صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مہاراشٹر میں بدعنوانی کے ذریعے کمائے ہوئے پیسے سے کرناٹک میں حکومت گرانے کی کوشش کی جارہی ہے

اشوک چوہان نے جارحانہ انداز میں کہا کرناٹک حکومت کے مستقبل کی فکر کرنے کی بجائے ریاست کے وزراء اپنی ناکامیوں کی فکرکریں

450

ممبئی: اپنے محکمے کا کام سے متعلق دوسرے وزراء سے دریافت کرنے والے مہاراشٹر کے وزراء کرناٹک حکومت کے مستقبل کی فکر کرنے کے بجائے اپنی ناکامیوں اور ریاست کواس سے ہونے والے نقصان کی فکر کریں ، تو زیادہ بہتر ہوگا ۔ یہ باتیں آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کیمٹی کے صدر ایم پی اشوک چوہان نے ریاستی وزیر رام شندے پر تنقید کرتے ہوئے کہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ جل یُکت شیوار گھوٹالہ کی وجہ سے ریاست کا معاشی نقصان تو ہوا ہی ہے ، کسانوں کو خشک سالی میں ڈھکیلنے کی کوشش بھی رام شندے کے محکمہ نے کیا ہے ۔ ریاست میں ٹینکروں کی بڑھتی تعداد حکومت کی ناکامی کا کھلا مظہر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ کرناٹک میں سرکار کی فکر کرنے کی بجائے ان وزراء کو چاہئے کہ وہ کسانوں کی خودکشی وخشک سالی جیسے سنگین مسائل پر اپنی توجہ دیں ۔
کرناٹک میں حکومت چلانے کے لئے کانگریس وسیکولر جنتا دل کے لیڈران کافی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ مرکز میں بی جے پی حکومت آنے کے بعد سے حکومت کا بڑے پیمانے پرناجائز استعمال کیا جارہا ہے ۔ کسی بھی طرح سے اقتدار حاصل کرنے کے لئے پیسہ و سرکاری مشینری کا غلط استعمال بی جے پی کا طریقہ کار بن گیا ہے ۔ بی جے پی نے اخلاقیات کو طاق پر رکھ دیا ہے ۔ آئینی وجمہوری عمل پر بی جے پی کو یقین نہیں ہے ، یہ اس معاملے سے ایک بار پھر ثابت ہوتا ہے اور مودی وشاہ کا ہوسِ اقتدرا کا چہرہ بے نقاب ہوا ہے ۔ اشوک چوہان نے کہا کہ گجرات میں اسمبلی ممبران کو توڑنا ، اتراکھنڈ ، اروناچل پردیش ، منی پور ، گوا ، بہار ، جموں کشمیر ، تامل ناڈو وغیرہ میں گورنر جیسے آئینی عہدے کا غلط استعمال کرکے سرکار بنانے کی کوشش کرنا ، حکومت کا غلط استعمال کرکے ایم ایل ایز کو بغاوت پر آمادہ کرنا ، انہیں توڑنا ، پیسوں کا بڑے پیمانے پر استعمال کرکے مختلف ریاستوں میں حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش مودی وشاہ کررہے ہیں ۔
انہوں نے کہا کہ کرناٹک حکومت کو کمزور کرنے کے لئے مہاراشٹر میں بدعنوانی کے ذریعے کمایا ہوا پیسہ استعمال کیا جارہا ہے ۔ اشوک چوہان نے کہا کہ کون سے وزیر کے بنگلے اور کن فائیو اسٹار ہوٹلوں میں میٹنگیں ہورہی ہیں، یہ سب ہمیں معلوم ہیں ۔ کرناٹک میں کانگریس کی حکومت قائم ہونے سے قبل ہی اس غیراخلاقی طریقے کا استعمال مودی وشاہ کی جوڑی نے کرنا شروع کردیا تھا ۔ لیکن اس مطلق العنان و فاششٹ نظریات کی حکومت کی مخالفت کرتے ہوئے کرناٹک میں کانگریس کی حکومت مکمل طور پر مستحکم ہوگی اور اپنی مدت کار پوری کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ پارلیمانی انتخابات میں ملک کی عوام بی جے پی کے سرسے اقتدار کا نشہ اتارے بغیر نہیں رہے گی ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.