صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بیس طلبا پر اقلیتی اسکولوں کو ٹیچر دیئے جانے کے مطالبہ کی حمایت میں اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کی ممبئی ہائی کورٹ میں عرضی  داخل

439

اورنگ آباد : (نامہ نگار)اقلیتی اسکولوں کو بھی مفت و لازمی تعلیم کا حق قانون کے تحت 30 طلبا پر ایک ٹیچر کا عہدہ منظور کر ٹیچر دیئے جاتے ہیں،جو اقلیتی سماج کے مدارس خاص طور پر اردو میڈیم اساتذہ کے ساتھ بڑی نا انصافی کے مترادف ہے ۔ اردو اساتذہ کی سیکڑوں کی تعداد میں سرپلس کی تعداد کو دیکھتے ہوئے،اساتذہ و طلبا کے لئے مسلسل جہدوجہد کرنے والی تنظیم اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے ممبئی ہائی کورٹ کی اورنگ آباد برانچ میں ایک رٹ پٹیشن وکیل پرمود گپت کی معرفت داخل کی ہے ۔ اور مطالبہ کیا گیا ہے کہ اقلیتی اسکولوں کو 20 طلبا پر ٹیچر کا عہدہ منظور کرتے ہوئے اساتذہ کی منظوری دی جائے۔ جسکا نمبر 23794/2018 ہے ۔ اسطرح کی معلومات اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ کے متحرک ریاستی صدر محبوب تامبولی،ریاستی جنرل سکریٹری و بانی ساجد نثار احمد ، خاتوں یونٹ ریاستی صدر ناہید خاتون ، نے دی ہے ۔ عیاں رہے کہ ریاست میں اقلیتی اسکولوں اردو میڈیم  مدارس کو بھی مفت لازمی تعلیم کا حق قانون و دیگر حکمنامہ کے تحت 30 طلبا پر ایک ٹیچر کا عہدہ منظور کیا جا رہا ہے ۔ جو کہ اردو میڈیم کے ساتھ نا انصافی ہے ۔ جس سے بے شمار اردو اساتذہ سرپلس ہو رہے ہیں نیز اردو میڈیم اسکولوں میں اساتذہ کی کمی شدت سے محسوس کی جارہی ہے ۔ اقلیتی اسکولوں کو دیا گیا اختیار ختم کیا جارہا ہے ۔ اس سے قبل بھی کورٹ کی جانب سے اقلیتی اسکولوں کو 20 طلبا پر اساتذہ کی منتخبی کا فیصلہ دیا جا چکا ہے مگر افسر شاہی کی وجہ سے حکومتی حکمنامہ جاری نہیں کیا گیا ۔ اکھل بھارتیہ اردو شکشک سنگھ نے جمہوری طرز پر قانونی لڑائی جاری رکھتے ہوئے کیس کو جیت کر جی آر نکالنے تک عملی جدوجہد کا عزم کیا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.