صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

کیا بابا بنگالی کسی ایم ایل اے کا نام ہے ؟ ابو عاصم اعظمی

55,549

ممبئی : ایک صحافی کے ذریعہ کچھ پوچھے جانے پر مہاراشٹر کے رکن اسمبلی ابو عاصم اعظمی نے صحافی سے سوال کیا کہ کیا بابا بنگالی کسی ایم ایل اے کا نام ہے ؟ اصل میں صحافی نے ان سے سوال کیا تھا کہ کسی بھی شخص کے ذریعہ کوئی بل اسمبلی میں پیش کیا جاسکتا ہے ؟ یہ کوئی عام آدمی کے کرنے کا کام تو نہیں ہے ؟ استفسار پر صحافی نے کہا کہ بابا بنگالی اور رضا اکیڈمی نے مل کر ایک پرائیویٹ بل ڈرافٹ کیا ہے ، جس کا مقصد مذہبی شخصیات کی توہین پر قدغن لگانا ہے ؟ اسی پر ابو عاصم اعظمی نے سوال کیا کہ بنگالی بابا کیا کسی ایم ایل اے کا نام ہے ؟

واضح ہو کہ بابا بنگالی جسے عرف عام میں معین اشرف کہا جاتا ہے اور جو ناگپاڑہ اور آگڑی پاڑہ پولس اسٹیشن کے حلقوں میں اپنے مخالفین کیخلاف فرضی ایف آئی آر درج کرواکر دہشت کا ماحول بنائے ہوا تھا اور جو آزاد میدان فسادات اور قتل کا اہم ملزم بھی ہے نے رضا اکیڈمی سے مل کر ایک پرائیویٹ بل پر روز ایک عدد بیان اردو کے چاپلوس اخباروں میں شائع کرواتا رہتا ہے ۔ اسی کو دیکھتے ہوئے صحافی نے یہ سوال ابو عاصم اعظمی سے پوچھا تھا ۔

ابو عاصم اعظمی نے بھی اس کا معقول جواب دیا کہ توہین رسالت سے انہیں تکلیف ہوئی ہوگی اور ہونا بھی چاہئے اس سے ہر مسلمان کو تکلیف ہوتی ہے ۔ عاصم نے کہا اس معاملہ پر تنہا مفاد کی کھیتی کرنے کی بجائے تمام مسلم ایم ایل اے کو بلا کر ان سے گفتگو کرنے کے بعد ہی ایک جامع توہین مذہبی شخصیات بل اسمبلی میں پیش کیا جانا چاہئے اور توہین رسالت کو دہشت گردی جیسے سنگین جرم کی فہرست میں رکھنا چاہئے ۔

صحافی کے ذریعہ پوچھے جانے والے سوال اور ابو عاصم اعظمی کے ذریعہ اس کے جواب کا پس منظر بھی عوام کی نظروں سے اوجھل ہے ۔اصل میں کئی ماہ قبل بابا بنگالی یعنی معین اشرف کا ایک دست راست آصف سردار منشیات کے ساتھ گرفتار ہوگیا تھا جس کی وجہ سے معین اشرف کی امیج کافی خراب ہوگئی تھی اور مسلم عوام کی نظروں میں وہ مزید گرگیا ۔ اسی کو مسلم عوام کے دماغ سے نکالنے کے لئے آصف سردار کی گرفتاری کے دو تین روز بعد سے ہی معین اشرف اور رضا اکیڈمی نے یہ ڈرامہ بازی شروع کردی ۔

توہین مذہبی شخصیات مخالف بل یا پروفیٹ محمدﷺ بل پر ورلڈ اردو نیوز میں تفصیل سے اس کی خبر شائع ہوچکی ہے ۔ جس میں ماہرین قانون اور رکن اسمبلی تک کی رائے واضح طور سے پیش کی گئی ہے ۔ مذکورہ بل کو کپل پاٹل جو گریجویٹ حلقہ سے رکن اسمبلی ہیں کے ذریعہ یہ بل پیش کیا گیا اور اب یہ بل لا اینڈ جسٹس شعبہ میں نظر ثانی کیلئے ہے ۔

سیاسی مقاصد کے لیے ’’پیغمبر محمد ﷺ بل‘‘ پیش کرنے کا الزام۔ ڈرافٹ کمیٹی نے الزامات مسترد کیے

مگر بابا بنگالی اور رضااکیڈمی کے سعید نوری اس بل کے بہانے اپنا قد بلند کرنے کے مقصد سے استقبالیہ قبول کررہے ہیں اور ایوارڈ لے رہے ہیں ۔ بھلا محمد ﷺ کی حرمت پر مٹنے کا دعویٰ کرنے والوں کو اس طرح کی دنیاداری سے کیا سروکار مگر جب حب نبی ﷺ یا دین کی باتیں حصول دنیا کے مقصد سےکی جائیں تو کچھ بھی کیا جاسکتا ہے ۔

ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ پرکاش امبیڈکر سے اپنی قربت بڑھانے اور سیاسی طاقت میں اضافہ کیلئے معین اشرف اور رضا اکیڈمی نے مل کر مسلمانوں کا جذباتی استحصال کرنے کیلئے پیغمبر محمدﷺ بل کو مشتہر کیا ہے ۔ یعنی مذکورہ بل کی حمایت اور اس تعلق سے اخباری بیان محض اپنی شہرت اور مسلمانوں میں اپنی بگڑتی ساکھ کو بحال کرنا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.