صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اردو کارواں کا شاعر مشرق علامہ اقبال کو خراج عقیدت

ہندوستان کی عظمت و وقار کا جن جذبات کے ساتھ اقبال نے اظہار کیا ہے اس کی نظیر نہیں

488

ممبئی:  اردو کارواں ممبئی نے علامہ اقبال کے یوم پیدائش کے موقع پر علامہ اقبال چوک ‘این یو کتاب گھر نزد سپنا کولڈ ڈرنک پر شاعر مشرق کو خراج عقیدت پیش کیا۔ اردو کارواں کے کنوینر فرید احمد خان نے کہا کہ نہ صرف اردو ادب بلکہ ملک اور عوام کو ہمیشہ فخر رہے گا کہ انکی تہذیب،تمدن اور فکر میں علامہ کے فکر و نظریات شامل ہیں۔انہوں نے اپنے کلام کے ذریعہ متحرک رہنے کا پیغام دیا۔ نئی سوچ نئی جہت عطا کی۔ ہندوستان کے لیے دو قومی ترانوں کا انتخاب کیا گیا ۔ایک ترانے کے خالق بنگلہ ادب کے روح رواں رابندر ناتھ ٹیگور تو دوسرے ترانے کے خالق کوئی اور نہیں ۔ ڈاکٹر محمد اقبال ہیں۔ سارے جہاں سے اچھا ہندوستاں ہمارا ،اس ترانے سے بھلا کون واقف نہیں ہے۔ اس ترانے میں وطن سے محبوبیت کا احساس ہر مصرعے میں ہوتا ہے۔ہندوستان کی عظمت و وقار کا جن جذبات کے ساتھ اقبال نے اظہار کیا ہے اس کی نظیر نہیں۔انہوں نے مزید کہا کہ ہماری قوم کے یہ بزرگ وہ کارہاے نمایاں انجام دے کر گئے ہیں کہ جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے مگر افسوس! ہم اپنی نسلوں کو ان بزرگوں کی کاوشیں ،جدوجہد قوم کے لیے ہمدردی کا بے پناہ جذبہ حب الوطنی کے متعلق کچھ بتاتے ہی نہیں ،اس کے لیے نہ ہمارے پاس فرصت ہے اور نہ ہی جذبہ، انہوں نے کہا کہ میں برادران وطن سے،قوم کے ہر فرد سے گذارش کرتا ہوں کہ وہ موجودہ نسل کو ان بزرگوں سے متعارف کرائیں ان کے متعلق باتیں کریں ۔انٹر نیٹ اور اینڈرائیڈ موبائل کے اس دور میں اردو زبان و ادب ،مصنفین شعراء و ادبا کو تلاش کرنے میں ان بچوں کی رہنمائی کریں۔  علامہ کے کلام ، اور ان کے فلسفہ خودی و رموز بے خودی پر گفتگو کے ذریعے دلچسپی پیدا کریں۔ بتائیں کہ شکوہ جواب شکوہ لازوال کیوں ہے۔میں اس وقت جہاں پر کھڑا ہو کر اپنی بات آپ کے سامنے رکھ رہا ہوں اس چوراہے کو علامہ اقبال کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔ لیکن ہم میں سے کتنے لوگ اس چوراہے کا اصل نام لیتے ہیں جے جے زبان زد خاص و عام ہےاسی طرح مرزا غالب ‘مولانا حسرت موہانی ‘مولانا ابولکالام آزاد کے نام سے راستے اور چوراہوں کو منسوب کیا گیا ہے مگر یہ شاہراہیں کہیں کلیر روڈ تو کہیں جے جےکے نام سے لوگوں کی زبان پر ہیں اور اس کی اہم وجہ یہی ہے کہ خود ہماری زبانوں پر ہمارے بزرگوں کے نام جلد نہیں آتے تو ہم اپنی نسلوں کی کیا اور کیسے رہنمائی کریںگے۔ آج ہم اس پر آشوب دور میں جی رہے ہیں جہاں تاریخ کے ساتھ بڑی سفاکی و بے رحمی سے چھیڑ چھاڑ کی جا رہی ہے۔  ذرا سوچیں،یہ لمحہء فکریہ ہے کہ اگر ہم نے اب بھی اپنے بزرگوں کی محنت و جدو جہد وطن کے کے لیے جان لٹادینے اردو زبان و ادب کو ایک درخشاں تاریخ اور ہندستان کی تہذیب و تمدن میں تعاون دینے کی باتیں ان کی بہادری کے قصے نہ بتائیں تو کیا ہوگا؟ کیا یہ نسل کم مائیگی اور احساس کمتری کے بوجھ تلے جی سکے گی؟ علامہ اقبال اردو ادب میں ایک درخشاں ستارے کا نام ہے۔ یہ وہ نام ہے جنہوں نے اپنی شاعری کے ذریعے تبلیغ کا کام لیا اسلاف کے ذریں کارناموں کو قوم کے نوجوانوں کے سامنے رکھا انہیں ترغیب دی کہ تمیں بھی متحرک رہنا ہے ۔ عمل کا پیغام دیا۔ کوشش اور مسلسل جدوجہد میں ہی زندگی کی حرارت پوشیدہ ہے۔ ہمیں فخر ہے کہ علامہ اقبال کی فکر ان کا فلسفہ ہماری میراث ہے۔  اس میراث کو قایم رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ پروگرام کے آخر میں سارے جہاں سے اچھا پڑھا گیا۔پروگرام میں خاص نظارہ جو دیکھنے کو ملا وہ یہ تھا کہ راہگیر بھی اس پروگرام کا حصہ بنتے جارہے تھے۔ پروگرام میں معروف سماجی کارکن وسیم سید ، ‘ایس ایم آصف ،یونس شیخ،عاشقان اقبال عبدالحمید ،آصف قریشی ،عقیل انصاری، محمد علی فاران خان اور اردو کارواں ممبئی کی کو آر ڈینیٹرپروفیسر شبانہ خان اور دیگر عاشقان اردو موجود تھے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.