صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

لوک سبھا حلقہ انتخاب بارامتی میں شرد پوار کا بڑھا درد سر: آزاد امیدوار کو بھی توتاری کا نشان !بارامتی

198,810

لوک سبھا انتخابات کے پیش نظر جہاں ایک طرف انتخابی مہم، جلسوں اور جلسوں میں تیزی آگئی ہے، وہیں دوسری طرف ایسی اطلاعات سامنے آئی ہیں جس سے شرد چندر پوار کا تناؤ بڑھ گیا ہے۔ بارامتی میں الیکشن کمیشن نے ایک آزاد امیدوار کو بھی توتاری کا نشان دیا ہے۔ اس پر اب نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار گروپ )نے اس نشان پر اعتراض کیا ہے۔ واضح رہے کہ این سی پی شرد پوار گروپ کو’ توتاری بجانے والا آدمی’ نشان دیا گیا ہے۔بارامتی لوک سبھا حلقہ کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے والے امیدواروں میں انتخابی نشانات تقسیم کیے گئے۔

آزاد امیدوار سہیل شاہ یونس شاہ شیخ کو توتاری کا نشان دیا گیا۔ این سی پی شرد پوار گروپ نے اس پر اعتراض کیا ہے۔ اس سلسلے میں مرکزی الیکشن کمیشن میں شکایت بھی درج کرائی گئی ہے۔ بارامتی حلقہ کے لیے پرچہ نامزدگی داخل کرنے کی آخری تاریخ 12 سے 19 اپریل تھی۔ اس دوران 51 لوگوں نے اپنی امیدواری داخل کی تھی۔ ان درخواستوں کی جانچ پڑتال 20 اپریل کو ہوئی۔ جانچ پڑتال میں 5 درخواستیں مسترد اور 46 امیدواروں کی درخواستیں درست قرار دی گئیں۔ ان میں سے آٹھ نے اپنی درخواستیں واپس لے لی ہیں جبکہ دو کی درخواستیں مسترد کر دی گئی ہیں۔ذرئع کے مطابق این سی پی شرد پوار گروپ نے الیکشن کمیشن سے کہا ہے کہ بارامتی لوک سبھا حلقوں کے امیدواروں کے نشانات کی تقسیم کے سلسلے میں ایک میٹنگ بلائی تھی۔

مذکورہ میٹنگ میں آپ نے ہماری پارٹی کے لیے مخصوص نشان ‘ توتاری بجانے والا آدمی’ ہمیں الاٹ کیا۔ تاہم آزاد امیدوار سہیل شاہ یونس شاہ شیخ کو آزاد امیدوار کے لیے بھی توتاری کا نشان الاٹ کیا گیا ہے۔ ہمیں اس پر اعتراض ہے۔ توتاری اور توتاری بجاتا ہوا آدمی یہ دونوں نشانات کےنام میں ایک جیسے ہیں ۔ ایک ریاستی جماعت کے طور پر، ہمیں الاٹ کیا گیا نشان ‘ توتاری بجانے والا آدمی’ کو دوسرے امیدوار کو دینے سے سے ان ملتے جلتے ناموں کے باعث ووٹروں میں الجھن پیدا ہو گی۔ بتایا جاتا ہے کہ الیکشن کمیشن کو ایک خط دیا گیا ہے جس میں درخواست کی گئی ہے کہ مراٹھی کے نام میں لفظ توتاری کی جگہ الیکشن کمیشن کی جانب سے کوئی اور لفظ استعمال کیا جائے۔اس دوران اس حلقے میں 38 امیدوار انتخابی میدان میں اترنے والے ہیں۔

امیدواروں کی تعداد کا تعین ہونے کے بعد ووٹنگ کے لیے آزاد امیدواروں میں نشانات تقسیم کیے گئے۔ اس میں شیخ نے ترجیح میں علامت ‘توتاری’ کا مطالبہ کیا تھا۔ اسی مناسبت سے یہ نشان شیخ کو عہدیداروں نے دیا تھا۔ این سی پی شرد چندر پوار کی پارٹی کا نشان کو’ توتاری بجانے والا آدمی’ ہے۔ اس لیے شرد پوار گروپ نے شیخ کو دیے گئے نشان پر اعتراض کیا اور پارٹی نے اپنا اعتراض مرکزی الیکشن کمیشن کو بھیج دیا ہے۔ بارامتی حلقہ سے آزاد حیثیت سے انتخاب لڑنے والے شیخ نے مفت نشانات کے لیے نشانات کی پہلی ترجیحی ترتیب میں ‘توتاری’ نشان کا مطالبہ کیا تھا۔ ترجیحی ترتیب کے مطابق ان کی پہلی پسند توتاری تھی۔ اس لیے یہ نشان آزاد امیدوار شیخ کو دیا گیا۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.