صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

۱۳ سال میں تین تفتیشی ایجنسیاں اور عدالتی مقدمے کے بعد بھی سہراب الدین کی موت سے پردہ نہیں اٹھ پایا

1,005

(سنیل کمار سنگھ این ڈی ٹی وی سے وابستہ صحافی ہیں ۔ انہوں نے گذشتہ سال کے آخر یعنی ۲۱ دسمبر کو سہراب الدین مقدمہ میں خصوصی سی بی آئی عدالت کے ذریعہ آئے فیصلہ پر مختصر لیکن ٹھوس دلیلوں کی بنیاد پر جائزہ لیا ہے ۔ ورلڈ اردو نیوز این ڈی ٹی وی کے شکریہ کے ساتھ اسے قارئین کیلئے پیش کرتے ہوئے یہ امید کرتا ہے کہ قارئین کو مقدمہ کی تتفصیلی معلومات حاصل ہوگی ساتھ ہی یہ بھی اندازہ ہوگا کہ آجکل عدالتیں اور تفتیشی ایجنسیاں کس طرح ٹھوس دلائل کو نظر انداز کرکے ملزمین کے باعزت بری ہونے کا راستہ آسان کر رہی ہیں ۔ اس طرح کے فیصلے سے نظام عدل سے عوام کے اعتماد کے اٹھ جانے کا اندیشہ ہے ۔ انصاف تو ہر حال میں ہونا چاہئے خواہ سامنے کوئی بھی ہو)

۲۱ دسمبر ۲۰۱۸ کو سی بی آئی کی خصوصی عدالت نے عجیب و غریب فیصلہ سنایا ۔ سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج ایس جے شرما نے کہا کہ اس معاملہ میں ثبوت ناکافی ہیں اس لئے سبھی ۲۲ ملزمین کو بری کیا جاتا ہے ۔ اتنا ہی نہیں جج نے تو تلسی پرجاپتی کی پولس مڈبھیڑ میں موت کو ٹھیک قرار دیا ۔ لیکن سہراب الدین شیخ کے نام نہاد انکائونٹر کو الجھا ہوا ہی چھوڑ دیا ۔ دونوں مڈبھیڑوں میں تعلق ثابت نہیں ہونے کا حوالہ دے کر نام نہاد سازش کی پوری کہانی کو ہی نظر انداز کردیا ۔ پر یہ نہیں بتایا کہ سہراب الدین کو کس نے مارا اور کوثر بی کی موت کیسے ہوئی ؟ البتہ تینوں کی موت پر دکھ ضرور جتایا ۔ سوال ہے کہ جب موت ہوئی تو کسی نے تو مارا ہے پر ۱۳ سال میں سی آئی ڈی ، سی بی آئی کی تفتیش اور عدالتی مقدمہ کے بعد بھی یہ انکشاف نہیں ہو پایا ، آخر کیوں ؟

سہراب الدین شیخ کےبھائی رباب الدین شیخ کا کہنا ہے کہ قانون اندھا ہے سنا تھا لیکن سی بی آئی اور جج بھی اندھے ہیں یہ بھی دیکھ لیا ۔ رباب الدین متاثر خاندان سے ہیں فیصلہ کے خلاف ان کی ناراضگی منطقی ہے ۔ لیکن قانون اور عدالت کی تھوڑی بھی معلومات رکھنے والا شخص بھی عدالت کے فیصلہ کو ہضم نہیں کرپارہا ہے ۔ ایسا کیوں ؟

خصوصی سی بی آئی جج نے ۲۱ دسمبر کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے یہ مانا کہ سہراب الدین کی موت گولی لگنے سے ہوئی لیکن گولی کس نے ماری یہ ثابت نہیں ہو پایا ۔ جبکہ ۲۶ نومبر ۲۰۰۵ کی صبح سہراب الدین کومارنے کا دعویٰ خود گجرات اے ٹی ایس اور راجستھان کی پولس نے کیا تھا ۔

