صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’مودی نے عوام کی خدمت کرنے کا موقع گنوادیا ہے‘

بی جے پی کی دوسری اننگ میں گڈکری کو وزیر اعظم بنایا گیا تو مودی اور شاہ کا قومی سیاست میں نام و نشان بھی نہیں ہوگا

680

ممبئی : (ریحان یونس) شیوسینا ترجمان اور راجیہ سبھا کے رکن سنجئے راوت نے کہا کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات 2019 کا بگل بج چکا ہے اور انتخابی کارروائیاں جلد ہی شروع ہو جائیں گی ۔ ان انتخابات میں برسراقتدار بی جے پی اکثریت حاصل نہیں کر پائے گی ۔ موجودہ یونین منسٹر نتن گڈکری کو وزیر اعظم کے عہدہ کی امیداواری کے لئے حمایت حاصل ہو گی ۔ شیو سینا کے ترجمان سامنا کے اپنے ہفتہ وار خاص مضمون روک ٹوک میں راوت نے دعوی کیا کہ اگر آئندہ عام انتخابات میں بی جے پی نے 80 سے 100 سیٹیں گنوائی تو راشٹر سوئم سیوک سنگھ (آرایس ایس) مودی کے متبادل کے طور پر پارٹی کے دیگر لیڈران کی بجائےنتن گڈکری کی حمایت میں کھڑی ہو گی ۔ سنجئے راوت نے کہا کہ میں 2019 کے عام انتخابات کے بعد کا منظر دیکھ سکتا ہوں ۔ اگر کانگریس نے تنہا 125 نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی تو یہ بی جے پی کی لئے ایک انتباہ ہوگا ۔ حالیہ دنوں میں نتن گڈکری کے بدلتے ہوئے رویہ کو ہم دیکھ سکتے ہیں اور یہ آئندہ انتخابات میں بی جے پی کی اکثریت کھو دینے کی پہلی جھلک ہے ۔

ان حالات میں راج ناتھ سنگھ ، یوگی آدتیہ ناتھ اور شیوراج سنگھ چوہان گڈکری کی حمایت میں کھڑے ہوں گے ۔ راوت نے مزید لکھا کہ حالانکہ راج ناتھ سنگھ خود بھی وزیر اعظم کے عہدہ کے خواہاں ہوں گے ۔ راوت کے مطابق جب 2014 میں مودی قومی سیاسی رہنماوں میں شامل ہوئے تھے تب انہوں نے اپنا جادو چلایا تھا ۔ دو ہزار چودہ مودی مرکزیت والا سیاسی دور تھا اور ملک کے عوام راہل اور سونیا مرکزیت والی سیاست کو سیاسی افق سے مٹانے اور تبدیلی لانے کا من بنا چکی تھیں ۔ لیکن اب صورتحال یکسر تبدیل ہو چکی ہے کوئی بھی وثوق سے یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب بھی مودی کا جادو باقی ہے ۔ 2014 کے انتخابات میں راہل گاندھی کا کہیں بھی وجود نہیں تھا لیکن اب راہل مودی کے بعد کانگریس کے ایک طاقتور لیڈر بن کر کھڑے ہیں اور ان کی قیادت میں مدھیہ پردیش ، راجستھان اور چھتیس گڑھ کی فتوحات اس بات کا ثبوت ہیں ۔

راوت نے گڈکری ، امِت شاہ اور مودی کی بطور ریاستی لیڈر تعریف کی جبکہ گڈکری پارٹی کے قومی صدر بھی رہے ہیں ۔ راوت نے اپنے کالم میں کہا کہ اگر دوسری بار میں گڈکری کو یہ موقع حاصل ہوجاتا ہے تو شاہ اور مودی قومی سیاست میں شامل ہی نہیں رہیں گے ۔ یہاں تک کہ تین ریاستوں میں بی جے پی کی شکست سے عوام الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق شک و شبہ کا شکار ہیں ۔ راوت نے ای وی ایم مشینوں کےتعلق سے سوال اٹھایا کہ مذکورہ مشین پرامریکہ اور دیگر ممالک میں پابندی ہے تو ہمارے الیکشن کمشنر اس مشین کےاستعمال کی اجازت کیسے دے رہے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جب عوام نے سی بی آئی اور ای ڈی سے کہا کہ ای وی ایم مشینیں بی جے پی کا ہتھیار ہیں اور بی جے پی اس کا استعمال کر کے کسی بھی انتخاب کو جیت سکتی ہے ۔ یہ خیال کافی پریشان کن ہے ۔ مودی نے عوام کی خدمت کرنے کا موقع گنوا دیا ہے اس لئے عوام کسی متبادل کی تلاش میں ہیں ۔ راوت نے کہا کہ ان حالات کے سبب آئندہ 2019 کے انتخابات کے بعد پارلیمنٹ معلق رہنے کی امید ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.