صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کیا سہراب الدین نے خود ہی اپنا قتل کرلیا تھا ؟ :اشوک چوہان

ملک میں غیراعلانیہ ایمرجنسی نافذ ہوچکی ہے ، مودی حکومت لوگوں کی شخصی آزادی پر حملہ کررہی ہے

572

ممبئی : ملک کی ۱۰؍خفیہ وتفتیشی ایجنسیوں کو عام لوگوں کے کمپیوٹر اور انٹرنیٹ ڈیٹا کی نگرانی اور سہراب الدین شیخ مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملے سے تمام ۲۲ ملزمین کی برأت پر آج یہاں مہاراشٹر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر وممبرپارلیمنٹ اشوک چوہان نے بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ملک میں غیراعلانیہ ایمرجنسی لاگو ہوچکی ہے اور تفتیشی ایجنسیوں سے لے کر عدلیہ تک کو حکومت اپنی مرضی کے مطابق استعمال کررہی ہے۔ اشوک چوہان یہاں کانگریس کے دفتر گاندھی بھون میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مکی کی دس خفیہ وتفتیشی ایجنسیوں کو کسی بھی طرح کے کال، انٹرنیٹ ڈیٹا اور لوگوں کے کمپیوٹر کی حکومت نے نگرانی کرنے کا حکم دیا ہے۔

یہ حکم ملک کی شہریوں کی شخصی آزادی کے خلاف ہے۔ ہم اس حکم کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سی بی آئی، آئی بی، این آئی اے، نارکوٹکس کنٹرول بیورو، سینٹرل بورڈ آف ڈائریکٹ ٹیکس، ڈائریکٹر آف ریوینیو انٹلی جنس، راء، دہلی پولیس کمشنریٹ جیسی دس ایجنسیوں کو لوگوں کے کمپیوٹر، انٹرنیٹ ڈیٹا وکال پر نظر رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ یہ ایجنسیاں اب کسی کے بھی فون کال کو ٹیپ کرسکتی ہیں اور کسی کے بھی کمپیوٹر کو کھنگال سکتی ہیں۔ اس کے لئے اب اسے وزارتِ داخلہ کے اجازت کی ضرورت نہیں ہوگی۔ اشوک چوہان نے کہا کہ لوگوں کی پرائیویسی پر نظررکھنے کا گجرات ماڈل مودی اور شاہ پورے ملک میں لاگو کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔ کانگریس حکومت کے اس حکم کی سخت مذمت کرتی ہے اور مطالبہ کرتی ہے کہ اس طرح کا حکم فوری طور پر واپس لیا جائے۔


اشوک چوہان نے اس موقع پر سہراب الدین شیخ مبینہ فرضی انکاؤنٹر معاملے کے تمام ۲۲ ملزمین کی برأت پر بھی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ اس سے سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سہراب الدین نام کا کوئی شخص موجود تھا اور اگر موجود تھا تو کیا اس نے خود کو قتل کرلیا تھا؟ انہوں نے کہا کہ مودی کی ریاست میں کئی لوگ اچانک غائب ہوجاتے ہیں اور بعد ان غائب شدہ لوگوں کے نام کہانیوں میں شامل ہوجاتے ہیں۔ مستقبل میں یہ سوال کیا جائے گا کہ غائب شدہ لوگوں کا وجود تھا کہ نہیں اور اس کا جواب ملے گا کہ نہیں۔کیونکہ ان کے خاطر خواہ ثبوت موجود نہیں ہونگے ۔ انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ مودی حکومت آنے کے بعد تفتیشی ایجنسیوں کو نگاہوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ کیونکہ انہیں کسی بھی مقدمے میں ثبوت نظر نہیں آتا ہے۔ اس لئے ایجنسیوں کی نظر کی جانچ کی جانی چاہئے۔ بی جے پی سے متعلق تمام ملزمین ان ایجنسیوں کو اب سنت ومہاتما نظر آنے لگے ہیں اورجمہوری طریقے سے بی جے پی کی مخالفت کرنے والے تمام لوگ انہیں مجرم نظر آنے لگے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سہراب الدین قتل معاملے کے بیشتر گواہ اچانک اپنے بیانات سے مکرنے لگے اور تمام ملزمین کو بے قصور قرار دے کر انہیں بری کردیا گیا۔ جبکہ حال ہی میں ایک پولیس افسر نے ہرین پانڈیا قتل معاملے سے اس انکاؤنٹر کا تعلق جوڑا تھا۔ اس پولیس افسر کی آواز بھی ایجنسیوں کو سنائی نہیں دیا۔ اس پریس کانفرنس میں موجود سابق کابینی امور کے وزیر ممبراسمبلی محمد عارف نسیم خان نے بھی اس موقع پر سہراب الدین انکاؤنٹرمعاملے میں بی جے پی حکومت پر سخت تنقید کی اور کہا کہ یہ صریح طور پر تفتیشی ایجنسی پر دباؤ کا معاملہ ہے کہ تمام ملزمین بری ہوگئے ۔ انہوں نے کہا کہ اس معاملے میں جتنے بھی ملزمین تھے وہ سب مودی وامیت شاہ کے قریبی تھے ، انہیں بچانے کے لئے تفتیشی ایجنسی پر دباؤ بنایا گیا تاکہ وہ عدالت میں ان کے خلاف کوئی ثبوت پیش نہ کرسکیں۔ اس پریس کانفرنس میں ممبراسمبلی حسنہ بانو خلیفے ، ممبراسمبلی سبھاش چوہان، مہاراشٹرپردیش کانگریس کمیٹی کے جنرل سکریٹری وترجمان سچن ساونت ، جنرل سکریٹری پرتھوی راج ساٹھے وغیرہ موجود تھے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.