صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ممبئی میں رمضان کے موقع پرمساجد کے ساتھ ہی حاجی علی،مخدوم شاہ، شیخ مصری ، بہاؤ الدین شاہ سمیت اللہ والوں کے آستانوں پرخصوصی اہتمام

77,711

ممبئی میں رمضان کے موقع پرمساجد کے ساتھ ہی حاجی علی،مخدوم شاہ، شیخ مصری ، بہاؤ الدین شاہ سمیت اللہ والوں کے آستانوں پرخصوصی اہتمام


عروس البلاد ممبئی میں ویسے تو کئی بڑی مسلم آبادی واقع ہیں،لیکن جنوبی چفممثبئی میں کرافورڈ مارکیٹ سے بائیکلہ اور ممبئی سینٹرل کے درمیان 4،مربع کلومیٹر کے علاقے میں گنجان آبادی واقع ہے۔مضافاتی علاقوں میں جنوب وسطی اور شمال وسطی ممبئی میں متعدد ایسے علاقے واقع ہیں،بگٹجہاں مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے ،لیکن یہاں اس بات کو بھی پیش کردیں کہ عروس البلاد کے بارے میں عام طورپر کہا جاتا ہے کہ یہاں اللہ والوں کا سایہ ہے ،یہی سبب ہے کہ ایک عام عقیدہ ہے کہ شہر ممبئی بڑے بڑے حادثات کے بعد فوراً ابھرجاتا ہے۔
جنوبی ممبئی میں بحرعرب میں واقع مشہور حاجی علی باباؒکے مزار سے انکم ٹیکس صدردفتر کے احاطہ میں حضرت بہاﺅالدین شاہ باباؒکا مزار،ماہم کے ساحل پر واقع حضرت مخدوم شاہ باباؒاور ڈونگری کے حضرت عبدالرحمن شاہ بابا ؒاور حضرت شیخ مصری ؒسمیت لاتعداد اللہ والے شہر کے مختلف علاقوں میں آرام فرما ہیں جبکہ ویسے تو ولی اللہ کے آستانوں پر سال کے بارہ مہینے جم غفیر رہتا ہے ،لیکن جمعرات اور اتوار کو یہاں تل دھرنے کی جگہ نہیں ہوتی ہے۔ماہ رمضان میں ایسا لگتا ہے کہ پورا شہر امڈ آیاہے۔حاجی علی کا مزار کوسٹل روڈ کی وجہ سے عام شاہراہ سے کم نظر آرہا ہے،لیکن یہاں آنے والوں کی تعداد میں کوئی کمی واقع نہیں ہوئی ہے۔کوس روڈے نیچے سے ایک سرنگ بنادی گئی ہے۔
عیدالفطر کے دوسرے روزحاجی علی رح کے آستانہ پر جسے عام طورپر’باسی عید‘کہا جاتا ہے ،عرس منعقد کیا جاتا ہے اورلاکھوں کی تعداد میں زائرین یہاں آتے ہیں اور انتظامیہ کو خصوصی بسوں اور حفاظتی انتظامات کرنے پڑتے ہیں۔اسی شاہراہ پر تقریباً7کلومیٹر کے فاصلہ پر ماہم میں حضرت مخدوم مہائمی فقی کا مزارلب سڑک واقع ہے،ان دونوں مزار کی دیکھ بھال کی ذمہ داری عبدالستارمرچنٹ کے ہاتھوں میں رہی لیکن ضیعف العمری کی وجہ سے سرگرم نہیں رہے اور اب محمد سہیل کھنڈوانی اپنے معاوئین کے ہمراہ بخوبی نبھارہے ہیں۔
ان دونوں مقامات پر ماہ صیام میں نمازعشاءاور تراویح کے بعد زائرین کے آنے کا سلسلہ رات بھر جاری رہتا ہے ،البتہ حاجی علیؒ درگاہ پر جانے کے لیے مدوجزر کے سبب اوقات مقررکیے گئے ہیں۔یہاں مذہب وملت بلاتفریق زیارت کے لیے آتے ہیں اور کسی طرح کی کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ان درگاہوں کی چندے کے طورپر جمع ہونے والے فنڈ سے ضرورت مندمسلمانوں کو تعلیمی،طبّی ضروریات کے تحت مالی مدد کی جاتی ہے ۔


ماہم میں واقع حضرت مخدوم شاہ ؒ کا کتابت کردہ قرآن شریف کے نایاب نسخہ کی ماہ رمضان کی 27ویں شب (شب قدر) پر عام لوگوں کو زیارت کرائی جاتی ہے اور اس موقع پر ہزاروں افراد یہیں عبادت کرتے ہیں اور قرآن کی زیارت کرتے ہیں۔حضرت مخدوم ؒ نے علم فقہ پر متعدد کتابیں تحریر کی ہیں اور ان کاکتابت کردہ قرآن شریف ایک نایاب تحفہ ہے۔مزارٹرسٹ چیئرمین محمد سہیل کھنڈوانی نے اپنی سربراہی میں اس فنڈ کے استعمال کا طریقہ کار ہی بدل دیا ہے، جس سے قوم کے حاجت مند اور ضرورت مند افراد فیض اٹھارہے ،ماہ رمضان میں درگاہ اور متصل مسجدکے دروازے رات بھر عبادت گزاروں اور زائرین کے لیے کھلے رہتے ہیں،مزار کے احاطہ میں ایک کتب خانہ اور این جی او وغیرہ کے تعاون سے مسلم بچوں کے لیے کمپیوٹر کلاسیس کا اہتمام بھی کیا گیاہے ۔ماہم کی آبادی کوکنی اور میمن مسلم برادری پر مشتمل ہے ،سہیل کے چچا آمین کھنڈوانی مشہور سیاستدان اور حج کمیٹی اور اقلیتی کمیشن کے چیئرمین رہے تھے۔


مشہور قانون داں اور راجیہ سبھا میں این سی پی کے ممبرایڈوکیٹ مجید میمن اور اقبال گایا بھی یہیں سے تعلق رکھتے ہیں،مجید میمن باندرہ منتقل ہوگئے ہیں ،ماہم جزیرہ نماءممبئی کا وہ علاقہ ہے ،جہاں سے کھاڑی پار مضافات کی شروعات ہوجاتی ہے۔اور پہلا مقام باندرہ واقع ہے ۔ماہم میں تعلیم یافتہ مسلمانوں کی اکثریت آباد ہے ،حالانکہ چند غریب بستیاں بھی اطراف میں واقع ہیں ،لیکن یہ حقیقت ہے کہ یہاں کے لوگ خیراتی کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیے ہیں اور ماہ رمضان میں اس میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ماہم پولیس اسٹیشن کی جانب سے حضرت مخدوم مہائمی کے عرس کے موقع پر پہلا صندل پیش کیا جاتا ہے اور یہ رواج کئی سوسال سے جاری ہے۔حالانکہ باندرہ ایک متمول علاؤہ ہے،لیکن جماعت جمہوریہ،بازار روڈاور اولڈ کھار کی بستیاں متوسط طبقہ پر مشتمل ہیں۔اسٹیشن روڈ،پالی مارکیٹ،بازار روڈ ،لکی ہوٹل اور باندرہ اسٹیشن مسجد کے اردگرد کی بستیوں میں ماہ رمضان میں رونق ہو جاتی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.