صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

’اگر تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کرسکتے تو کام کرنا شروع کردو‘

جب مفت تعلیم کے تعلق سے ریاستی وزیر تعلیم سے سوال کرنا ایک طالب علم کا جرم بنادیا گیا

549

امراوتی : (ریحان یونس) امراوتی کے ایک گریجویشن کی تعلیم حاصل کر رہے طالب علم نےریاستی وزیر تعلیم ونود تاوڑے پر الزام لگایا کہ ونود تاوڑے اور ان کے ایک ہم جماعت ساتھی کے درمیان ہو رہی گفتگو کا ویڈیو بنائے جانے کے سبب ونود تاوڑے نے ان کی گرفتاری کا حکم جاری کیا تھا ۔ طالب علم یوراج دباڈ نے دعوی کیا کہ اس مبینہ حکم کے سبب مقامی پولس نے انہیں چند گھنٹوں کے لئے حراست میں لیا تھا اور ان کا موبائل ضبط کرلیا تھا جو بعد میں انہیں واپس کر دیا گیا ۔ مذکورہ واقعہ امراوتی میں سنیچر کے روز ایک حوصلہ افزائی کے پروگرام کے افتتاح کے موقع پر پیش آیا ۔ وزیر تعلیم اس تقریب میں اپنی تقریر ختم کرنے کے بعد واپس جارہے تھے تب ہی صحافت کا کورس کرنے والے چند طلبہ ان کی گاڑی تک پہنچے اور مفت تعلیم پالیسی کے تعلق سے ان سے سوال کیا ۔ کالج کے ایک طالب علم پرشانت راٹھوڑ نے کہا کہ وزیر تعلیم ونود تاوڑے نے مجھ سے کہا کہ اگر تعلیم کا خرچ برداشت نہیں کر سکتے تو کہیں کام کرنا شروع کرو ۔ میں نے ان سے ریاستی حکومت کی مفت تعلیم اسکیم سے متعلق سوال کیا ۔ راٹھوڑ نے سنیچر کو امراوتی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کالج کا ایک طالب علم دباڈ اس گفتگو کی ویڈیو ریکارڈنگ کر رہا تھا ۔ وزیر تعلیم نے پہلے اس طالب علم کو ویڈیو ریکارڈنگ بند کرنے کو کہا بعد میں پولس کو اس طالب علم کو گرفتار کرنے کے لئے کہا ۔ دباڈ نے کہا کہ میں نے ویڈیو ریکارڈنگ بند کرنے کے وزیر تعلیم کے حکم سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ہمارے سوالوں کا جواب نہیں دے رہے تھے ۔ ہم ان سے آسان سا سوال کر رہے تھے اور ان کا نظریہ جاننے کی کوشش کر رہے تھے ۔ دباڈے نے کہا کہ جسے ہی ونود تاوڑے نے میری گرفتاری کا حکم دیا مجھے گرفتار کر کے کالج سے باہر لے جایا گیا اور چند گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا ۔ میرا ضبط کیا گیا موبائل بھی چند گھنٹوں بعد واپس کر دیا گیا ۔ بہت کوشش کرنے کے بعد بھی وزیر تعلیم  نے ہمارے سوالات پر کوئی رائے نہیں دی ۔ حالانکہ وزیر تعلیم ونود تاوڑے نے اس الزام کو سرے سے غلط قرار دیا ہے ۔ ایک دوسرے طالب علم یوراج راٹھوڑ نے بھی دعویٰ کیا کہ پولس کو دباڈے کو گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اسے چند گھنٹہ حراست میں بھی رکھا گیا جہاں اس کا موبائل ضبط کر لیا گیا اور اس ویڈیو ریکارڈنگ کو ڈیلیٹ کرنے کے بعد اسے موبائل واپس کیا گیا ۔ تاوڑے نے ان الزمات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے طالب علم کی گرفتاری کا حکم نہیں دیا تھا ان کے خلاف یہ سارا جھوٹ پھیلایا جارہا ہے ۔ امراوتی پولس نے بھی کہا کہ نہ ہی طالب علم کو گرفتار کیا گیا اور نہ ہی اسے حراست میں رکھا گیا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.