پینچ نمبر ۱

۲۶/۱۱/۲۰۰۵ کو احمد آباد اے ٹی ایس پولس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کرائی گئی تھی ۔ راجستھان  میں ادے پور ضلع کے پرتاپ نگر پولس اسٹیشن کے انسپکٹر عبد الرحمن کی شکایت پر درج ایف آئی آر میں نام نہاد انکائونٹر کی پوری کہانی ہے ۔ جس میں یہ صاف لکھا ہے کہ سہراب الدین شیخ پر کل ۸ گولیاں چلائی گئی تھیں جس میں تین رائوڈ پولس انسپکٹر این ایچ امین ڈابی ، دو رائونڈ انسپکٹر عبد الرحمن ، سب انسپکٹر ہمانشو سنگھ نے ۲ اور شیام سنگھ نے ایک رائونڈ گولی چالئی تھی ۔

یہ صرف دعویٰ نہیں تھا اس وقت کے ڈی ایس پی ایم ایل پرمار نے پنچوں کے سامنے سبھی آٹھ گولیوں کے خالی خول برآمد کرکے فورینسک لیب میں بھیجے تھا اور فورینسک لیب میں یہ ثابت بھی ہوا تھا کہ تینوں گولیاں ایک بندوق سے دوسری ۲ دوسری ایک بندوق سے باقی کے دو اور ایک الگ الگ بندوق سے چلی تھی ۔

اب یہ سب گولیاں پولس والوں نے خود اپنی اپنی سروس پستول اور ریوالور سے چلائی تھی اس لئے ان کے ریکارڈ  سے آسانی سے یہ ثابت کیا جاسکتا ہے تھا کہ ان کے پاس وہ اس دن تھا یا نہیں ؟ یہ کیا گیا لیکن دو سال بعد ۲۰۰۷ میں ۔ تب پورا ریکارڈ لیا ہی نہیں گیا ۔ نتیجہ پولس والوں کو مکرنے کا موقعہ مل گیا ۔ جبکہ ایف ایس ایل کی جانچ میں سبھی بندوقوں سے گولی چلنے کی تصدیق ہوئی اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ سہراب الدین شیخ کی جانگھ سے نکالی گئی گولی آرٹیکل ۲۷ کے طور پر برآمد انسپکٹر این ایچ ڈابی کی بندوق سے چلی تھی اس بات کی تصدیق بھی ہوئی تھی ۔ اور تو اور ملزم نمبر ۷ عبد الرحمن ،ملزم نمبر ۸ ہمانشو سنگھ راوت اور ملزم نمبر ۹ شیام سنگھ چرن کے روزنامچہ میں درج تھا کہ گولی انہوں نے ماری ، یہ بات چارج شیٹ میں بھی تھی ۔

پینچ نمبر ۲

اب بات کرتے ہیں سہراب الدین کے لاش کی ۔ میڈیکل افسر گواہ پی ڈبلیو ۷۴ نے عدالت میں بتایا ہے کہ ۲۶/۱۱/۲۰۰۵ کی صبح ۶:۲۵ پر احمد آباد اے ٹی ایس کے پولس انسپکٹر این ایچ ڈابی سہراب الدین شیخ کی لاش اسپتال لے کر آئے تھے ۔ گواہ کے مطابق اس نے اس کی جانچ کی اور اسے مردہ پایا ۔ اس کے بعد لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے بھیج دیا گیا ۔ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں درج معلومات کے مطابق اس وقت کے ڈی وائی ایس پی ایم ایل پرمار نے اس لاش کی پہچان شیخ سہراب الدین انورالدین کے طور پر کی تھی ۔ پوسٹ مارٹم ڈاکٹر گواہ پی ڈبلیو ۳۴ نے اس بات کی تصدیق کی ہے ۔ مطلب صاف ہے کہ نام نہاد مڈبھیڑ کے بعد ملزم پولس والے ہی سہراب الدین کو اسپتال لے گئے اور لاش کا پوسٹ مارٹم کروایا ۔

پینچ نمبر ۳

انکائونٹر کے بعد دعویٰ کیا گیا تھا کہ سہراب الدین کے پاس سے کل ۹ آرٹیکل برآمد ہوئے تھے ۔ اس میں ۴۶۰۰۰ روپئے ، ایک مالا ، سورت سے احمد آباد کا ایک ریل ٹکٹ ، کرنا وتی ٹریولس کا ایک وزٹنگ کارڈ ، ڈرائیونگ لائسنس ، کسی شجاع الدین شیخ کا وزٹنگ کارڈ وغیرہ ۔ حیران کن بات یہ ہے کہ ان سبھی پر صرف مالا کو چھوڑ دیں تو کسی اور پر خون کا ایک دھبہ بھی نہیں لگا تھا جبکہ انکائونٹر کے بعد پنچ نامہ میں سہراب الدین کی لاش اوپر سے نیچے تک خون سے بھری ہوئی بتایا گیا تھا ۔

