صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

عصر حاضر کا اہم ترین تقاضہ ۔۔       "امر بالمعروف ونہی عن المنکر”

589

 


"كُنْتُـمْ خَيْـرَ اُمَّةٍ اُخْرِجَتْ لِلنَّاسِ تَاْمُرُوْنَ بِالْمَعْرُوْفِ وَتَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَتُؤْمِنُـوْنَ بِاللّـٰهِ ۗ (قرآن 3 : 110)

اللہ نےامت مسلمہ کو ساری امتوں سے افضل اسی لئے بنایا جو معروف کا حکم دیتے ہیں، منکر سے روکتے ہیں۔ دراصل امت مسلمہ کا فرض منصبی دعوت دین ہے۔ قرآن میں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا حکم کسی بھی سوسائٹی میں برائی کو روکنے اور اچھائی کو فروغ دینے کا عمل اسلامی اصطلاح میں ’’امر بالمعروف و نہی عن المنکر‘‘ کہلاتا ہے۔ قرآن مجید کی یہ آتیں براہ راست تمام انسانوں کو خطاب کرکے ہمیں ہمارے بنیادی فریضہ سے آگاہ کرتی ہے کہ ہم اسی صورت میں بہترین امت کے اہل ہو سکتے ہیں کہ جو ذمہ داری ہم پر عائد ہے اس کی ادائیگی کرتے رہے۔

وہ یہ کہ ہم نیکی کا حکم دیں اور بدی سے روکے جو رب کائنات نے ہمیں سونپی ہیں تاکہ فریضہ حق ادا کر سکے۔ اسی کے ساتھ ساتھ قران مجید نے ہمیں وہ پیمانہ بھی بتا دیا کہ نیکی کیا ہے اور بدی کیا ہے؟ اور وہ پیمانہ اللہ تعالی نے خود طے کیا۔اور اس کا تصور واضح کردیا اور اس کو قرآن کے احکامات کے ساتھ جوڑ دیا جس کاحکم لازم ہے ۔نیکی اور بدی کا تصور لوگوں پر نہیں چھوڑا کہ کیا کرنا ہے اور کیا نہیں ورنہ لوگوں میں کئ طرح کے اختلاف ہوتے ۔ اس میں اللہ کی بہت بڑی حکمت ہے اور اس کا کرنا ہم پر لازم قرار دیا۔ اللہ تعالی کی فرما نبرداری باعث خیر اور رحمت ہے۔جو ہمارا آقا اور مالک ہے۔ ہم ایک امتی ہونے کی حثیت سے اس حکم کو معاشرے میں نافذ کرے۔ تب ہی ہمارے معاشرے میں امن، عدل اور انصاف قائم ہوگا۔ کائنات کا نظام اسی عدل کے میزان پر قائم ہے۔اور ہم کو کوئی حق نہیں پہنچتا کہ ہم میزان میں خلل پیدا کرے جو رب کائنات نے بناے ہیں۔ اور اگر ہم نے اس منصب سے تغافل برتا تو پھر اس کے سنگین تنائج ہونگے جو کہ مندرجہ ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔

حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام کو حکم دیا کہ فلاں شہر کو شہر والوں سمیت الٹ دو۔ حضرت جبرائیل علیہ السلام نے عرض کیا: اے میرے رب! اس شہر میں آپ کا فلاں بندہ بھی ہے جس نے ایک لمحہ بھی آپ کی نافرمانی نہیں کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم  فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے ارشاد فرمایا کہ تم اس شہر کو اس شخص سمیت سارے شہر والوں پر الٹ دو کیونکہ شہر والوں کو میری نافرمانی کرتا ہوا دیکھ کر اس شخص کے چہرے کا رنگ ایک گھڑی کے لئے بھی نہیں بدلا۔ (مشکوٰۃ المصابیح)

