہ جیسے علاقہ میں جہاں مداری کا کھیل دیکھنے کے لئے ہزاروں افراد جمع ہوجاتے ہیں لیکن نشے کے نام کی نوٹنکی کو دیکھنے کیلئے پانچ سو افراد بھی جمع نہیں ہوئے ۔

 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ بابا بنگالی گینگ اور بے ایمانی گروپ کی بیہودہ حرکتوں اور منافقت سے یہاں کے شہری اب اوب چکے ہیں اور ان پر بے ایمانی گروپ کی بے ایمانیاں منکشف ہو چکی ہیں ۔ یہاں کے شہری یہ جان چکے ہیں کہ اس طرح کے پروگرام کرکے یہ محض مقامی لوگوں پر اپنا رعب ڈالنا اور سیاسی فائدہ حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن عوام کی بیداری سے ان کا یہ سب حربہ ناکام ہوتا ہوا معلوم پڑتا ہے ۔ ان کے پاس کوئی کام دھندہ نہیں نا ہی آمدنی کا کوئی ذریعہ ہے اس لئے اس طرح کے پروگرام کی آڑ میں بھیک مانگ کر یا وصولی کرکے پیٹ پالتے ہیں ۔ مقامی افراد بخوبی جانتے ہیں کہ آصف اتیاچار کا باپ بھی پولس کا خبری تھا اور بیٹے آصف اتیاچار نے بھی اس پیشہ میں قدم رکھنے کی کوشش کی لیکن پولس نے اسے جھولر سمجھ کر گھاس نہیں ڈالی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.