صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ڈاکٹر ریحان انصاری کے سانحہ ارتحال پر بھیونڈی میں تعزیتی نشست

ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا ’کیا دلدوز منظر تھا ایک معالج ہم سے رخصت ہورہا تھا اور ہم طبیب ، اللہ کی مرضی کے سامنے طب اورسائنس کی نارسائی پر کفِ افسوس مل رہے تھے

520

بھیونڈی :(عارِف اگاسکر)معروف صحافی ، بہترین کاتب ، آرٹسٹ اورفیض نستعلیق فونٹ کے خالق اور شعبۂ طب کے ذریعہ شناخت بنانے والے ڈاکٹرریحان انصاری (مرحوم) کے نا گہانی سانحہ ارتحال پرگذشتہ منگل کی شام میں ڈاکٹر اسلم ایوب انصاری کی صدارت میں بھیونڈی یونانی ڈاکٹرس اسو سی ایشن کے زیر اہتمام بھیونڈی کے باغ فردوس مسجد کے پاس واقع صنوبر ہال میں ایک تعزیتی نشست کا انعقاد کیا گیا تھا ۔ اس موقع پر شعبہ طب سے وابسطہ ڈاکٹروں کے علاوہ ہفتہ روزہ صبح و شام کے مالک و مدیر عبد الجلیل انصاری ، ڈاکٹر ریحان کے فرزند رضی انصاری ، مرحوم کے متعلقین ، اہلِ خانہ اور شہر کے ادباء ، شعراء سمیت بڑی تعداد میں علم دوست حضرات نے شرکت کی ۔

تعزیتی نشست کی تقریب کا آغازڈاکٹر کامل انصاری کے ذریعے تلاوت کلام سے کیا گیا۔تقریب کی ابتدا میں ڈاکٹر عبد الحفیظ انصاری نے مرحوم ڈاکٹر ریحان انصاری کی حیات اور کارہائے نمایاں کاذکر کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ناگہانی موت سے علمی ، فنّی ،ادبی ، صحافتی و طبّی حلقے میں جو خلا پیدا ہوا ہے اس کی تلافی آسان نہیں۔ا س تعزیتی تقریب میں مرحوم کے اخیر وقت میں قریب رہنے والے ڈاکٹر عبدالسلام نے کہا کہ ’کیا دلدوز منظر تھا ایک معالج ہم سے رخصت ہورہا تھا اور ہم طبیب ، اللہ کی مرضی کے سامنے طب اورسائنس کی نارسائی پر کفِ افسوس مل رہے تھے ۔ مشہور معالج ڈاکٹر اسرار غلام محمد مومن نے مرحوم ریحان کی ذہانت و لیاقت کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے فرمایا کہ ’میں نے ان کی صلاحیتوں کے پیشِ نظر جب کہا کہ ریحان تُم نے ایم بی بی ایس میں داخلہ کیوں نہیں لیا تو انھوں نے بڑی سادگی سے جواب دیاتھا ’ڈاکٹر صاحب ! سب قسمت کا کھیل ہے‘ اس سانحے پر ڈاکٹر ابو طالب انصاری نے مرحوم کی گوناں گو صفات پر روشنی ڈالی ۔

شہر کے معروف ڈاکٹر اور کے ایم ای سوسائٹی کے جنرل سکریٹری ڈاکٹر مصدّق پٹیل نے مرحوم کی اردو دوستی اور ان کے طبّی مضامین کی افادیت کا ذکر کیا ۔ رئیس جو نیئر کالج کے سابق وائس پرنسپل عبدالعزیز انصاری نے ’ای لائبریری کے زیرِ اہتمام جاری ’کتابت کلاس‘ کے حوالے سے ڈاکٹر ریحان کی فن کتابت اور خطاطی سے ان کی دلچسپی اور اس فن کے فروغ کیلئے مستقبل کی منصوبہ بندی اور فکر مندی کا ذکر کرتے ہوئے انھیں بھر پور خراج پیش کیا ۔ اس تعزیتی تقریب سے ڈاکٹر انتخاب شیخ ، ڈاکٹر زبیر شیخ ، ڈاکٹر مظہر جمیل انصاری ، ڈاکٹر اصغر علی انصاری ، ڈاکٹر شگفتہ ، ڈاکٹر نوید مومن ، ڈاکٹر مظہر انصاری ، ڈاکٹر ستیم بٹلا ، عبدالجلیل انصاری اورڈاکٹر ریحان کے فرزند رضی انصاری نے خطاب کیا ۔ اس تعزیتی تقریب میں مرحوم کے متعلقین اور اہلِ خانہ کے علاوہ شہر کے ادباء ، شعراء اور علم دوست بڑی تعدا د میں شریک ہوئے ۔ نظامت کا فریضہ ڈاکٹر مرحوم کے دیرینہ دوست اور دم ساز ڈاکٹر عبد الحفیظ انصاری نے انجام دیا اور دعائیہ کلمات پر تقریب کے اختتام کا اعلان ہوا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.