دوسری بات ، اوپر مذکور برآمد سبھی آرٹیکل نہ تو اسپتال میں برآمد کئے گئے تھے اور نا ہی لاش کے پاس سے ۔ معلومات کے مطابق سبھی آرٹیکل ایم ایل پرمار نے اے ٹی ایس کے دفتر میں پنچوں کے سامنے برآمد دکھائے یہ کہہ کر کہ میڈیکل افسر گواہ پی ڈبلیو ۷۴ نے پولس انسپکٹر این ایچ ڈابی کو اسپتال میں دیئے تھے ۔ اس سے معاملے میں لیپا پوتی کی بات صاف ظاہر ہوتی ہے ۔

سہراب الدین کے بھائی رباب الدین ایک عدالتی کارروائی کو جاتے ہوئے

پینچ نمبر ۴

اے ٹی ایس دفتر کے پنچ نامہ میں ہی سہراب الدین کے پاس سے ہی نوکیا ماڈل نمبر ۱۱۰۰ کا ایک موبائل فون بھی برآمد ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا ۔ لیکن یہ بھی حران کن ہے کہ جب ایف ایس ایل میں اس فون کے سم کارڈ کی جانچ کی گئی تو وہ مدھیہ پردیش کا نکلا ۔ اس میں آندھرا پردیش اور مدھیہ پردیش کے فون نمبر تو ملے لیکن گجرات کے ایک بھی نمبر نہیں ملے ۔ اگر مشتبہ ملزم گجرات میں کسی بڑی کارروائی کے لئے جارہا تھا تو کوئی تو مقامی مدد لینے کیلئے فون کرتا جیسا کہ پولس انسپکٹر عبد الرحمن نے اپنے پہلے بیان میں دعویٰ کیا تھا کہ سہراب الدین لطیف گینگ کی مدد سے دہشت گردانہ سازش کو انجام دینے آیا تھا ۔ اتنا ہی نہیں سہراب الدین لوکیشن بھی گجرات سرکل میں صرف ۲۵ نومبر کی رات ۲۱ بج کر ۴۴ منٹ کے آس پاس ملا ۔ اس سے قبل ۱۸نومبر کو مہاراشٹر گوا تھا ، ۱۹ اور ۲۲ نومبر کو آندھرا پردیش سرکل تھا اور ۲۳ نومبر کی صبح پھر سے مہاراشٹر گوا سرکل تھا ۔ اس کی بنیاد پر دیکھیں تو سی بی آئی کا الزام کہ سہراب الدین شیخ اور اس کی بیوی کوثر بی جب حیدرآباد سے سانگلی جارہے تھے تب ہی ۲۳ نومبر کو دونوں کو بس سے اتار کر مہاراشٹر ہوتے ہوئے گجرات لے گئے جہاں اسے پہلے دیشا فارم میں رکھا گیا اس کے بعد ارحم فارم ہائوس میں پھر ۲۶ نومبر کی صبح نرول سرکل کے پاس مڈبھیڑ میں مارا دکھایا گیا ۔

پینچ نمبر ۵

۲۶/۱۱/۲۰۰۵ کو درج ایف آئی آر میں بتایا گیا تھا کہ سہراب الدین شیخ ہیرو ہونڈا موٹر سائیکل سے آرہا تھا تبھی اسے پہچان کر خود سپردگی کیلئے کہا گیا لیکن اس نے گولی چلا دی تبادلہ میں پولس نے بھی گولی چلائی ۔ لیکن ایف ایس ایل کی رپورٹ کے مطابق انہیں جب موٹر سائیکل کی جانچ کی تو اس کا ہینڈل لاک تھا اور اس کی چابی بھی نہیں تھی ۔ سوال یہ اٹھتا ہے کہ اگر موٹر سائیکل کا ہینڈل لاک تھا تو سہراب الدین اسے کیسے چلا سکتا تھا اور اگر ہینڈل بعد میں لاک کیا گیا تو چابی ضبط کیوں نہیں دکھائی گئی ۔ بعد میں معلوم ہوا تھا کہ مذکورہ موٹر سائیکل کسی شوق سنگھ کی تھی اور اس نے ۲۵ نومبر کو ہی موٹر سائیکل چوری ہونے کی شکایت درج کرائی تھی ۔ اگر موٹڑ سائیکل چوری ہوئی تھی تو اس کی اصلی چابی اس کے مالک کے پاس ہونی چاہئے تھی لیکن چابی بر آمد نہیں کرکے اسے ادھورا ہی چھوڑ دیا گیا ۔ کیوں ؟ کیا اس لئے کہ اس سے پتہ چل جاتا کہ موٹر سائیکل پلانٹ کی گئی تھی ؟