مسلمان اسے کہتے ہیں جو اپنے آپ کو اللہ کے  قانون کے حوالے کر دے۔ مگر یہ امید نہ کرے کہ وہ دنیا سے لا تعلق رہ کر خانقانوں اور مسجدوں میں بیٹھ کر صرف اللہ اللہ کرے۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے نازل ہونے سے پہلے اپنا زیادہ تر وقت غار حرا میں گزارا کرتےتھے۔ مگر وحی کے نزول کے بعد وہ کبھی پھر غار حرا میں تشریف  نہیں لے گئے۔ اور مسلسل جدوجہد کا پیکر بنے۔ تاکہ معاشرے سے تمام برائیوں کو مٹا سکے اور امن اور انصاف کو قائم کرے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سب سے پہلے اللہ پر ایمان لا کر اللہ کے قوانین کی تعمیل کی۔ ایک مرتبہ چند صحابی رضي الله تعالى عنه حضرت عائشہ صدیقہ رضي الله تعالى عنها کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ اے امّ المومنین ! حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق اور معمولات بیان فرمائیے۔ تو عائشہ صدیقہ نے جواب دیا کہ کیا تم لوگوں نے قرآن نہیں پڑھا؟ کان خلق رسول القرآن ”رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا اخلاق قرآن تھا“ (ابوداؤد شریف) یعنی قرآنی تعلیمات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق و کردار میں رچی اور بسی ہوئی تھی۔ اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم قران مجید کے ہر حکم پر عمل پیرا تھے۔ خود قرآن کریم میں آپ کے بلند اخلاق و کردار کی شہادت دی گئی ہے کہ ”بیشک آپ صلی اللہ علیہ وسلم  اخلاق کے اعلیٰ پیمانہ پر ہیں“ (سورہ القلم آیت:۴)

رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن اخلاق کا پیکر تھے۔  یقینا بھلائی کی دعوت اور برائی سے روکنے کے لئے ہمیں بھی اچھے اخلاق کی ضرورت ہے۔اس میں اس بات کو ملحوظ رکھے کہ جب ہم کسی کو نیکی کی دعوت دیں یعنی بھلائی کی تلقین کریں اور بہت ہی  نرمی، شفقت اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں۔ بار بار اپنے ذہن کو طائف کا واقعہ یاد دلاے۔ کہ ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کس طرح نرمی کا معاملہ کیا تھا۔ اس لئے کہ نیکی کی طرف دعوت دینے والا صابر و بُردباد ہوتا ہے اور جو بات کہے اُس پر عمل کرنے والا بھی یعنی مبلغ اگر باعمل ہو تو اُسکی بات، نصیحت جلد اثر کرتی ہے ورنہ اُلٹا ضد پیدا ہونے لگتی ہے۔ ساتھ ہی ساتھ لوگوں کی نفسیات اور معیار کے مطابق بات پیش کریں۔ اور ان کو دلائل کے ساتھ قائل کرے نہ کہ تذلیل کی جائے۔ اور نہ ہی اپنی برتری ظاہر کرے۔ اس کے لئے ہمیں اپنے عمل ، قول و فعل میں یکسانیت لانی ہوگی۔ ساتھ ہی ساتھ اپنےاندر وہ داعیانِ رویہ اور شعورکو بھی بیدار کرناہوگا۔ اس لئے کہ جن کے رتبے ہیں سوا ان کی سوا مشکل ہے۔ اور یہ اسی وقت ممکن ہوگا جب ہمارا تعلق اللہ اور اس کے کلام سے مضبوط ہوگا۔

دراصل قران مجئد ایک ایسی بابرکت کتاب ہے جس کا پڑھناباعث ثواب ہے۔ یہ زندگی میں انقلاب برپاکرتی ہے۔ اور یہ اسی وقت رونما ہو گا جب ہم اس کے احکامات پر عمل پیرا ہونگے۔ آج ہم میں سے بہت اپنے آپ کو عبادت گزار اور متقی کہتے ہیں ۔ دراصل دین کی بنیادی عبادتیں ہمیں اس بڑی عبادت کے لئے تیار کرتی ہے جس کا ہم سے مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس کے باوجود ہم اپنے آپ کو صرف عبادتوں تک محدود کر لیا ہے۔ اور اسے ہی کل عبادت سمجھ لیا ہے۔ اور معاشرے کی برائیوں سے لاتعلق ہو گئے ہیں۔ اللہ تعالی نے ہمیں آنکھیں دیں زبان دی سوچنے سمجھنے والا دل دیا۔ پھر کیوں  ہمارے جذبہ ایمان میں کوئی جنبش نہیں ہوتی۔ ہم صرف اپنی زندگی اور اس کی لذتوں میں گم ہیں۔ ہم نے اپنے اطراف سے بالکل آنکھ بند کر لیا ہے۔ جس طرح اللہ تعالی نے سبت والوں کے ساتھ جو سلوک کیا کہ بلکہ ان لوگوں کو بھی سزا دی جو اللہ کے حکم کی نافرمانی کرتے تھے۔ اور ساتھ ہی ساتھ ان لوگوں کو بھی سزا دی جو خود نیکی کرتے تھے اور برائی سے روکتے نہیں تھے۔ اور صرف اور صرف ان لوگوں کو بچایا جو اللہ کے حکم کی تعمیل کرتے تھے۔ ہم بھی اپنی انفرادی ذمےداری کے ساتھ ساتھ اجتماعی فرائض کو بھی پورا کرے۔ اگر ہم امر بالمعروف وہی عن المنکرکا فریضہ ترک کر دیا تو اللہ کے غضب کے مستحق ٹھہرے گےاور نہ ہی ہماری نمازیں قبول ہو گی۔ یہ فریضہ ہماری نجات کی ضامن ہے۔ جیسا کہ مندرجہ ذیل حدیث میں بیان کیا گیا ہے۔

