صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

خالد گڈو کی کو شش سے ٹورینٹ پاور کمپنی کی چوری پکڑی گئی

ٹرانسفارمر کی چھ ہفتے کی جانچ سے معاملہ اجاگر ہوا،مہاوترن کمپنی کی جانب سے وزیر توانائی کو کارروائی کے لیے رپورٹ روانہ

496

بھیونڈی:(عارِف اگاسکر)  کئی بر سوں سے بھیونڈی کے شہری بھیونڈی ٹورینٹ پاور کمپنی کے تیز رفتار میٹر کی وجہ سےپریشانی میںمبتلاء ہیں۔بھیونڈی کے شہریوں کی اس پریشانی کے تدارک کے لیے بھیونڈی راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر خالد گڈو نے اسے عوامی مسئلہ بتاتے ہوئے مذکورہ کمپنی کو شہر بدر ر نے کے لیےایک تحریک شروع کی تھی جسے عوام کی بھر پور حمایت حاصل رہی۔خالد گڈو نے اپنی اس تحریک کو مسلسل جا ری رکھتے ہوئے وقتا فوقتاًیہ اشارہ بھی دے دیا تھا کہ وہ اس تحریک کے ساتھ ساتھ ٹورینٹ پاور کمپنی کے ظلم و جبر کے خلاف قانونی کاروائی کو بھی جاری رکھیں گے۔اسی سلسلے میںگذشتہ دنوں مختلف علاقوں میں نصب کیے گئے ٹرانسفارمروں کی جانچ کر نےکے بعد یہ انکشاف ہوا کہ ٹورینٹ کمپنی کے ذریعے بجلی صارفین کے گھروں، دوکانات اور پاور لوم کارخانوں میں نصب کیے گئےبجلی کے میٹر انتہائی تیز رفتاری سے میٹر کی ریڈنگ کر تے ہیں۔ جس کے سبب بھولی بھالی عوام کو لوٹا کھسوٹا جاتا ہےاور عوام کی جیب پر ڈاکہ ڈال کر ٹورینٹ پائورکمپنی اپنا جیب بھر کر مالا مال ہوتی رہی ہے۔

واضح ہو کہ کہ برسوں سے ٹورینٹ پاور کمپنی کے خلاف بھیونڈی راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر خالد گڈو نے چوبیس نکات پر مبنی میمورینڈم دیا تھا جس میں ایک اہم نکتہ ٹورینٹ پاور کمپنی کے میٹر کی تیزرفتار ریڈنگ بھی تھا۔ خالد گڈو کے مطالبہ پر مہاوترن کمپنی کے چیف انجنیئر کی ماتحتی میں ایک کمیٹی بنا ئی گئی تھی۔ اور تیز رفتارمیٹر اور دیگر معالات کی جانچ کے لیے مہاوترن کمپنی کی چیف انجنیئر پشپا چوہان کی نگرانی میں ٹورینٹ  پاور کمپنی کے افسران کے ساتھ خالد گڈو اور ان کی ٹیم کے ذمہ داران کے ساتھ لگاتار چھ ہفتوں تک شہر کے مختلف ٹرانسفرز کی جانچ کی گئی اور ایک جامع رپورٹ تیار کی گئی۔اس سلسلے میں پچاس تا ساٹھ ٹرانسفارمر کی جانچ کی گئی تو پتہ چلا کہ ٹورینٹ پاور کمپنی کے چالاک ملازمین نے بہت ہی خوبی سے شہر کو لوٹا ہے۔

