صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

باندرہ میں ریلوے کی زمین پر جھوپڑے پھر تعمیر ،انتظامیہ بے خبر !

87,985

مقامی لوگوں نے الزام عائدکیا کہ ریلوے کے اہلکاروں کی ملی بھگت ہے ورنہ یہ ممکن ہی نہیں ہے۔ریلوے نےکارروائی کا انتباہ دیا

اسٹیشن سے متصل ہاربر لائن کی جانب پھر کئی جھوپڑے بنالئے گئے ہیں لیکن ریلوے انتظامیہ اور آر پی ایف آنکھیں بند کئےہوئےہیں۔کسی دن پھر اچانک بھاری بھرکم فورس لگاکر انہدامی کارروائی شروع ہوگی اوریہ باور کرایاجائے گا کہ ریلوے انتظامیہ بیدار ہےاورکسی کو ایک انچ زمین قبضہ نہیںکرنے دیاجائے گا۔اس تعلق سےکچھ مقامی لوگو ںکا کہنا ہے کہ یہ سب ریلوے اہلکاروں اورریلو ے پروٹیکشن فورس کی ملی بھگت کانتیجہ ہے،ورنہ ایسا ہونا ممکن ہی نہیں ہے کہ ایک بھی جھوپڑا بنے اورریلوے کی زمین پر قبضہ کرنے کی کوئی ہمت کرسکے۔ نمائندۂ انقلاب نے دیکھاکہ ہارلائن کی جانب پائپ لائن کےقریب لائن سے کئی جھوپڑے بنائےگئے ہیںاور لوگ وہاں رہ رہے ہیں۔بارش سےقبل یہاں ریلوے کی جانب سےانہدامی کارروائی کی گئی تھی اس کے بعد اب تومزیداہتمام سے جھوپڑے بنائے گئے ہیں۔

ریلوے کی ملی بھگت مقامی چند لوگوں سےبات چیت کرنے پر کچھ لوگوں کا کہنا تھا کہ بھائی ،ہمیں اس سے مطلب نہیں ہے ،جھوپڑے والے جانیں اور ریلوے جانے ،ہمیں اس میں مت گھسیٹو۔کچھ لوگ خود ہی سوال کرنے لگے کہ آپ یہ بتائیے کہ یہ ریلوے کی پراپرٹی ہے ، زمین اور دوسری ملکیت کی نگرانی کے لئے فورس تعینات رہتی ہے ،سی سی ٹی وی کیمرے لگےہوئےہیںاس کے باوجود زمینوں پرقبضے کیسے ہورہے ہیں؟ مطلب صاف ہے کہ ریلو ے کے لوگ ملے ہوئے ہیں ، ورنہ جھوپڑا تو دور کوئی شخص بغیرٹکٹ اسٹیشن کے اند رآنے کی ہمت نہیں کرتا ہے۔‘‘

کچھ لوگوں نےیہ بھی بتایاکہ یہاں کچھ دلال سرگرم رہتے ہیںاوروہ ریلوے اورلوگوں کے درمیان ایک طرح سےپُل کاکام کرتے ہیں۔ وہ کچھ رقم لے کران کوجھوپڑا بنانے کا موقع فراہم کراتے ہیں اور پھرجب کوئی شکایت کی جاتی ہے تو اوپر سے آرڈر ملنےپرانہدامی کارروائی کے ذریعے خانہ پُری کردی جاتی ہے، اس طرح سے یہ کاروبار جاری ہے اور شاید آگے بھی اسی طرح سے چلتا رہے گا۔ریلوے کا جواب

ویسٹرن ریلوے کے چیف پی آر اوسمیت ٹھاکورنےان شکایات کے تعلق سے کہا کہ ’’ریلوے املاک اور زمینو ںکے تحفظ کے لئے فورس کے جوان نگرانی کرتے ہیں اور کارروائی بھی کی جاتی ہے۔ جہاںتک باندرہ میں ریلوے کی زمین پرجھوپڑے بنانے کی بات ہےتو وہ زمین خالی کرائی جائے گی اور کسی کوبھی ریلوے کی زمین پر قبضہ کی ہرگز اجازت نہیںدی جائے گی۔‘‘ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’’لوگوں کوخود ہی سوچنا چاہئے کہ وہ غیرقانونی قبضہ سے بچیں کیونکہ جب کارروائی ہوتی ہے تو خمیازہ ان ہی لوگو ں کوبھگتنا پڑتا ہے جوقابض ہوتے ہیں۔‘‘

Leave A Reply

Your email address will not be published.