صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

دی مسلم وومن ’پرو ٹٰیکشن آف را ئٹس آن میرج ‘بل 2017 کے خلاف مسلم خواتین کا تا ریخی خاموش احتجاج ، دہلی کے تا ریخی را م لیلا میدان میں برقہ پو ش مسلم پردہ نشین خواتین کاامڑا سیلاب، ہزاروں کی تعداد میں ہر عمر کی مسلم خواتین کی شرکت 

644

 

 

 

 

ورلڈ اردو نیوز ڈیسک 
نئی دہلی :  مرکزی بی جے پی حکومت کی جانب سے مسلم خواتین کی شادی کے تحفظ کے نام پر لائے گئے ’پرو ٹٰیکشن آف را ئٹس آن میرج ‘بل 2017 کے خلاف سڑکوں پر اتری مسلم پردہ نشین خواتین کا خاموش احتجاج آج اختتام پر پہنچ گیا ہے۔آج دہلی کے تا ریخی را م لیلا میدان میں دہلی اور قرب و جوار کی ہزاروں کی تعداد میں مسلم خواتین نے جمع ہو کر تا ریخی اور آخری خاموش احتجاج کیا ۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء کی خواتین ونگ کی جانب سے ملک کے مختلف شہروں میں خاموش احتجا ج اور ریلیاں کئے جانے کے بعدرا جدھانی دہلی میں آج مستورات کا یہ آخری خاموش احتجا ج تھا ۔ مستورات کے اس اجتماع میں دی مسلم وومن ’پرو ٹٰیکشن آف را ئٹس آن میرج ‘بل 2017 کے خلاف قرار داد پا س کیا گیا اورصدر جمہوریہ اور وزیر اعظم کو عرض داشت بھی بھیجا گیا ۔خواتین کے خاموش احتجاج میں شریک ہوئے جماعت اسلامی ہند کے امیر جماعت مو لا نا جلال الدین عمری نے کہاکہ حکومت کی جانب سے لایا گیا بل خواتین کے حق میں نہیں ہے ۔ یہ بل ایسا ہے جس میں کہیں بھی عورت کی بھلائی نہیں ہے ۔اس کو زبردستی نافذکر نے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔ ایک غلط پیغام دینے کی کو شش کی جا رہی تھی جس کے خلاف لا کھوں کی تعداد میں مسلم پردہ نشین خواتین نے با ہر نکل کریہ ثابت کر دیا ہے کہ مسلم خواتین اس بل کے خلاف ہیں انہیں یہ بل منظور نہیں ہے ۔امیر جماعت نے کہاکہ اگرحکومت یہ مان رہی ہے کہ ایک نشست میں طلاق واقع نہیںہو ئی تو شو ہر کو کس بنیاد پر سزا دی جا رہی ہے اور سزا بھی وہ جو مجرموں کو دی جا تی ہے ۔ جس شو ہر کو جیل ہو گی اس کے تعلقات اپنی بیوی سے کیسے بہتر رہ سکتے ہیں ۔یہ بل گھر بگاڑنے والا بل ہے ۔اس سے قبل خطبہ استقبالیہ میں ڈاکٹر ممدوحہ ماجد نے کہا کہ حکومت ہمارے شرعی قانون کو ختم کر نا چا ہتی ہے لیکن وہ بھول رہی ہے کہ یہ قانون انسا ن کے بنائے ہو ئے نہیں ہیںاس میں تبدیلی کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔حکومتیں بدلتی ہیں لیکن اسلامی قانون تبدیل نہیں ہو تے، شریعت کو کوئی ختم نہیں کر سکتا ۔مسلم خواتین کی قیادت کرتے ہو ئے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بو رڈ کی خاتون ونگ کی صدرڈاکٹر اسماء زہرا نے کہاکہ یہ بل نہ صرف دستور ہند کے خلاف ہے بلکہ شریعت ، مسلم عورتوں کے حقوق اور صنفی عدل کے بھی خلاف ہے۔ جس کے خلاف آج ہم یہاں جمع ہو ئے ہیں ۔ انہوں نے کہاکہ ہم اس بل کو رجیکٹ کرتے ہیں اور مطا لبہ کرتے ہیں کہ اس بل کو واپس لیا جا ئے ۔شریعت اللہ کی دی ہو ئی ہے اس کے قوانین انسانوں کے بنائے ہوئے نہیں بلکہ اللہ کے قوانین ہیں ۔ جس میں ہم حکومتوں کی مداخلت کو قطعی برداشت نہیں کر سکتے ۔انہوں نے کہا کہ آج دستور ہند کو بدلنے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔ ملک میں اور بھی خواتین کے مسائل، ریپ ، چھیڑ چھاڑ ، گھریلو تشدد وغیرہ جیسے بڑے ایشو ہیں۔لیکن ان سب معاشرے کی برا ئیوں پر تو جہ نہ دیکر حکومت صرف طلاق ، جو کہ مسلم معاشرے میںنہ کے برابر ہے ، اس کو مسئلہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔کچھ کرا ئے کی خواتین کو برقہ پہنا کر پیش کیا گیا اور پیغام دیا گیا کہ مسلم خواتین غلامی کی زندگی جی رہی ہیں ، لیکن مسلم خواتین ملک بھر سمیت آج دہلی کے را م لیلا میدان میں ہزاروں کی تعداد میں جمع ہو کر یہ پیغام عام کر دیا کہ مسلم خواتین بیچا ری نہیں ہیں اور انہیں یہ گھر بگاڑنے والا بل منظور نہیں۔ ڈاکٹر اسماء زہرا نے کہا کہ در اصل یہ بل حکومت کا صرف ایک بہانہ ہے ، شریعت کو اصلی نشانہ بنانا ہے ۔ انہو ں نے کہاکہ یہ خاموش احتجاج کا سلسلہ آج بند ہو جا ئے گا لیکن ہماری تحریک جا ری رہے گی ۔اپنے خطاب میں جذباتی ہو گئی ڈاکٹر فا طمہ مظفر نے کہاکہ ہم اپنی اولاد اور اپنی جانیں قربان کر سکتے ہیں لیکن دین وشریعت پر آنچ نہیں آنے دیں گے ۔انہوں نے کہاکہ اگر وزیر اعظم نریندر بھائی مودی مسلم خواتین کے بھائی ہیں تو وہ در در انصاف کے لئے بھٹک رہی زکیہ جعفری کو انصاف دلا ئیں ، ننیب کی ماں کو انصاف دلائیں ، اخلاق اور ماب لینچنگ میں قتل کر دئے گئے لو گوںکی بیوائوں اور بچوں کو انصاف دلائیں ۔یا سمین فاروقی نے کہاکہ یہ کتنا بڑا مذاق اور حکومت کی منمانی ہے کہ تین طلاق کو مانا بھی نہیں جا رہا ہے اور تین طلاق دینے والے کو سزا بھی دی جا رہی ہے ۔ جو جرم ہوا ہی نہیں اس کی سزا کس لئے ؟۔یا سمین فا روقی نے کہاکہ یہ بل بیحد خطرناک اور حکومت کی سازش ہے۔ ہم یہ پیغام دینا چا ہتے ہیں کہ یہ بل ہم پر زبردستی تھوپا جا رہا ہے مسلم خواتین کو اس بل کی کوئی ضرورت نہیں ہے اسلام نے پہلے ہی خواتین کو اس کے حقوق دئے ہوئے ہیں ۔اس موقع پر را م لیلا میدان میں خاموش احتجاج میں نگراں رہے سابق ممبر اسمبلی حاجی شعیب اقبال نے کہاکہ شریعت کی حفاظت اور حکومت کی جانب سے لا ئے جا رہے بل کے خلاف جس طرح ہماری مائیں بہنیں گھروں سے نکل کر آئیں ہیں اس سے یہ احساس ہو رہا ہے کہ اس مو دی حکومت کی الٹی گنتی شروع ہو گئی ہے ۔شعیب اقبال نے کہاکہ یہ بل گھروں میں فساد برپا کر نے کیلئے لایا جا رہا ہے اس سازش کو نا کام بنائیں ۔ کو نسلرآل محمد اقبال نے کہاکہ چو دہ سو سال سے یہ دین چل رہا ہے مگر کبھی ایس صورت پیدا نہیں ہوئی لیکن آج بل لا کر شریعت میں مداخلت کر نے کی کو شش کی جا رہی ہے ۔آج پا رلیمنٹ میں بیٹھے ملک کے اس تا نا شاہ کو بتا نا چا ہتے ہیں کہ ہم شریعت میں مداخلت برداشت نہیں کریں گے ۔ جمعت اہل حدیث کے شیش تیمی نے کہاکہ طلاق بل کے خلاف گھروں سے نکل کر خواتین اسلام نے یہ مردوں کی غیرت کو آئینہ دکھانے کا کام کیا ہے ۔ انہوں نے یہ ثابت کر دیا کہ یہ بل انہیں قبول نہیں ہے ۔ حالانکہ ہمارے نذدیک تین طلاق نہیں ہے لیکن ملت کے مفاد اور دین شریعت کے تحفظ کیلئے جمعت اہل حدیث بو رڈ کے ساتھ کھڑی ہے ۔اس موقع پر مولانا ابو طالب رحمانی (کلکتہ) نے بل کے خلاف مسلم خواتین کی تحریک کو نظر انداز کر نے اور چند خواتین کو مٹھائی کھلاتے ہوئے دکھانے پر ٹی وی چینلوں میڈیاپر جم کر بھڑاس نکالی ۔انہوں نے وزیر اعظم کو بھی آڑے ہا تھوں لیتے ہوئے کہاکہ وزیر اعظم صرف ان خواتین کے بھائی ہیں جن کو طلاق ہو گئی ہو یا ان کے گھروں میں کوئی جھگڑاہو ۔ انہوںنے کہاکہ ہمارے ڈیجیٹل وزیر اعظم کسی مقتول یا مظلوم کے بھائی نہیں ہیں ۔ اس موقع پر بو رڈ کی رکن زینت مہتاب ، آمنہ رضوان، عطیہ صدیقی وغیرہ نے بھی خطاب کیا ۔ تقریب کا آغاز تلاوت کلام پاک سے آمنا رضوان نے کیااور نعت پاک کا نذرانہ ادیبہ ، گلستاں اور عزیزہ نے پیش کیا ۔اس خواتین کے حتجا ج کو کامیاب بنانے میں آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ممبر مفتی اعجاز ارشد قاسمی ، مو لانا ساجد رشیدی ، قاری عارف قاسمی ، مو لا نا قاسم نو ری ، مو لانا جاوید قاسمی، حاجی ممتاز چا ئولہ کے ساتھ بطور وولینٹرس محمد فردوس ، اعظم سباغ ، محمد صادق ، ننی قریشی ، حفیظ الحق وغیرہ سمیت کئی فرزندان تو حید اور دختران تو حید نے اپنی خدمات انجام دیں ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.