صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

یہ دنیا کمانے والے جعلی پیر طریقت ’بابا بنگالی ‘

1,578

 

شاہد انصاری 

 

اردو اخباروں کے مشن سے بھٹکنے پیسہ کمانے کی اندھی دوڑ اور ان کی چاپلوسی کے سبب آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ قوم میں کئی جاہل اور سیاست کے س سے ناواقف افراد لیڈر بنے پھر رہے ہیں ۔ایسی ہی ایک شخصیت توڑوئے ناگپاڑہ بابا بنگالی بھی ہے ۔بابا بنگالی تو جیسے اردو اخباروں کیلئے اے ٹی ایم مشین کی حیثیت رکھتا ہے ۔جب چاہو جتنا چاہو پیسہ نکال لو ۔تعجب نہ کریں ان کے رویوں سے ایسا ہی محسوس ہوتا ہے ۔ بابا بنگالی جو اپنی زبان سے تو نہیں لیکن اپنے چمچوں کی زبان سے خود کو کچھوچھہ شریف کا گدی نشین قرار دیتا ہے ۔اس کی حالت یہ ہے اندھے بہرے اور گونگے جیسے ہیں کہ نہ تو دیکھتے ہیں نا ہی کچھ سنتے ہیں اور کچھ سوچنے سمجھنے کی صلاحیت سے بھی معذور ہیں ۔اگر انہیں سوچنے سمجھنے کی صلاحیت ہوتی تو یہ دیکھتے کہ ان کے یہ پیر طریقت دنیا کمانے اور ہوس زر میں کس قدر ہاتھ پاؤں ماررہے ہیں کہ کسی بھی طرح سیاست کی مایا نگری میں اپنی جگہ بنا لیں ۔بزرگوں کے جو حالات پڑھے ہیں اور آج بھی اللہ والوں کو دیکھتا ہوں تو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ واقعی اللہ والے ہیں ۔انہیں دنیا والوں کے آگے پیچھے پھرتے ہوئے نہیں دیکھا بلکہ دنیا ان کے پیچھے پھرتی ہے ۔سیاست داں ان کے پاس آتے ہیں دعاؤں کی چاہ میں ۔لیکن یہ بابا بنگالی ہیں جنہیں یہ شوق چڑھا ہے کہ اپنے چمچوں کے ساتھ گلدستہ لے کر مبارکباد دینے کیلئے پہنچ گئے جہاں ایک عدد فوٹو سیشن ہوا اور اس فوٹو کی مدد سے عوام اور نچلی سطح کے پولس اہلکار اور افسران پر رعب ڈالا جاسکے۔زیر نظر تصویر میں بابا بنگالی یشونت جادھو کے اسٹینڈنگ کمیٹی کے چیئر مین منتخب ہونے پر ان کے دفتر میں گلدستہ لے کر پہنچ گئے جبکہ یہی معین میاں نجی محفلوں اور مسلمانوں نیز اپنے سادہ لوح مریدوں کے درمیان شیو سینا کو برا بھلا کہتے نظر آتے ہیں ۔یہ کیسے پیر طریقت ہیں کہ سیاست دانوں کے تلوے چاٹتے پھررہے ہیں ؟
ایک سینئر صحافی نے ان کی اس طرح کی حرکتوں پر کہا تھا کہ یہ راجیہ سبھا پہنچنا چاہتے ہیں ۔شاید ان کی لابنگ کا کرشمہ ہونے ہی والا تھا کہ آزاد میدان فساد میں بابا بنگالی کا نام اہم ملزموں کی فہرست میں شامل ہوگیا اور سیاست کے تانے بانوں سے گرفتاری اور جرمانوں سے اب تک محفوظ ہیں لیکن راجیہ سبھا پہنچنے کا خواب چکنا چور ہو گیا۔پتہ نہیں شیو سینا والوں کو بھی ان میں کیا نظر آیا ہے کہ انہوں نے بھی آزاد میدان کے اہم ملزم معین الدین اشرف عرف بابا بنگالی سے گلدستہ قبول کرلیا ۔