صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

۔۔۔ تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو؟

545

نہال صغیر

بدنام زمانہ سہراب الدین فرضی انکائونٹر مقدمہ میں سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے سارے ملزمین کو باعزت بری کردیا ۔مذکورہ فیصلہ  پر اشوک چوہان نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ کیا سہراب الدین نے خود ہی اپنے آپ کو ہلاک کیا تھا ۔یہ سوال ویسا ہی جیسا کہ جسیکا لال قتل میں ملزمین کو بری کردینےکے بعد  سوال اٹھایا گیا تھا کہ جسیکا کو کس نے مارا ۔یوں تو وطن عزیز میں قانون کو مذاق بنا دینے کا رواج کوئی نیا نہیں ہے لیکن موجودہ حکومت میں وہ سارے قاتل اور دیگر مجرمین باعزت بری کئے جارہے ہیں جن کے بارے میں عوام کی زبانوں پر بھی یہ الفاظ جاری ہوتے ہیں کہ حقیقت میں یہ قاتل ہے ۔عوام کی زبانوں پر یہ الفاظ یوں ہی نہیں آئے ہیں اس کے پیچھے کئی منطقی دلیل ہے ۔لیکن یہاں تو ساری دلیلیں اور ثبوت نظر انداز کردینے کا نام ہی منصفی ہے ۔ایسے حالات میں مرحوم شاعر ڈاکٹر کلیل عاجز نے کہاتھا

؎ دامن پہ کوئی چھینٹ نہ خنجر پہ کوئی داغ /تم قتل کرو ہو کہ کرامات کرو ہو

 ویسے مقدمہ کے دوران ہی یہ اندازہ کیا جارہا تھا کہ اس کے فیصلہ کی نوعیت کیا ہوگی ۔ویسے بھی ایسے دور میں جب کہ جج کی مشتبہ موت پر سپریم کورٹ یہ فرمان جاری کرے کہ اس کی دوبارہ تفتیش کی ضرورت نہیں کےبعداب عوام یہ سمجھنے لگے ہیں کہ اس طرح کے فیصلے کیلئے خود کوذہنی طور سے تیار کرلیا جائےتاکہ ذہنی کشمکش اور تنائو سے بچا جاسکے ۔ مقدمہ کی سماعت کے دوران عدالتی کارروائی کور کرنے والے کئی رپورٹر سے گفتگو ہوئی تو انہوں نے اسی طرح کے کسی فیصلہ کی امید جتائی تھی ۔ ہم یہاں وہ الفاظ نہیں لکھ سکتے جو مذکورہ رپورٹر نے مقدمہ کے جج کے تعلق سے کہے تھے ۔اس سے قبل ایک ٹرین بم دھماکہ مقدمہ میں بھی ذیلی عدالت کے فیصلہ پر ایس ایم مشرف نے طنز کرتےہوئے کہا تھا کہ یہ پہلے جج ہیں جنہوں اتنے صفحات پر مشتمل فیصلہ لکھا ہے ۔ایس ایم مشرف نے اس وقت کہا تھا کہ جج نے کئی حقائق جس سے بے گناہ بری ہو سکتے تھے اسے مقدمہ میں جرح کا موضوع ہی نہیں بنایا اور پولس کی بنائی ہوئی لائن پر فیصلہ سنادیا ۔اس کے برعکس یہاں جج نے ان نکات پر دھیان نہیں دیا اس پر مزید تفتیش کی ضرورت محسوس نہیں کی جو ملزمین کو مجرم ثابت کرسکے ۔ یعنی منصف پہلے سے طے کرنے لگے ہیں کہ انہیں کون سے شواہد کو مقدمہ میں شامل کرنا ہے اور کس کو نہیں تاکہ اس کا فائدہ اپنے ہم خیال لوگوں ،گروہوں کو دیا جاسکے ۔


اس طرح کے فیصلوں سےمنظور نظر لوگ بھلے ہی سزائوں سے بچ جائیں لیکن اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہوگا کہ عوام میں عدلیہ کا وقار اور قانون کی بالادستی پر اعتماد و یقین اٹھ جائے گا نیز ان کے دلوں سے اس  کااحترام بھی جاتا رہے گا ۔جس کے خطرناک نتائج میں سے ایک یہ ہوگا کہ بے چینی اور عدم اطمینان میں اضافہ ہوگا جس سے بد امنی کی فضا پروان چڑھے گی اور ایک خاص طبقہ کو یہ محسوس ہوگا کہ اسے نظام عدالت سے انصاف نہیں ملے گا ۔یہ سوچ انہیں قانون ہاتھ میں لینے کو مجبور کرے گا اور نتیجہ کے طور پر وہ ماورائے عدالت انتقام کے جذبے سے اپنا فیصلہ خود کرنے کو مجبور محسوس کریں گے ۔ کیا اس طرح کی سوچ اور اس کو پروان چڑھانے والے حالات کسی بھی طرح امن و امان کی فضا بحال کرنے میں معاون ہو سکتے ہیں ؟ ہر گز نہیں ایسا کبھی نہیں ہو سکتا ۔ پھر کیوں نہ ہم اس جانب قدم بڑھائیں جہاں ہر شخص یہ محسوس کرے کہ عدالت ہی وہ جگہ ہے جہاں سے اسے انصاف مل سکتا ہے ۔

اس کیلئے ضروری ہے کہ ہم ان حالات کو معمول پر لانے کی کوشش کریں جہاں انصاف ہر شخص کی پہنچ میں ہو اور وہ عدلیہ سے کبھی مایوس نہ ہو ۔ ایسے حالات بنانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم ذات و مذہب اور اثر رسوخ کی بنیاد پر کسی کی بے جا حمایت سے دست بردار ہو کر مجرم کو مجرم کی ہی نظر سے دیکھیں ۔ہم دیکھ رہے ہیں کہ ایک تو پہلے سے ہی نظام عدالت میں اتنی خامیاں در آئی ہیں کہ ایک عام انسان جس کے وسائل انتہائی محدود ہیں وہ عداسسے انصاف کی امید ہی نہیں رکھتا ۔اس پر یہ کہ اس طرح کے فیصلے سے رہی سہی امیدیں بھی ٹوٹ جائیں گی۔فی الوقت تو کچھ لوگوں یاطبقہ کو یہ فیصلہ اچھا لگ سکتا ہے ۔کیوں کہ ان کی پارٹی یا لیڈر کو بری کیاگیا ہے لیکن ملک کے اجتماعی مفاد میں یہ درست نہیں ہے ۔ محض کسی ایک فیصلہ سے انصاف کے تقاضے پورے نہیں ہو جاتے ۔ انصاف کے تقاضوں میں سے ایک یہ ہے کہ وہ نظر آنا چاہئے اور اکثریت اسے تسلیم کرلے کہ ہاں انصاف کیا گیا ہے اور یہ کہ اس میں عدالت نے اپنی ذمہ داری پوری ایمانداری سے ادا کی ہے ۔ مذکورہ عدالتی فیصلہ میں تو یہی سوال کیا جاسکتا ہے کہ کیا سہراب الدین نے خود کشی کی تھی ؟

Leave A Reply

Your email address will not be published.