صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

دینیات فیکلٹی میں قومی سمپوزیم کا انعقاد

 ہر کلمہ گو توحید ، رسالت اور آخرت کاعلمبردار ہوتاہے ، فروعی مسائل میں اختلاف توہوسکتا ہے لیکن اصول میں اُمّت مسلمہ کے سارے فرقے متحد ہیں

581

علی گڑھ : علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے شعبہ دینیات میں ’’اتحادامت قرآن وسنت کی روشنی میں‘‘  موضوع پر قومی سطح کے سیمپوزیم کا انعقاد عمل میں آیا جس میں ہندوستان بھر سے تشریف لانے والے مندوبین نے حصہ لیا۔

مہمانوں کااستقبال کرتے ہوئے شعبۂ دینیات کے صدراور دینیات فیکلٹی کے ڈین پروفیسر توقیر عالم فلاحی نے کہا کہ ہر کلمہ گو توحید، رسالت اور آخرت کاعلمبردار ہوتاہے، فروعی مسائل میں اختلاف توہوسکتاہے لیکن اصول میں اُمّت مسلمہ کے سارے فرقے متحدہیں۔ پروفیسر فلاحی نے مزیدکہاکہ یہ امت مسلمہ جس مقصد کے تحت دنیامیں بھیجی گئی ہے وہ مقصد ہم سب کے سامنے رہنا چاہئیے، اور اپنی خواہش کو محور نہیں بناناچاہئے جس سے مقصد فوت ہوجائے امت انتشار وافتراق کا شکار ہو جائے۔

اے ایم یو رجسٹرا ر جناب عبدالحمید صدارتی خطبہ میں کہا کہ آج پوری دنیا چاہے وہ سیریاہویا افغانستان ہر جگہ امت مسلمہ انتشار وافتراق کاشکار ہے اور نقصان بھی صرف اور صرف مسلمانوں کاہی ہورہاہے اوراس کی اصل وجہ تعلیم سے دوری ہے، جبکہ اسلام میں وحی الٰہی کا آغاز ہی لفظ اقراء سے ہو تاہے۔ انہوںنے کہا کہ عصری تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم بھی نہایت ضروری ہے جس سے  امت مسلمہ آگے بڑھ سکے اور ان میں اتحادواعتماد پیداہوسکے۔

مہمان خصوصی پروفیسر اخترالواسع نے کہاکہ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کا یہ مکان ولایت منزل اتحادواتفاق کی بہترین مثال ہے۔ ایک سنی کامکان شیعہ کے نام ہے۔ مزیدکہاکہ ہم سب یہ کہتے ہیں کہ اللہ کی رسّی کومضبوطی سے پکڑ لو، لیکن ہر فرقہ اپنی اپنی رسّی کواللہ کی رسّی بتارہاہے ۔آپ نے فرمایا ہمارے زوال کا سبب یہ ہے کہ جتنے ہمارے کام کرنے کے ہیں وہ اللہ کے سپرد کردیااور جتنے اللہ کے کام ہوتے ہیں وہ ہم کررہے ہیں،  اختلاف دین میں ایک نعمت ہے ۔کیونکہ وہ اسلام کے جمہوری مزاج اور کردار کاحصّہ ہے۔ مسلمانوں کے تمام فرقے اللہ اس کے رسول اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں اور یہی چیزیں اتحاد کے اساس کی حیثیت رکھتی ہیں ۔ دوسری وجہ یہ ہے کی جتنے بھی ہمارے اسلاف اسلام میںگزرے ہیں چاہے وہ کسی بھی مسلک سے ہووہ ہمارے عقیدت کے محور ہیں عقیدے کے نہیں ۔

مہمان اعزازی مولاناطاہر مدنی نے کہا کہ امت میں اتحاد کیسے ہو اورقرآن نے ہمیں کیااصول فراہم کیے ہیں؟ یہ ساری بات ہمیں جاننی چاہیئے ، انہوں نے کہاکہ اتحادخیر کاسرچشمہ ہے اور انتشار شر کا۔ یہی وجہ ہے کہ جب آپؐ مدینہ منورہ تشریف لائے تو تمام مسلما نوں کوآپس میں ایک دوسرے کابھائی بنایااوراس کے بعد مدینہ کے اطراف واکناف میں رہنے والے یہودیوں سے بھی اتحادواتفاق سے رہنے کے اصول وضوابط بنائے ۔

مولانا کلب جوّاد نے موضوع پر روشنی ڈالتے ہوئے کہاکہ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیشہ اتحاد واتفاق پر زور دیاہے لیکن باطل اور غیر ہمارے درمیان انتشار وافتراق کے بیج بو تے ہیں، مولانانے کہاکہ آپؐ دنیامیں کافر کو مسلمان بنانے کے لئے تشریف لائے تھے اور ہم مسلمانوں کوہی کافر بنانے پر تُلے ہوئے ہیں۔ اس لئے علماء کوچاہیئے کہ وہ آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ مل جل کر رہیں تاکہ اتحادواتفاق کی فضا ہموار ہو، سچ بات یہ ہے کہ جتناہم آپس میں دور رہیں گے اتناہی اختلاف پیداہوگا۔

پروفیسر عبدالرحیم قدوائی نے تاریخ کے حوالے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انجیل میں یہودیوں کی بابت حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے سخت جملے موجودہیں اور دونوں فرقے تقریباً ایک ہزار سال تک نفرت کے ساتھ جیتے رہے لیکن ۱۹۶۱ء؁ میں ایک کانفرنس میں پوری عیسائی دنیانے یہودیوں کومعاف کردیااور اب وہ شیروشکر ہوکے رہتے ہیں، توہم مسلمان کیوں نہیں آپس میں اتحادواتفاق سے رہ سکتے، جبکہ ہم سب توحید، رسالت اور آخرت پر ایمان رکھتے ہیں۔

شعبہ کے سینئر استاذ پروفیسر محمد سلیم صاحب نے کہاکہ مسلمانوں میں تمام فرقے فرائض کاانکار نہیں کرتے ہیں بلکہ ان کا فروعی مسائل میں اختلاف ہے اور اتحاد کے سب سے بڑے علمبردار سرسیدؒ تھے جنہوں نے اس یونیورسٹی میں شیعہ وسنی شعبہ قائم کر کے اتحادکی بنیاد رکھی ہے۔

ویمنس کالج کی پرنسپل پروفیسر نعیمہ ایم گلریزنے کہاکہ اگر ہم سارے اختلا فات ختم کرکے اتحاد پیداکرلیں تو کوئی طاقت ہمیں آگے بڑھنے سے نہیں روک سکتی اور یہی ہماری کامیابی کی کلید ہوگی۔

ڈاکٹر مفتی زاہدعلی خاں نے کہاکہ اصول میں کوئی اختلاف نہیں ہے بلکہ فروعی مسائل میں اختلاف ہے اور ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ یہ لفظی نزاع ہے۔

کلمات تشکر ڈاکٹر محمداصغر فیضی نے ادا کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر حبیب اللہ نے انجام دیئے۔

پروگرام میں اساتذہ ، طلبہ اور طالبات  بڑی تعداد میں شامل ہوئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.