صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

شریعت بدعت اور جمہوریت

1,929

 

عمر فراہی

دو یا تین سال قبل کی  بات ہے  جب سعودی عرب کی دو نقاب پوش خواتین  فرانس کے ایئرپورٹ پر اتریں تو انہیں جانچ اور انکوائری کے نام پر نقاب اتارنے کیلئے کہا گیا ۔ عورتوں نے سختی سے انکار کیا اور کہا کہ مسافر جس ملک کے ایئرپورٹ سے چلتا ہے وہاں کا سرکاری عملہ حفظ ماتقدم کے طور پر بغیر جانچ  کے کسی مسافر کو جہاز میں داخل نہیں ہونے دیتا پھر یہ دوبارہ جانچ  کا کیا مطلب ۔ افسران نے کہا یہ ہمارے ملک کا اصول ہے اگر آپ ہمارے ساتھ تعاون نہیں کرسکتیں تو آپ کو ہمارے ملک میں داخل ہونے کی اجازت نہیں مل سکتی ۔ خواتین اگر چاہتیں  تو حجاب اتار کر خود  کو جانچ کیلئے پیش  کر دیتیں اور کوئی مسئلہ نہ  کھڑا ہوتا لیکن انہوں نے اپنی غیرت کا سودا کرنے کی بجائے لاکھوں کا نقصان کرکے ایئرپورٹ سے ہی اپنے ملک واپس جانا بہتر سمجھا ۔ تقریباً ایک ہفتہ پہلے  ایک خبر نظر سے گزری  کہ فرانس میں ایک الجزائری مسلم خاتون کو وہاں کی شہریت سے اس  لیئے محروم ہونا پڑا کہ اس نے شہریت کی سند دینے والے مرد آفیسر سے یہ کہہ کر ہاتھ ملانے سے انکار کردیا کہ اس کے  مذہب میں غیر محرم سے ہاتھ  ملانا جائز نہیں  ہے ۔ فرانسیسی آفیسر کا کہنا تھا کہ جو لوگ ہماری تہذیب سے ہم آہنگ نہیں ہو سکتے وہ ہمارے ملک کی شہریت کے حقدار کیسے ہو سکتے ہیں ۔
ہم نے اس واقعے کا ذکر اس لیے کیا ہے کہ حال  ہی میں پرسنل لا بورڈ کی رہنمائی میں جو تحفظ شریعت کے عنوان سے خواتین نے احتجاج اور مظاہرہ کیا نقاب پوش عورتوں کے سیلاب کو دیکھ کر جہاں فاشسٹ لبرلسٹ اور اسلام سے بغض رکھنے والی طاقتوں کو مایوسی ہوئی کچھ علمبرداران اسلام نے بھی یہ کہہ کر تنقیدیں کیں کہ خواتین کو  پرسنل لا بورڈ کے  کچھ ِ ذمہ داران نے اپنے سیاسی مقاصد کیلئے ورغلا کر سڑکوں پر اتارا جبکہ اس کا کوئی فائدہ بھی نہیں ہونے والا ۔ یہ بات سچ بھی ہے کہ ملک کا  جو موجودہ ماحول ہے اور جس طرح مسلم قیادت کو حاشیے پر کھڑا کردیا گیا ہے ممکن ہے کہ تحفظ شریعت کے عنوان سے خواتین کے  احتجاج کے باوجود ہندوستان کی موجودہ سرکار بھی اپنی ضد پوری کرلے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ شکست پسپائی نقصان اور مطالبات کو رد  کیئے جانے کے خوف سے مزاحمت احتجاج اور دفاعی طریقہ کار  بھی ترک کردیا جانا  چاہیے ۔ یہ کہنا کہ خواتین کو ورغلایا گیا خود مسلم خواتین کی غیرت پر حملہ ہے ۔ مسلم سماج  میں ایسی  بیدار خواتین کی  تعداد ابھی بھی موجود ہے جو اپنے اسلاف کی  میراث کے تحفظ کیلئے فعال اور سنجیدہ  ہیں ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ موجودہ کارپوریٹ کلچر میں پردے کے تعلق سے مزاحمت کرتی ہوئی کچھ مسلم دوشیزائیں اکثر اپنی جرات سے دنیا کو یہ پیغام دے جاتی ہیں کہ  حجاب اور گھر کی چہار دیواری بھی ان کیلئے ایک بیرک ہے جہاں وہ اپنی ذمہ داری نبھانے  کی جرات کر رہی ہیں تو اس  کا یہ مطلب نہیں کہ وہ بیرکوں سے باہر کی فوج کا حصہ نہیں ہیں ۔ ایک نو مسلم  خاتون مریم جمیلہ نے اپنی کتاب اسلام ایک نظریہ ایک تحریک میں  نو مسلم اسکالر محمد اسد کے حوالے سے لیبیا کی آزادی کے  تناظر میں  ایک  واقعہ بیان کیا ہے کہ ” طلوع  فجر سے پہلے ہم  عمر مختار کے  اپنے  گوریلا دستے کے پڑاؤ پر پہنچے جو اس وقت  دو سو سے کچھ اوپر مجاہدین  پر مشتمل تھا ۔ تقریباً سب کے سب  چتھیڑوں میں ملبوس نظر آرہے تھے مجھے نہ تو اس وقت نہ بعد ازاں کوئی ایک شخص بھی صحیح سالم عبا یا چغہ پہنے دکھائی دیا بہت سے لوگوں نے اپنے سروں اور ہاتھوں پر پٹیاں باندھی ہوئی تھی ۔ ان کی یہ حالت گویا دشمن کے ساتھ تازہ لڑائیوں کی داستان بیان کر رھی  تھی ۔ خلاف  توقع  مجھے کیمپ میں دو عورتیں نظر آئیں ۔ ایک خاتون بوڑھی  تھی اور ایک  جوان ۔ وہ ایک الاؤ کے پاس بیٹھ کر پھٹی پرانی زین کو سوئی سے مرمت کرنے میں منہمک تھیں ۔ ہم جہاں کہیں بھی جاتے ہیں یہ ہماری دو بہنیں  ہمارے ساتھ ہوتی ہیں ۔ سیدی عمر نے میرے خاموش تعجب کے جواب میں کہا ۔
ہم نے اپنی عورتوں اور بچوں کو مصر بھیج دیا مگر انہوں نے ان کے ساتھ جانے سے انکار کردیا ۔ یہ دونوں ماں بیٹی ہیں ان کے گھر کے سارے مرد  شہید  ہوچکے ہیں” ۔
عمر مختار کی جدوجہد کا یہ آخری قافلہ تھا جسے کچھہ دنوں بعد اطالوی فوج نے محاصرے میں لیکر شہید کردیا اور عمر مختار کو پھانسی دے دی گئی ۔ بعد میں ان دونوں ماں بیٹی کا کیا حشر ہوا ہوگا پتہ نہیں لیکن کیا وقت کا مورخ انہیں اس لئے تنقید کا نشانہ بنانے کی جرات کرسکتا ہے  کہ انہوں  نے گھر کی چہاردیواری کی بجائے مجاہدین کی خدمت کیلئے میدانِ جنگ کے راستے کا انتخاب کیوں کیا ؟۔
بدقسمتی سے موجودہ کارپوریٹ سرمایہ دارانہ  نظام سیاست کی  بنیاد پر قائم   لبرلائزیشن اور گلوبلائزیش کے عروج کے بعد انسانی معاشرے میں جو اتھل پتھل کی کیفیت پیدا ہوئی ہے اس نے حق اور ناحق کیلئے تحریک مزاحمت کے مفہوم  کو بھی مشتبہ بنا دیا ہے ۔ یہ جمہوریت کا فرمان  اور اس کی شان ہے کہ اس طرز سیاست میں اقتدار کی تبدیلی ووٹ سے اور ظلم کا مقابلہ احتجاج سے ہونا  ہے ۔
اس طرز سیاست میں آزادی نسواں کے خوشنما اور پرفریب دعوے نے جہاں عام معاشرے کی خواتین کو ملکہ سبا ہونے کے سحر میں مبتلا کردیا ہے مسلم عورتیں اگر پرامن جمہو ری طریقے سے اسلامی شعار کے تحفظ کیلئے سڑک پر اترنے کیلئے مجبور ہوئیں تو اس کے علاوہ کوئی راستہ بھی تو نہیں ہے ۔ اگر یہ غلط ہے اور اسے بدعت قرار دیا جاسکتاہے تو پھر مغربی طرز سیاست  پر مبنی سرمایہ دارانہ سیاست اور جمہوریت کیا ہے ؟ اور اس کے حلال ہونے کا فتویٰ کہاں سے آیا ؟

عمر فراہی

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.