جبکہ شیو سینا کے ترجمان دو پہر کے سامنا نے ایک خبر لگائی تھی جس کی سرخی تھی ’سالا دنگائی بہنوئی بلاتکاری ‘۔شاید سیاست دانوں کو یہ یقین ہے کہ یہ بابا بنگالی انہیں ووٹ دلوا دیں گے ۔ انہیں معلوم نہیں کہ اگر بابا بنگالی کی مسلمانوں میں اتنی ہی پکڑ ہے تو یہ اپنی سرزمین ممبرا میں اپنے ہی بھائی کو کارپوریٹر منتخب نہیں کراسکے ۔ اس سے قبل بابا بنگالی بی جے پی کے پیچھے کاسہ گدائی لے کر گھوم رہے تھے اشیش شیلار وغیر سمیت کئی لیڈروں کے آگے پیچھے گھومتے رہے لیکن وہاں سے نامراد ہونے کے بعد انہوں نے شیو سینا کا رخ کیا ۔اب دیکھتے ہیں کہ شیو سینا انہوں بھیک میں کوئی عہدہ دیتی ہے یا آزاد میدان فساد کے اہم ملزم کی فہرست سے بابا بنگالی کا نام کٹو اکر انہیں انعام سے نوازتی ہے ۔یا پھر مہاراشٹر اسمبلی میں اپنے کوٹا سے رکنیت دلواتی ہے ۔ورلڈ اردو نیوز پر بابا بنگالی کی مسلم پرسنل لا بورڈ کے خواتین اجلاس میں عدم موجودگی کی خبر شائع کی ہے ۔اس کے بعد ذرائع سے معلوم خبروں کے مطابق بابا بنگالی بوکھلاہٹ کا شکار ہے اور اپنے چمچوں سے کہہ رہے تھے کہ معلوم کرو ویب سائٹ چلانے کا خرچ کون دیتا ہے ۔لیکن کیا مودی جی کے کرپشن فری انڈیا کے مشن میں یہ بابا بنگالی اپنی کمائی کا ذریعہ بتائیں گے ۔ان کی پر تعیش زندگی کا خرچ کون اٹھا رہا ہے ؟ یہ کیا کام کرتے ہیں ؟
بابا بنگالی میں سیاسی شعور اور بات کرنے کی صلاحیت ہوتی تو شاید راجیہ سبھا میں جانا مسلمانوں کیلئے کچھ فائدے کا سودا ہوتا لیکن یہ بابا تو صرف دعاؤں کیلئے ہی ہیں کسی بھی محفل میں ان کو صرف دعاؤں کیلئے ہی بلایا جاتا ہے اور ان کے چمچے ان کی چاپلوسی میں ان کی شان میں وہ سب کچھ کہہ دیتے ہیں جن کے بارے میں نہ تو یہ جانتے ہوں گے اور نا ہی اس کے معنی سے بھی واقف ہوں گے ۔ایسا لگتا ہے کہ یہ مستجاب الدعا ء ہیں اور اللہ ان کی دعاؤں کو رد نہیں کرتا ۔ویسے ان کے حاشیہ برداروں ، سادہ لوح مریدوں اور چمچوں کو یہ سمجھنا چاہئے کہ اگر ان میں اتنی ہی صلاحیت ہے تو آزاد میدان فساد کے الزام سے خود کو قانونی طور پر بری کروالیں اور کم از کم ممبرا سے اپنے بھائی کو ہی کارپوریٹر منتخب کروا کے دکھا دیں۔آخر میں پھر یہ بات کہ اردو اخبارات جو قوم کی نمائندگی کا دم بھرتے ہیں وہ اپنی چاپلوسانہ ذہنیت اور پیسہ کمانے کی ہوس میں جعلی لیڈر شپ مہیا کروا کر قوم کو کیوں قربانی کا بکرا بنا رہے ہیں ؟اردو کے ان اخبارات سے ایک سوال اور کہ اگر ان کا مقصد صرف پیسہ کمانا ہی ہے تو پھر بازار حسن میں بیٹھی جسم فروش و عصمت فروش عورت اور ان میں کیا فرق ہے ؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.