پینچ نمبر ۶

گجرات کے ڈی آئی جی ڈی جی ونجارا نے سہراب الدین شیخ کے انکائونٹر کے کچھ دن بعد راجستھان کے پولس ڈائریکٹر جنرل اے ایس گِل کو خچ لکھ کر ادے پور پولس ٹیم کے انسپکٹر عبد الرحمن ، سب انسپکٹر ہمانشو سنگھ ، سب انسپکٹر شیام سنگھ کو انعام اور پروموشن کی سفارش کی تھی ۔ ڈی جی ونجارا نے اپنے سفارشی خط میں لکھا تھا کہ ادے پور کے ایس پی دنیش ایم این اور گجرات اے ٹی ایس کی ٹیم کی سال بھر سے اس کے لئے کام کررہے تھے ۔ ونجارا نے آگے یہ بھی لکھا کہ اس قابل فخت کارنامہ کے لئے ایس پی دنیش ایم این کو بھی اعزاز سے نوازا جانا چاہئے ۔ ونجارا کا یہ خط چارج شیٹ کا حصہ ہے ۔ سہراب الدین شیخ کی موت اور اسے مارنے کا دعویٰ بھرا خط ایک اہم دستاویزی ثبوت ہے ۔

پرجاپتی قتل کیس

سی بی آئی کی خصوصی عدالت کے جج ایس جے شرما نے ۲۱ دسمبر کو اپنا فیصلہ سناتے ہوئے کہا تھا کہ تلسی پرجاپتی مڈبھیڑ معاملہ میں کچھ ایسے گواہ ہیں جنہوں نے اسے ریل گاڑی میں دیکھا تھا ۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ وہ ریل گاڑی سے بھاگا تھا اور بعد میں پولس مڈبھیڑ میں مارا گیا ۔ جج نے آگے یہ بھی جوڑا کہ سی بی آئی ایسا کوئی ثبوت پیش نہیں کر پائی جس سے یہ ثابت ہو کہ دونوں ہی وارداتوں میں کوئی تعلق ہے ۔

تلسی پرجاپتی کو بھیل واڑہ میں کرایہ کے ایک مکان سے گرفتار کیا گیا تھا ۔ الزام ہے کہ تلسی پرجاپتی کو بھی اسی دن بھیل واڑہ سے پکڑا گیا جس دن احمد آباد میں سہراب الدین کا انکائونٹر ہوا تھا ۔ کیا یہ محض اتفاق ہوسکتا ہے یا پھر سازش کا حصہ جیسا کہ چارج شیٹ میں الزام لگایا گیا ہے ۔

یہ سوال اس لئے اٹھا ہے کیوں کہ تلسی کی گرفتاری کی تاریخ جان بوجھ کر ۲۹/۱۱/۲۰۰۵ دکھائی گئی تاکہ دونوں ہی معاملوں کو جوڑ کر سازش ثابت نہ کیا جاسکے ۔ تلسی کو ۲۶/۱۱/۲۰۰۵ کو اٹھایا تو بھیل واڑہ سے گیا تھا لیکن گرفتاری ہاتھی پول پولس اسٹیشن میں دکھائی گئی وہ بھی ۲۹/۱۱/۲۰۰۵ کی رات ۔ جبکہ ادے پور کے ایس پی دنیش ایم این کی منتھلی رپورٹ میں لکھا گیا ہے کہ ۲۹/۱۱/۲۰۰۵ کو شام پانچ بجے وہ امبا ماتا پولس اسٹیشن گئے اور وہاں حامد لالہ کے قتل کے الزام میں گرفتار ملزمان سے تفتیش کی تھی ۔ جبکہ ہاتھی پول پولس اسٹیشن میں درج ڈائری میں ملزم کو لانے کا وقت تقریبا دس بجے رات لکھا گیا ہے ۔ مطلب تلسی رام کو پہلے سے ہی پکڑ کر حراست میں رکھا گیا تھا ۔ امبا ماتا پولس اسٹیشن کے ایس ایچ او رنوجئے گواہ پی ڈبلیو ۶۷ نے ۱۶۴ نے تحت بیان دیا تھا کہ ایس پی دنیش ایم این نے اسے کہا تھا کہ گرفتاری بعد میں دکھائیں گے ۔ حالانکہ عدالت میں گواہی کے دوران وہ اپنے پرانے بیان سے مکر گیا ۔

