صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مودی کی جمہوری حکومت میں عوام کا حق رازداری بھی محفوظ نہیں

559

نہال صغیر
قومی سلامتی ایک ایسا بہانہ ہے جس سے ہمیشہ عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کی کوششیں حکومتیں کرتی رہی ہیں ۔ پہلے تو خیر سے بادشاہت ہوا کرتی تھی تو وہاں کسی طرح کے حقوق کی بات تھی ہی نہیں حالانکہ کئی بادشاہ ایسے بھی ہوئے ہیں جنہوں نے انصاف پسندی اور انسانوں تو کیا جانوروں کے حقوق کے بھی تحفظ کو یقینی بنایا ۔ ہم اس میں سے کئی مسلم حکمرانوں کے نام پیش کرسکتے ہیں ۔ لیکن یہاں موقعہ اس کا نہیں ہے ۔ مسلم حکمرانوں نے حق و انصاف کا وہ نظام اس لئے قائم کیا کیوں کہ انہیں یہ سبق اسلام نے دیئے تھے ۔ گذشتہ دوسو سال سے دنیا میں ایک نظام متعارف کرایا گیا جسے جمہوریت کا نام دیا گیا جس سے متعلق مغربی مفکرین نے یہ دعویٰ کیا کہ یہ عوام کی حکومت عوام کیلئے اور عوام کی جانب سے ہے ۔ پتہ نہیں اس میں کتنی سچائی ہے ۔ ہم تو جمہوریت کے سائے میں ہی انانیت اور فاشزم کو پلتےبڑھتے دیکھ رہے ہیں ۔ ممکن ہے کہ یوروپ و امریکہ میں کچھ حد تک اس نظام سے عوام کو آزادی ملی ہو لیکن دوسری اور تیسری دنیا کے ممالک میں تو اسی کے سائے میں عوام کے حقوق پر ڈاکہ ڈالا جاتا رہا اور دنیا خاموش تماشائی بنی رہی ۔

ایسا بھی ہوا کہ جمہوری طور پر عوام نے جن لوگوں یا گروہوں کو حکومت سونپی ترقی یافتہ ملکوں نے اسے مسترد کردیا ۔ یہ بھی ہماری گفتگو کا موضوع نہیں ہے ۔ یہ باتیں یہاں برسبیل تذکرہ آگئیں ۔ ہماری گفتگو کا موضوع جمہوریہ ہند میں موجودہ حکومت کے سائے میں عوام کا ناطقہ بند کئے جانے کی شروعات پر ہے ۔ موجودہ حکومت اقتدار میں ترقی کے نام پر آئی تھی اور اسی ترقی کے نعروں نے کئی لوگوں یا گروہوں کو غلط فہمی میں مبتلا کردیا ۔ ترقی کے کوئی وعدے تو پورے ہوئے نہیں صرف نعرے اور نئے نئے شعبے قائم کرکے موجودہ حکومت نے ایونٹ منیجمنٹ کا کام کیا ہے ۔ نعروں اور انتخابی جملوں میں شاید ہی اس حکومت کا کوئی ثانی ہو سکے ۔ اب جبکہ ترقی کے سارے وعدے دھرے کے دھرے رہ گئے اور عوام کو ہندو مسلم میں تقسیم کرنے کی کوشش میں معمولی کامیابی حاصل ہوئی تو اس نے قومی سلامتی کے تحت لوگوں کی آزادی اور رازداری پر ہی قدغن لگانے کی تیاری شروع کردی ہے ۔
مودی حکومت رفتہ رفتہ عوامی اعتماد کھوتی جارہی ہےجس کی تازہ مثال حالیہ ریاستی انتخاب میں اس کا حکومت سے باہر ہونا ہے ۔ ایک جانب تو اس کے عوامی اعتماد کھونے کا ایک سلسلہ چل پڑا ہے اور دوسری جانب وہ ایسی حرکتیں کررہی ہے جس سے عوام مزید برگشتہ ہوتےجائیں گے ۔ اس کے عزائم سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کسی نادیدہ ہاتھ کے اشاروں پر عوامی آزادی کا گلا گھونٹ دینا چاہتی ہے ۔ ان کی حق رازداری پر ڈاکہ ڈالنے کی تیاری کررہی ہے ۔ یا پھر موجودہ حکومت اس جانب اپنا سفر طے کرنا چاہتی ہے جس جانب اس حکومت کے چھ ماہ بیتنے کے بعد ہی بعض عوامی نمائندوں اور لیڈروں نیز سماجی کارکنوں نے اشارہ کرنا شروع کردیا تھا ۔ وہ اشارہ تھا جمہوریت کے خاتمہ کی پیش گوئی اور فاشزم کے بڑھتے دائرے کا ۔ بعض ایسے شواہد و واقعات سامنے آنے شروع ہو گئے تھے جن سے یہ اشارہ ملتا تھا ۔ جمہوریت میں قوت کسی ایک شخص یا گروہ تک نہیں سمٹنے دیا جاتا ۔ لیکن موجودہ حکومت میں یہی سب کچھ ہو رہا ہے ۔کسی نے وزیر اعظم کیخلاف کوئی لفظ زبان سے نکالے اور پولس نے اسے گرفتار کرکے جیل میں ڈال دیا ۔ اس طرح ایک نہیں کئی واقعات ہوئے ۔