"اس ذات کی قسم جس کے قبضۂ قدرت میں میری جان ہے! تم ضرور بالضرور نیکی کاحکم دو گے اور برائی سے منع کرو گے ورنہ اﷲ تعالیٰ تم پر اپنا عذاب بھیجے گا۔ پھر تم اسے (مدد کے لیے) پکارو گے تو تمہاری پکار کو ردّ کر دیا جائے گا۔‘‘ (ترمذی)

قرآن مجید نے جس طرح نیکی کا حکم دینے والوں اور برائی سے روکنے والوں کی تعریف کی ہے، اسی طرح ان لوگوں کی مذمت بھی کی ہے جو نیکی کا حکم نہیں دیتے اور برائی سے نہیں روکتے:

’’بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ان پر داؤد اور عیسیٰؑ ابن مریم کی زبان سے لعنت کی گئی، کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے، انہوں نے ایک دوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، بُرا طرزِعمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا‘‘۔ (المائدہ)

مذکورہ آیت کے مطالعے کی روشنی میں مسلمان صرف انفرادی حیثیت ہی میں صالح انسان نہیں ہوتا، جو اچھے کام کرتا ہے، بُرائی سے بچتا ہے اور اپنے ایک خاص دائرے میں زندگی گزارتا ہے، اور معاشرے سے بالکل بے پرواہ ہواور اسے یہ احساس ہی نہ ہو کہ خیر کادائرہ سمٹ رہا ہے اور  برائی فروغ پارہی ہیں ۔اور انسانوں کو برائی کے دلدل میں ڈالا جارہا ہے۔ اور ان سب سے لاتعلق ہو کر ہم صرف اور صرف اپنی ہی زندگی میں مگن رہے۔ یہ مومن کا شیوہ نہیں ہے۔ بلکہ مسلمان اپنی ذات میں ایسا صالح انسان ہوتا ہے جس کی یہ تمنا ہوتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ساتھ اوروں کی بھی اصلاح کرے۔ امربالمعروف و نہی عن المنکر صرف انفرادی سطح پر سر انجام دیا جانے والا فریضہ نہیں بلکہ اس کو اجماعتی و معاشرتی سطح پر کرنا لازم ہے۔

حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم میں سے جو کسی برائی کو دیکھے تو اسے اپنے ہاتھ سے روکنے کی کوشش کرے اور اگر اپنے ہاتھ سے نہ روک سکے تو اپنی زبان سے روکے اور اگر اپنی زبان سے بھی روکنے کی استطاعت نہ رکھتا ہو تو (کم از کم اس برائی کو) اپنے دل میں برا جانے اور یہ ایمان کا کمزور ترین درجہ ہے”۔( سنن ابوداود)

"اور چاہیے کہ تم میں سے ایک جماعت ایسی ہو جو نیک کام کی طرف بلاتی رہے اور اچھے کاموں کا حکم کرتی رہے اور برے کاموں سے روکتی رہے، اور وہی لوگ نجات پانے والے ہیں”۔ ( قرآن 3 : 104)

سعیدہ زبیر شیخ اندھیری ۔ ملت نگر

Leave A Reply

Your email address will not be published.