صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کانگریس کی حکومت مہاراشٹر کو غریبی سے آزاد کردے گی : اشوک چوہان

گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہمارا ملک نائجیریا کے ساتھ ۱۰۳؍ نمبر پر ہے ، بی جے پی حکومت کے دور میں غذائی قلت اور بھوک کے مسائل سنگین ہوئے ہیں

526

ممبئی: غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے والوںکو ماہانہ وظائف دینے کے کانگریس کے صدر راہل گاندھی کے بیان کی ریاستی کانگریس کے لیڈران نے استقبال کیا ہے اور اسے ایک انقلابی قدم قرار دیا ہے۔ واضح رہے کہ راہل گاندھی نے گزشتہ روز چھتیس گڑھ میں یہ اعلان کیا ہے کہ اگر ۲۰۱۹ میں مرکز میں کانگریس کی حکومت قائم ہوتی ہے تو ملک میں غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارانے والوں کو ماہانہ مینیمم آمدنی دینے کے لئے یونیورسل بیسیک انکیم (یوبی آئی) اسکیم لاگو کی جائے گی۔
تلک بھون دادر میں مہاراشٹر پردیش کانگریس کے صدر ممبرپارلیمنٹ اشوک چوہان، اسمبلی میں حزبِ مخالف لیڈر رادھا کرشن ویکھے پاٹل اور ممبئی کانگریس کے صدر سنجئے نروپم نے ایک مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کیا، جس میں اشوک چوہان نے کہا کہ اس اسکیم کے لاگوہونے کے بعد ملک میں ایک کسی بھی غریب کو اپنے بنیادی ضروریات کے لئے کسی دوسرے پر منحصر رہنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے منریگا جیسی اسکیم لاکر ہرہاتھ کو کام دیا۔ رائیٹ ٹو ایجوکیشن کا قانون بناکر ہر کسی کو تعلیم حاصل کرنے کا حق دیا، فوڈ سیکوریٹی ایکٹ بناکر ملک میں کوئی بھی بھوکا نہ سوئے، اس کی فکر کی گئی اور اب ہر غریب کو مینیمم آمدنی دینے کی سمت کانگریس نے قدم اٹھانا شروع کردیا ہے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ کانگریس کا اعلان جملہ نہیں بلکہ وچن ہوتا ہے اور کانگریس کی روایت رہی ہے کہ وہ کسی بھی صورت میں اپنے وچن سے پیچھے نہیں ہٹتی۔ انہوں نے کہا کہ یو پی اے کے دور میں ملک کے ۱۴؍ کروڑ لوگوں کو غریبی کی سطح سے اوپر لایا گیا۔
ریاست کا معاشی سروے رپورٹ نیز مردم شماری کے مطابق ریاست میں ۱۷؍اعشاریہ۴ فیصد یعنی کہ تقریباً ۲ کروڑ لوگ غریبی کی سطح کے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ یہ ۲ کروڑ لوگ کانگریس کے اس مجوزہ اسکیم سے براہ راست مستفیض ہونگے۔ کانگریس کے انتخابی منشور میں اس تعلق سے مزید وضاحت کی جائے گی، جس کے بعد اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے والوں کی تعداد مزید بڑھ سکتی ہے۔ اشوک چوہان نے کہا کہ ملک میں کانگریس کی حکومت آنے کے بعد اس اسکیم پر عمل درآمد شروع ہوجائے گا اور مہاراشٹر کو غریبی سے آزاد ہوجائے گا۔ اس موقع پر اشوک چوہان نے یہ بھی یاد دلایا کہ چھتیس گڑھ، مدھیہ پردیش اور راجستھان میں کسانوں کے قرضہ جات کو معاف کرنے کے راہل گاندھی کے وعدے کو حکومت بننے کے ۴۸ گھنٹے کے اندر پورا کردیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں بھوک سے ہورہی اموات کا معاملہ گزشتہ کچھ دنوں میں سامنے آٰیا ہے، گلوبل ہنگر انڈیکس میں ہمارا ملک نائجیریا کے ساتھ ۱۰۳؍ نمبر پر ہے۔ بی جے پی حکومت کے دور میں غذائی قلت اور بھوک کے مسائل سنگین ہوئے ہیں۔ مہاراشٹر میں غذائی قلت سے ہزاروں اموات ہورہی ہیں۔ اس صورت حال میں مینمم آمدنی کی یہ اسکیم غریبوں کے لئے ایک وردان قرار پائے گا۔
حزبِ اختلاف لیڈر رادھاکرشن ویکھے پاٹل نے بھی اس اسکیم کا استقبال کیا اور کہا کہ راہل گاندھی کے اس اعلان کی سے کانگریس کا یہ عہد ثابت ہوتا ہے کہ وہ غریبوں کے ساتھ ہے۔ یہ چیز بی جے پی وشیوسینا کی حکومت میں نظر نہیں آتی ہے۔ غریبوں کے لئے ، عام لوگوں کے لئے اور کسانوں کے لئے کچھ کرنا تو دور، مودی وفڈنویس کی حکومت ان کا استحصال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ۲۰۰۴؍اور ۲۰۱۴ کے درمیان کانگریس نے منریگا، رائیٹ ٹوایجوکیشن اور فوڈ سیکوریٹی جیسے تین قانون بنائے اور ان پرعمل بھی کرکے دکھایا۔ ۲۰۱۴ میں بی جے پی نے بھی سبھی کے کھاتوں میں ۱۵؍لاکھ روپئے، ہرسال ۲ کروڑ ملازمت اور کسانوں کو ان کی پیداوار کی ڈیڑھ گنا قیمت دینے کا وعدہ کیا تھا۔ کانگریس کے تین وعدوں پر عمل درآمد اور بی جے پی کے تین وعدوں کی جملہ بازی سے کانگریس وبی جے پی کے درمیان کا فرق واضح ہوجاتا ہے۔
ممبئی کانگریس کے صدر سنجئے نروپم نے اس اسکیم کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے غریبوں کو بہت بڑا سہارا مل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس نے اس سے قبل منریگا جیسی اہم اسکیم شروع کی تھی، لیکن اس کا دائرہ کار صرف دیہی علاقوں میں تھا۔ مینمم آمدنی کی اسکیم شہری ودیہی دونوں علاقوں میں لاگو کی جائے گی۔ سنجئے نروپم نے کہا کہ آج ممبئی شہر میں ہر ۵ میں سے ایک شخص غریبی کی سطح سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہے۔ کانگریس کی یہ اسکیم انہیں انصاف دینے کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس اسکیم پر کافی عرصہ سے کام چل رہا تھا، ہمیں یقین ہے کہ یہ اسکیم نہایت کامیاب ہوگی۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.