صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

راشٹر وادی کانگریس پارٹی پر ہندوتوا کا بھوت سوار !

بجرنگ دل ، پتیت پاون سیتا رام اور شری رام سینا جیسی فرقہ پرست تنظیموں کا صدر اب راشٹر وادی کانگریس پارٹی اورنگ آباد کا شہر ضلع صدر ہوگا ، پارٹی کے اس فیصلے کے خلاف الیاس کرمانی کا اظہار ناراضگی

17,803

اورنگ آباد :(جمیل شیخ)الیاس کرمانی نے ایک فرقہ پرست جو کہ بجرنگ دل سمیت کئی تنظیموں میں شامل ہے کو راشٹر وادی کانگریس پارٹی میں شامل کرکے اورنگ آباد شہر کا صدر نامزد کئے جانے پر اپنی سخت ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے پارٹی اعلیٰ کمان کو احتجاجی خط لکھا ہے ۔ ’۱۷؍جولائی ۲۰۱۹ء کو راشٹروادی کانگریس پارٹی کی جانب سے وجئے راج ساڑوے کو اورنگ آباد شہر ضلع صدر کے عہدہ پر فائز کیا گیا ۔ اب تک راشٹروادی کانگریس پارٹی کے مختلف انتخابی جلسوں یاپروگراموں میں یہ موصوف کبھی نظر نہیں آئے ۔ یہ شخص آج بھی بجرنگ دل ، پتیت پاون سیتا اور شری رام سینا جیسی فرقہ پرست تنظیموں میں بطور اساسی رکن و صدر سر گرم عمل ہے ۔ اس طرح کی فرقہ پرست ذہنیت کے حامل فرد کو راشٹروادی کانگریس نے اتنی بڑی ذمہ داری دی ۔ اس بات پر مجھے کافی حیرت ہے ۔ ایسے لوگوں سے ملک کی گنگا جمنی تہذیب اور سیکولر تانے بانے کو آج سب سے بڑا خطرہ لاحق ہے‘ ۔

الیاس کرمانی نے آگے لکھا ’اس طرح کے فرقہ پرست افراد کی پارٹی کے باوقار عہدہ جات پر تقرری سے پارٹی کی بدنامی ہوگی ۔ ساتھ ہی عوام پارٹی سے دور جائیں گے ایسی سوچ و فکر اور نظریات کے حامل افراد کی میں نے ہمیشہ مخالفت کی اور مستقبل میں بھی کرتا رہوں گا ۔ وجئے راج جیسے فرقہ پرست انسان کے ساتھ میں کبھی کام ہی نہیں کر سکتا ۔ جس پر زنا بالجبر ، اغواء ، ہفتہ وصولی اور فروطی جیسے سنگین جرائم مختلف پولس اسٹیشن میں درج ہیں ۔ میں گزشتہ کئی برسوں سے شہر اورنگ آباد کے مرکزی اسمبلی حلقہ میں راشٹروادی کانگریس پارٹی کے ایک مخلص کارکن و شہر صدرکی حیثیت سے پارٹی کومضبوط کرنے کے لئے اور شردچندر پوار جی کے سیکولر اور آئینی نظریات کوہرگھر تک پہنچانے کے لئے نہایت تندہی و جانفشانی سے محنت کررہا ہوں‘ ۔

الیاس کرمانی نے خط میں اپنے درس کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ’میں نے ہمیشہ راشٹروادی کانگریس پارٹی کے قومی صدر شرد پوار صاحب اور اعلیٰ عہدہ داروں کی عزت و احترام کے ساتھ ان کے نظریے کے مطابق ہمیشہ ۸۰ فیصد سماجی کام اور ۲۰ فیصد سیاسی سرگرمیوں کے ذریعے پارٹی کو مضبوط کیاہے ۔ ابھی تک میں اس پارٹی کوایک سیکولر سیاسی جماعت سمجھ کرکام کرتا تھا لیکن اس طرح کے فرقہ پرست شخص کی نامزدگی سے میں یہ سوچنے پر مجبور ہوا کہ آیا یہ جماعت بھی کہیں فرقہ پرست تو نہیں بن گئی ؟ سماج کے مختلف طبقوں کے ذمہ داروں کی جانب سے اس تقرری کی شدید مخالفت کی جارہی ہے ۔ دلتوں ، مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں میں ایسے شخص کے زیر نگیں کام نہیں کیا جاسکتا ؟ پہلے سے ہی دلت مسلم اقلیتیں فرقہ پرستوں کی ریشہ دوائیوں سے خوف و ہراس میں مبتلا ہیں ۔ اس تقرری نے آگ میں گھٹی ڈالنے کا کام کیاہے پارٹی اپنے اس فیصلے پر نظر ثانی کرے‘ ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.