صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

انجمن نورالاسلام ہائی اسکول ساکی ناکہ میں دوہزار بچے زیر تعلیم

اپنی ۲۵سالہ خدمات کے بعد سبکدوشی پر کے موقعہ پر فرمایا درس وتدریس ایک باوقار پیشہ ہے

541

ممبٸی : (نورمحمد خان) ساکی ناکہ تلک نگر میں واقع انجمن نورالاسلام اردو ہائی اسکول میں اراکین انجمن کی جانب سے الوداعی تقریب کے موقع پر بعنوان ’ایک شام ملک نور محمد سر‘ کے نام مشاعرہ محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں بیرونی شعراکرام و اساتذہ کرام اور تعلیمی و ادبی شخصیات شامل ہوئیں ۔
گزشتہ ٢٥برسوں سے انجمن نورالاسلام اردو ہاٸی اسکول میں تعلیمی خدمات انجام دینے والے صدر مدرس ملک نور محد سر نے سبکدوشی کے موقع پر سامعین سے مخاطب ہوکر فرمایا کہ علم حاصل کرنا انبیا علیہم السلام کی سنت ہے جو ہمیں میراث میں ملا ہے انہوں نے کہا یہ درس وتدریس کا پیشہ باوقار پیشہ ہے ۔ میں بلرامپور ضلع اترپردیش سے تعلق رکھتا ہوں مجھے نہیں معلوم تھا کہ آباٸی وطن سے ممبئی شہر میں ملازمت کے لۓ آنا پڑے گا ملک سر نے کہا کہ اس انجمن میں ١٩٨٩ میں ایک استاد کی حیثیت سے تقرری ہوٸی تھی اور یہ انجمن اسکول ساتویں جماعت تک مشتمل تھا اس کے بعد ١٩٩٥ میں بطور صدر مدرس کی عہدے پر فاٸز ہوا اراکین انجمن کی کاوشوں سے یہ درس گاہ آج ہاٸی اسکول کی شکل میں تبدیل ہوگیا ہے ۔ جس میں دوہزار سے زاٸد طلبا علم حاصل کررہے ہیں ۔ آخر میں ملک نور محمد سر نے اللہ کا شکر ادا کرتے ہوئے کہا کہ مجھے میرے والدین اور اساتذہ نے جس علم سے روشناس کرایا تھا وہ علمی خدمات کے ٢٥سال مکمل ہوگئے اور انشا اللہ تاحیات علمی خدمات کو انجام دیتا رہونگا ۔
محفل مشاعرہ کے صدر و انجمن کے رکن الحاج وسیم حسن قادری نے فرمایا کہ ملک نور محمد سر کی تعلیمی خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ۔ ان کی کاوشوں سے انجمن کے طلبا طب اور انجینیرنگ جیسے متعدد شعبہ میں خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ انجمن میں لڑکوں کے مقابلہ میں لڑکیوں کی تعداد بہت زیادہ ہے ۔
وسیم حسن قادری نے مزید کہا کہ کیا وجہ ہے کہ لڑکوں کو انگلش میڈیم میں اور لڑکیوں کو اردو میڈیم میں داخلہ کراتے ہیں کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ اسکول مستقبل میں نسواں اسکول میں تبدیل ہوجاٸے ۔ جبکہ اس اسکول کے دروازے سب کے لیے کھلے ہیں ۔ انھوں نے آخر میں کہا کہ انجمن نورالاسلام ٹرسٹ قوم کی تعلیمی پسماندگی دور کرنے کے لیے متحرک ہے ۔

مشاعرہ کی نظامت کے فراٸض نظر بجنوری نے انجام دیئے اس موقع پر نشاط خان و ممبئی کے معروف شعراء کرام جس میں یوسف دیوان ، ساجد قادری ، ظفر امام ، یوسف یلغار ۔ حمید وصل شولاپوری ، انجان ساگری ، عبدالجبار شولاپوری ، نصیبﷲ بستوی ، حسن بلرامپوری اور دیگر شعراء نے اپنے کلام سے سامعین کو محظوظ کیا ۔ مشاعرے کے کنوینر اسمٰعیل بھائی ڈیکوریٹر اور منتظمین میں ریاض بھائی ، عبدالجبار سر اور شاہ فیصل سر نے اپنی کاوشوں سے مشاعرے کو کامیاب بنائے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.