صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بی جے پی کے لیڈر اور مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی کارپوریشن کے چیئر مین کی بیوی بنگلہ دیشی شہری!

فرضی پتہ پر ایک بنگلہ دیشی شہری کا ہندوستانی پاسپورٹ بنادیا گیا ،اوپر کا دبائو بتا کر مالونی پولس نے خفیہ محکمہ کا ایف آر درج کرنے سے انکار کیا

790

ممبئی : ایک ہندی روزنامہ کے ٹائٹل پر یہ تحریر ’سب کی خبر لے‘ اس وقت درست ثابت ہوئی جب اس نے ایک اہم بی جے پی لیڈر کی خبر لے ہی لی ۔ خبر کے مطابق ممبئی اور مہاراشٹر کے ایک مسلم نام والے لیڈر کی بیوی کا پاسپورٹ اس کے باوجود بنا دیا گیا جب کہ ان کا دیا گیا مغربی بنگال کا پتہ فرضی ثابت ہوا ۔ ممبئی پولس کے خفیہ محکمہ کا اہلکار اس سے سلسلے میں مقامی پولس اسٹیشن بیٹھ کر چلا آیا لیکن اس کی ایف آئی آر نہیں لی گئی ۔ سینئر پولس افسر نے بتایا کہ اوپر سے پریشر ہے ۔ موجودہ حکومت یعنی مودی کی آمد کے بعد ان کے بھکت اکثر یہ مشتہر کرتے ہیں کہ مودی حکومت میں پاسپورٹ بنانے کی کارروائی میں سہولت آئی ہے اور پہلے کے مقابلے وقت میں بھی کم لگتا ہے ۔عوام کی آسانی کے لئے اس کی ضرورت بھی تھی ۔

یہاں یہ سوال بھی اٹھتا ہے کہ کہیں صرف واہ واہی لوٹنے کیلئے تو ان قانونی کارروائیوں کو نظر انداز نہیں کیا جارہا ہے جو اس بات کی تفتیش کیلئے ضروری ہے کہ متعلقہ فرد ملک کا شہری ہے بھی یا نہیں ۔ یہ سوال اس واقعہ کے بعد شدت سے اٹھ رہا ہے کہ بنگلہ دیشی شہری ریشما خان کا ہندوستانی پاسپورٹ بنا دیا گیا ۔ یہ بات اس لئے کہی جارہی ہے کہ مذکورہ پاسپورٹ فرضی دستاویز کی بنیاد پر بنوا یا گیا ہے ۔ قابل ذکر ہے کہ مذکورہ پاسپورٹ پولس کے خفیہ محکمہ کے اعتراض کے باوجود بنا دیا گیا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ریشما خان کے شوہر بھارتیہ جنتا پارٹی کے بڑے لیڈر ہیں اور اسی لئے جب اس کی شکایت کرنے خفیہ محکمہ کا اہلکار پولس اسٹیشن پہنچا تو اوپر کا پریشر کہہ کر اس کی شکایت درج نہیں کی گئی ۔

جس ہندی روزنامہ نے یہ خبر شائع کی ہے اس کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس اس بات واضح ثبوت موجود ہیں کہ ریشما خان بنگلہ دیشی شہری ہیں ۔اخبار کے دعویٰ کے مطابق ریشما خان نے گذشتہ سال پاسپورٹ بنوانے کیلئے درخواست دیا تھا ۔ اس کے ساتھ جو کاغذات سونپے تھے ان میں پیدائش کی تاریخ کے سند پر جو جائے پیدائش درج ہے وہ مغربی بنگال کا ہے جبکہ وہ مالونی میں رہتی ہیں ۔ ممبئی پولس کی اسپیشل برانچ کے اہلکار ذاتی طور سے مغربی بنگال کے مطلوبہ پتہ پر گئے تو معلوم ہوا کہ ریشما خان کا بتایا گیا پتہ فرضی ہے ۔

ریشما کے بنگلہ دیشی ثابت ہونے کے بعد ممبئی پولس کا اہلکار مالونی پولس اسٹیشن گیا اور پورے دن بیٹھا رہا لیکن سینئر انسپکٹر دیپک فٹانگرے نے ایف آئی آر درج کرنے سے منع کردیا اور استفسار کرنے پر اشاروں کنایوں میں اوپر کے پریشر کا ذکر کیا ۔ پولس پر دبائو کی وجہ یہ ہے کہ ریشما خان حاجی حیدر اعظم خان کی زوجہ ہیں ۔ حاجی حیدر اعظم بھارتیہ جنتا پارٹی کے ممبئی نائب صدر اور مولانا آزاد اقلیتی مالیاتی ترقیاتی کارپوریشن کے چیئر مین ہیں ۔ ویسے حاجی حیدر خان کو بھی اچھی طرح معلوم ہے کہ ان کی بیوی ریشما خان بنگلہ دیشی شہری ہیں ۔ مذکورہ ہندی روزنامہ کا دعویٰ ہے کہ اسے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ ریشما خان سے متعلق کاغذات مالونی پولس اسٹیشن سے غائب ہو گئے یا دانستہ کردیئے گئے ہیں ۔

مذکورہ ہندی روزنامہ اس معاملہ پر چند سوال واجب سوال بھی اٹھاتا ہے کہ ’واضح ہو کہ ۲۴ دسمبر ۱۹۹۹ کو ہائی جیک کئے گئے انڈین ایئر لائن کا طیارہ آئی ۸۱۴ کے چار اغواکاروں کے فرضی پاسپورٹ ممبئی میں بنے تھے ۔ اس بات سے ممبئی پولس کے اعلیٰ افسران اس سوال پر لاجواب ہو جاتے تھے کہ کیوں کہ انہیں اس کی خبر ہی نہیں تھی کہ دہشت گردوں کے پاسپورٹ کیسے بن گئے ؟ لیکن اب ممبئی پولس کے اعلیٰ افسران کے پاس کیا جواب ہے کہ انہوں نے یہ جانتے ہوئے کہ ریشما خان بنگلہ دیشی شہری ہیں ان کا پاسپورٹ کیوں بننے دیا ؟‘۔ اس کے برعکس ممبئی پولس کے خفیہ محکمہ کے اہلکار نے اس کی شکایت درج کروانی چاہی تو مالونی پولس نے انہیں یہ کہہ کر بھگا دیا کہ ان پر اوپر سے دبائو ہے ۔ مذکورہ اخبار کے نامہ نگار نے ممبئی پولس کے رابطہ عامہ کے افسر منجو ناتھ سِنگے اور ریشما خان کے شوہر حاجی حیدر اعظم سے ان کا رد عمل جاننے کیلئے رابطہ کی کوشش کی تو وہ اس میں کامیاب نہیں ہو پایا اور نا ہی ان دونوں نے واٹس ایپ پر بھیجے گئے سوالات کے جواب ہی دیئے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.