جانچ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ابتدا میںٹرانسفارمر کا وولٹیج ابتدا میں ۲۳۰ ؍ اور نیوٹرل ارتھنگ زیرو ہونا چاہیے ۔جبکہ نیوٹرل کے۴۰؍ سے۷۰؍ وولٹیج میں کوئی وولٹیج اور لوڈ نہیں ہونا چاہیے۔ لیکن اوور لوڈ وولٹیج کی  وجہ سے وولٹیج ۲۳۰ سے زیادہ سپلائی ہو تا ہے اور نیوٹرل پر کرنٹ بھی زیادہ ملتا ہے ا س لیے میٹر جمپ کرتا ہے اور تیز رفتاری سے ریڈنگ کر تا ہے۔ جس کی وجہ سے بجلی صارفین کو ریڈنگ بل سے زیادہ آتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹورینٹ پاور کمپنی عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہوئے استعمال شدہ میٹر ریڈنگ سے زیادہ پیسے بل کی شکل میں وصول کر رہی ہے۔ جبکہ ٹرانسفرپر آٹومیٹک کیپی سٹی میٹر ہونا چاہیے جو پاورکو ریگولیٹ بھی کرے اور کنٹرول بھی کرے۔ اس میں لوڈ کا پیمانہ برابر نہ ہونے کی وجہ سے نیوٹرل میں کرنٹ آتا ہےوہ سبھی میٹر کو بڑی تیزی سے دوڑاتا ہے یا جمپ کراتا ہے۔ جبکہ ٹورینٹ پاورکمپنی کی ذمہ داری ہے کہ نیوٹرل میں کرنٹ نہ آئے۔ مگر جان بوجھ کر یہ لوگ ٹرانسفرمر کا لوڈ برابر نہیں رکھتے جس کی وجہ سے بجلی صارفین کا میٹر تیزرفتاری سے ریڈنگ کر تا ہے۔ اگر یہ تمام ٹرانسفرمر وولٹیج اور لوڈ کے حساب کو برابررکھتے ہوئے درست رکھیں جائیںتو بجلی صارفین کو بل میں کافی راحت حاصل ہو گی۔

واضح ہو کہ جن علاقوں میں درستگی کی گئی ہے وہاں کےبجلی صارفین کو اس ماہ کے بجلی بل میں کافی راحت ملی ہے۔ بھیونڈی راشٹروادی کانگریس پارٹی کے صدر خالد گڈو نے یہ الزام عائدکیا ہے کہ مہاراشٹر سرکار ٹورینٹ پاور کمپنی کے دباؤ میں آکر کام کر رہی ہے اور عوام کے حقوق کو نقصان پہنچا رہی ہے ۔اس لیے کہ ٹورینٹ پاور کمپنی کے خلاف سرکار کا رویہ نرم ہے۔جب سے مرکز میں بی جے پی کی سرکار کا بول بالا ہوا ہے عوام پوری طرح سے پریشانی میں مبتلا ہورہی ہے۔ریاست میں جہاں جہاں اقلیتیں اکثیریت میں ہیں وہاں پر اس سرکار نے ٹورینٹ پاورکمپنی کو ٹھیکہ دینے کا کام شروع کیا ہے ۔ با الخصوص جہاںپر مسلم کمیونٹی آباد ہے وہاں پر اس طرح کا معاملہ دکھائی دے رہا ہے جبکہ بڑے بڑے علاقوں میں جہاں اقلیتوں کی آبادی کم ہے وہاں یہ نجی کمپنی ندارد ہےجبکہ بجلی کی بڑی بڑی چوریاں ان علاقوں میں بھی ہو رہی ہیں۔

این سی پی صدر خالد گڈو نے واضح اشارہ دیا ہے کہ اگر منترالیہ سے ٹورینٹ پاورکمپنی کے حق میں نرم رویہ اختیار کیا گیا تو اس صورت میں راشٹروادی کانگریس پارٹی حکومت اور ٹورینٹ پاور کمپنی کے خلاف ہائی کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹائے گی۔انہوں نے مزید کہا کہ جہاں بھیونڈی کے شہری ٹورینٹ پاور کمپنی سے پریشان ہیں وہیں یہ کمپنی ممبرا جیسے گنجان مسلم ابادی والے علاقے میں بھی اپنے قدم جمانے کا سوچ رہی ہے جبکہ وہاں پرعوامی احتجاج کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ عوام کو چاہیے کہ بھیونڈی کی طرح اپنی تحریک میں تیزی لاکر ٹورینٹ پاور کمپنی کی مخالفت کریں تاکہ مہاراشٹر میں کسی بھی علاقے میں یہ کمپنی اپنے قدم نہ جما سکے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.