صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

تاریخ کی معلومات اور حالات سے آگہی ضروری 

اردو مرکز کی جانب سے ماہانہ نشست میں حاضرین کی رائے 

503

ممبئی : جونبی ممبئی کا تہذیبی طور پر متحرک ادارہ اردو مرکز پھر سے متحرک ہوتا نظر آرہا ہے ۔ امام باڑہ میونسپل اسکول میں قائم اس کے دفتر پر بی ایم سی کے تالا لگا دینے کے بعد معاملہ ہائی کورٹ مین زیر سماعت ہے ۔ لیکن جب تک کیلئے اردو مرکز کے ذمہ دار ایڈووکیٹ زبیر اعظمی نے مدنپورہ میں عارضی دفتر قائم کرکے تحریک کو قائم رکھنے کا کام شروع کردیا ہے ۔ ایسی ہی ایک میٹنگ ہفتہ ۲۲؍ دسمبر کو طلب کی ۔ انہوں نے موجودہ بابری مسجد مسئلہ کی مناسبت سے میٹنگ رکھی ۔ بابری مسجد کے اندر ۲۲/۲۳ دسمبر کی شب میں ہی مورتیاں رکھی گئی تھیں ۔ اسی مناسبت سے تاریخ کو یاد رکھنے اور ظلم و ناانصافی کے خلاف ہم میں بیداری کی خاطر مذکورہ میٹنگ کا انعقاد کیا تھا ۔ محفوظ الرحمن انصاری نے مسلم لیڈروں کے اس بیان پر خدشہ کا اظہار کیا کہ وہ کہتے ہیں کہ ہم عدلیہ کے فیصلہ کو تسلیم کریں گے لیکن آپ دیکھیں کہ عدالت سے کیسے فیصلے آرہے ہیں ۔

ان کے اس خدشہ پر حاضرین نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کو تسلیم کرنے کے سوا مسلمانوں کے پاس کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہیں ہے ۔ شرکا کی اکثریت نے بابری مسجد کے تعلق سے ہندو شدت پسندوں اور عدلیہ کے ڈھلمل رویہ پر خدشات کا اظہار کیا ۔ شرکا کی رائے یہ بھی تھی کہ ہمیں خواہ کچھ بھی احتجاج کرنا ضروری ہے ۔ اگر یہ نہ ہوا تو آنے والی نسلوں کیلئے اپنی شناخت قائم رکھ پانا مشکل ہو جائے گا ۔ ہمیں قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے جمہوری طور پر اور دستور ہند کی رو سے جو حقوق حاصل ہیں اس کا استعمال کرنا چاہئے ۔ حالات چاہے جتنے بگڑ رہے ہوں لیکن خاموش بہر حال نہیں رہا جائے گا ۔ روزنامہ ’ہم آپ‘ کی جانب سے نہال صغیر نے کہا کہ گرچہ ملک کے حالات ٹھیک نہیں ہیں لیکن خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔ نہال صغیر نے رام مندر معاملہ میں شیو سینا اور دیگر ہندو شدت پسندوں کی جانب سے قانون کی خلاف ورزی کرنے کی دھمکی اور ہر حال میں مندر بنانے کی ضد پر کہا کہ اکثریتی طبقہ میں اس تعلق سے جوش خروش میں کافی جمود آیا ہے ۔

مثال کے طور پر شیو سینا کا ایودھیا دورہ ، وشو ہندو پریشد کا بی کے سی ممبئی اور دہلی میں دھرم سبھا نیز ۶ ؍ دسمبر کو ایودھیا میں کسی بڑے مجمع کا اکٹھا نہیں ہونا یہ ثابت کرتا ہے کہ ہندو خود اس تحریک سے اوب چکے ہیں ۔ ایڈووکیٹ عاصم خان نے کہا کہ ’جہاں تک امید ہے کہ سپریم کورٹ سے فیصلہ ہمارے حق میں آئے گا لیکن اس کے بعد کیا ہم وہاں مسجد بنا سکتے ہیں اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے‘ ۔ لیکن حاضرین میں سےکئی افراد نے کہا ’یہ خدشہ قبل از وقت ہے، پہلے سپریم کورٹ مبنی بر انصاف کرکے اپنا کردار نبھائے‘ ۔ اردو مرکز کے سربراہ ایڈووکیٹ زبیر اعظمی نے کئی عنوانات پیش کئے جس کا تعلق تاریخ ، صحت ، تہذیب اور شخصیات سے ہے جن پر آئندہ اردو ومرکز میں مباحثہ رکھا جائے گا ۔ اردو مرکز کے دفتر امام باڑہ میونسپل اسکول میں تالا لگانے سے خدشہ ہے کہ وہاں موجود نادر و نایاب کتابیں دیمک کی دست برد سے محفوظ نہیں رہ پائیں گی ۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.