صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ایم آئی ایم کے آگے بی جے پی اور میئر کو جھکنا پڑا

کمشنر کی تجویز منظور ، ابوالحسن ہاشمی میونسپل کارپوریشن میں کو آپٹیڈ رکن نامزد

446

اورنگ آباد : (جمیل شیخ) کوآپٹ ممبر کے لئے مجلس اتحاد المسلمین کی جانب سے سفارش کردہ امیدوار ابوالحسن ہاشمی کی اس عہدے پر نامزدگی کے لئے انتظامیہ کی جانب سے پیش کردہ تجویز میئر نے منظور کرلی ۔ واضح رہے کہ ۱۱ ؍اپریل۲۰۱۸ کو سابق کو آپٹ ممبر اے ٹی اے کے شیخ نے اپنی نجی مصروفیت کے سبب اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا ۔ جس کے بعد ڈویژنل کمشنر کی جانب سے ظاہر کردہ پروگرام کے مطابق اس عہدے کے لئے مجلس اتحاد المسلمین نے ابوالحسن ہاشمی کو امیدواری دی تھی اور الیکشن پروسیس مکمل ہوجانے کے بعد میونسپل کمشنر نے تمام قانونی باریکیوں کا جائزہ لینے کے بعد ابوالحسن ہاشمی کو کوآپٹ ممبر نامزد کرنے سے متعلق ایک تجویز میونسپل جنرل باڈی میٹنگ میں پیش کی تھی مگر بی جے پی اراکین نے اس کی سخت مخالفت کی تھی جس پر میئر نے اس معاملے کی مزید تحقیقات کرکے دوبارہ سے تجویز پیش کرنے کی ہدایت میونسپل کمشنر کو دی تھی ۔

جس کے بعد ایڈیشنل میونسپل کمشنر شری کرشن بھال سنگھ کی قیادت میں متعلقہ جانچ کمیٹی نے اس معاملہ کی تحقیقات کرنے کے بعد ابوالحسن ہاشمی کی امیدواری کو قانونی درست قرار دیا تھا اور پھر یہ تجویز دوبارہ سے جنرل باڈی میٹنگ میں پیش کی تھی مگر دوبارہ سے بی جے پی کارپوریٹرس نے اس تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے اس معاملہ میں اسٹیٹ الیکشن کمیشن سے گائیڈ لائن منگوانے کا مطالبہ کیا اور میئر نے اقتدار میں ساجھے دار بی جے پی کے کارپوریٹرس کی مانگ کو قبول کرتے ہوئے اس معاملہ پر الیکشن کمیشن کی رائے منگوانے کی رولنگ دی ۔ جس پر ابوالحسن ہاشمی نے انصاف کے لئے عدالت کا دروازہ کھٹکھٹایا اور فاضل پورہ عدالت نے میئر کوہدایت دی کہ وہ اس معاملے پر اپنی سطح پر فیصلہ کریں ۔

مگر بی جے پی اراکین کی مخالفت کے سبب میئر ابوالحسن ہاشمی کی کوآپٹ ممبر کی حیثیت سے نامزدگی کے لئے تیار نہیں ہوئے جس پر ابوالحسن ہاشمی نے ہائی کورٹ میں ان کے خلاف توہین عدالت کا مقدمہ چلانے کی درخواست داخل کی جس پر سماعت کے بعد عدالت نے میئر کو ہدایت دی کہ وہ اس معاملہ کو ۱۲؍ فروری سے پہلے حل کرلیں ۔ لہذا گزشتہ روز منعقدہ جنرل باڈی میٹنگ میں اپوزیشن لیڈر ضمیر احمد قادری ایم آئی ایم کے گروپ لیڈر ناصر صدیقی ، عبدالرحیم نائیکواڑے اور دیگر نے جب میئر سے اس قرارداد کو منظور کرنے کا مطالبہ کیا تو ایکبار پھر بی جے پی کے کارپوریٹرس نے اس کی مخالفت شروع کردی مگر اپوزیشن نے اس معاملے پر میونسپل کمشنر سے وضاحت طلب کرنے کا مطالبہ کیا اور میونسپل کمشنر ڈاکٹر نپون ونائک کی وضاحت کے بعد میئر نے قرار داد منظور کرلی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.