اب حکومت نے ایک نیا شوشہ چھوڑا ہے کہ اس نے ملک کی کئی ایجنسیوں کو یہ حق دینے کا نوٹیفیکیشن جاری کیا ہے کہ ان میں سے کوئی بھی یا ان کے ایما پر کوئی اہلکار کسی بھی وقت آپ کے کمپیوٹر دیکھ سکتا ہے ، آپ کے موبائل کو چیک کرسکتا ہے ۔ ویسے بتایا گیاہے کہ یہ قانون نیا نہیں ہے یہ انگریزی سرکار کا ٹیلی گراف کا قانون ہے جو آج بھی آزاد ہندوستان میں عوام کی جاسوسی اور ان کی راز داری میں مخل ہونے کیلئے استعمال کیا جائے گا ۔ جیسا کہ ارون جیٹلی نے پارلیمنٹ میں بتایا کہ ہم کوئی نیا قانون تو لانے نہیں جارہے ہیں یہ تو پرانا قانون ہے ۔ ہم تو صرف اسے نافذ کرنے جارہے ہیں ۔ لیکن اس سے قبل اس کے نفاذ کی کئی شرطیں تھیں جنہیں ختم کرکے چند ایجنسیوں کو اس پر متعین کردیا گیا کہ آپ عوام کے حق رازداری کو جب چاہیں ختم کردیں ۔ یہ سب قومی سلامتی کے نام پر کیا جارہا ہے ۔ موجودہ حکومت عوام مخالف اور انسانیت سوز قوانین کو استعمال کرنے کو قومی سلامتی سے جوڑ دیتی ہے تاکہ اس کے خلاف اٹھنے والی آواز آسانی سے دبائی جاسکے ۔

سوچئے کہ آپ کی رازداری میں کوئی مخل ہو تو کیسا محسوس کرتے ہیں ۔ موجودہ دور میں بھی اسے اتنا ہی برا مانا جاتا ہے جتنا کہ دور قدیم میں مانا جاتا تھا ۔ دنیا کی ترقی یافتہ قومیں اس کے احترام کا دعویٰ کرتی ہیں ۔ انہوں نے بھی ایسے قوانین بنا رکھے ہیں جن سے وقت بوقت لوگوں کی رازداری اور آزادی متاثر ہوتی ہے ۔ لیکن خفیہ طور سے ہی سہی انہوں نے اسے عدالتی نظام سے جوڑ دیا ہے کہ بغیر جج کی اجازت کے حکومت کی خفیہ ایجنسیاں ایسی کوئی کارروائی نہیں کرسکتیں ۔ لیکن ہمارے یہاں قومی سلامتی کے نام پر کسی کو بھی کہیں سے اغوا کرلیا جاتا ہے اور پھر اسے کئی کئی دنوں کے بعد گرفتار دکھا کر عدالت میں پیش کیا جاتا ہے جب تک تحقیقاتی ایجنسیاں تھرڈ ڈگری کا استعمال کرکے بے گناہ افراد سے ناکردہ جرم قبول کروالیا جاتا ہے ۔ اسی لئے یہاں جب اس طرح کے کسی قانون کے نفاذ کی بات آتی ہے تو اس کی شدت سے مخالفت کی جاتی ہے ۔ حالیہ قانون کی بھی اسی لئے مخالفت کی جارہی ہے ۔ حکومت اسے بے جا اندیشہ یا بدنیتی پر مبنی نہ سمجھے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.