صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ممبئی: رکن اسمبلی رئیس شیخ کا استعفیٰ، این سی پی میں شامل ہونے کے امکان

162,610

سماجوادی پارٹی بھیونڈی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے پارٹی سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ رئیس شیخ کے اس استعفیٰ کے سبب انڈیا الائنس پر بھی اس کا گہرا اثر پڑ سکتا ہے۔

ممبئی: سماجوادی پارٹی کے رکن اسمبلی رئیس شیخ نے استعفیٰ دے دیا ہے۔ رئیس شیخ بھیونڈی ایسٹ سے رکن اسمبلی ہیں، بھیونڈی ویسٹ میں کل سماجوادی پارٹی کے لیڈر ریاض اعظمی نے ایک پروگرام منعقد کیا تھا، جس کے بعد رئیس شیخ اور سماجوادی پارٹی کی اندرونی لڑائی کھل کر سامنے آئی۔ سماجوادی پارٹی کے بینر سے رئیس شیخ کی تصویریں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔غور طلب ہو کہ اس استعفیٰ کے بعد بھیونڈی کی سیاست میں بڑا موڑ سامنے آیا ہے۔ اس وقت جب لوک سبھا انتخابات کو لے کر سیاست گرم ہے سماج وادی پارٹی کے بھیونڈی ایسٹ اسمبلی سے ایم ایل اے رئیس قاسم شیخ نے پارٹی میں اندرونی لڑائی کی وجہ سے رکن اسمبلی کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔رئیس شیخ نے رکن اسمبلی کے عہدے سے استعفیٰ سماج وادی پارٹی کے مہاراشٹر کے ریاستی صدر ابو عاصم اعظمی کو سونپ دیا ہے، جس کو اُنہوں نے قبول بھی کر لیا ہے۔

ان کی حمایت میں کچھ لوگ اُن کے دفتر کے باہر جمع ہوئے جو ان کی حمایت میں نعرے بھی لگائے کہ ہم رئیس شیخ کو استعفیٰ نہیں دینے دیں گے اور اگر پارٹی ان کا استعفیٰ منظور کر لیتی ہے تو ہم بھیونڈی شہر میں سڑکوں پر نکل کر احتجاج کریں گے۔واضح رہے کہ کل بھیونڈی ویسٹ میں سماجوادی پارٹی لیڈر ریاض اعظمی نے انڈیا الائنس کے لیے ایک پروگرام منعقد کیا، جبکہ رئیس شیخ نے بھی ایک پروگرام منعقد کیا تھا بعد میں اُسے کینسل کر دیا گیا۔

اسی پروگرام سے پارٹی کو لیکر جو اندورنی لڑائی تھی وہ باہر دکھائی دی۔بھیونڈی لوک سبھا حلقہ ریاست مہاراشٹر کے 48 لوک سبھا (پارلیمانی) حلقوں میں سے ایک ہے۔ یہ تھانے ضلع کا ایک حصہ ہے اور عام زمرے کی پارلیمنٹ کی نشست ہے۔ اس میں چھ اسمبلی حلقے شامل ہیں بھیونڈی رورل (ST)، شاہ پور (ST)، بھیونڈی ویسٹ، بھیونڈی ایسٹ، کلیان ویسٹ اور مرباڈ۔ بھیونڈی لوک سبھا حلقہ سے موجودہ ایم پی کپل پاٹل بی جے پی سے ہیں۔سیاسی ذرائع سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ سماجوادی پارٹی کی اندرونی لڑائی میں جب راہل گاندھی کا انڈیا الائنس کا دورہ تھا تو اس دورے میں ابو عاصم اعظمی اور اکھلیش یادو شامل ہونے والے تھے۔ لیکن کنہیں وجوہات سے شریک نہیں ہوئے۔ لیکن سماجوادی پارٹی کی جانب سے رئیس شیخ شامل ہوئے، جس کی وجہ سے اُنہیں وزیر اعلیٰ اور نائب وزیر اعلیٰ کی جانب کھری کھوٹی سننی پڑی۔ کیونکہ اُن کے مراسم اجیت پوار گروپ اور وزیر اعلیٰ سے بہتر ہیں۔ اس وجہ سے اگر وہ اجیت پوار گروپ میں شامل ہوتے ہیں تو ان کا انڈیا الائنس کی ریلی میں شامل ہونا مخالف پارٹیوں کے سامنے بہتر نہیں ہوگا۔

ممبئی کے شالیمار ہوٹل میں بطور مینیجر رئیس شیخ نے اپنی کیریئر کی شروعات بلدیاتی انتخابات سے کی۔ اس سے قبل وہ بلدیہ میں ہی ممبئی کے بلڈروں کے بطور لایزنر کا کام کرتے تھے۔ اُنہوں نے کارپوریٹر رہتے ہوئے اس پیشے سے وابستہ رہے۔ اُس کے بعد اُنہوں نے 2012 میں گوونڈی اور 2017 میں ناگپاڑہ سے بلدیاتی انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب رہے۔ اُس کے بعد اُنہوں نے 2019 میں بھیونڈی سے بطور رکن اسمبلی پرچہ نامزدگی داخل کیا اور یہاں سے بھی کامیاب رہے لیکن سماجوادی پارٹی کی اندرونی لڑائی کے سبب رئیس شیخ نے استعفیٰ دے دیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.