اتنا ہی نہیں تلسی پرجاپتی احمد آباد میں پٹیل برادر پر گولی چلانے کا بھی ملزم تھا ۔ اس لئے احمد آباد اے ٹی ایس پولس افسر چارج شیٹ گواہ پی ڈبلیو ۲۲۷ نے بھی تلسی پرجاپتی سے تفتیش کی تھی ۔ تفتیش کی اس رپورٹ میں تلسی نے خود بتایا تھا کہ اسے بھیل واڑہ سے ۲۶ نومبر ۲۰۰۵ کو ہی پکڑا گیا تھا ۔ سہراب الدین شیخ اور تلسی پرجاپتی معاملہ میں لنک کو ثابت کرنے کے لئے ایک اہم ثبوت ہو سکتا تھا لیکن حیران کن بات ہے کہ عدالت میں مذکورہ گواہ پی ڈبلیو ۲۲۷ کی گواہی نہیں ہو پائی ۔

اسی طرح راجستھان پولس کے اسفر سدھیر جوشی گواہ پی ڈبلیو ۱۵۹ نے جس کا ۱۶۴ کے تحت بیان بھی ریکارڈ کیا گیا تھا کہ ملزم نمبر ۷ مطلب پولس انسپکٹر عبدالرحمن اور ایس پی دنیش ایم این نے فون پر ۲۶ نومبر کو ہی بتایا تھا کہ تلسی پرجاپتی سمیر نام سے بھیلواڑہ کے ایک مکان میں چھپا ہوا ہے ۔ اس کے بعد ہی تلسی کو اسی دن بھیل واڑہ سے پکڑا گیا تھا ۔ لیکن عدالت میں گواہی کے دوران وہ مکر گیا ۔ اس نے تاریخ نہ بتاکر نومبر مہینہ کا آخری ہفتہ بتایا ۔ اس وقت سی بی آئی کے سنیئر پی پی بی پی راجو کا فرض بنتا تھا کہ وہ اسکے ۱۶۴ کے تحت دیئے پرانے بیان اس کے سامنے رکھتے ۔ لیکن انہوں نے ایسا جان بوجھ کر نہیں کیا یا غلطی سے رہ گیا یہ معلوم نہیں ۔

صحافی کی گواہی نہیں ہو پائی

۲۶ نومبر کو تلسی کی گرفتاری والی بات وہاں کے ایک مقامی اخبار پراتہ کال میں بھی شائع ہوئی تھی ۔ سی بی آئی نے اسے اپنا گواہ بھی نہیں بنایا تھا ، اس نے ایکسیڈنٹ ہونے کا حوالہ دینے کے بعد میں آنے کا وقت بھی مانگا تھا ۔ لیکن بعد میں جب اسے بلانے کے لئے سی بی آئی نے جج ایس جے شرما کے سامنے تجویز رکھی تو بتایا جاتا ہے کہ جج سینئر پی پی بی پی راجو پر ناراض ہو گئے تھے ۔ یہاں تک کہہ دیا تھا کہ صحافی ادھر ادھر کی سنی باتوں پر خبر بناتا ہے ، اس کی باتوں پر کتنا بھروسہ کرنا چاہئے ؟ ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ اگر میں بلاتا ہوں اور وہ تسلی بخش جواب نہیں دے پاتا ہے تو میں اسے سزا بھی دے سکتا ہوں ۔ اس کے بعد سی بی آئی پرسکون ہو گئی ۔ سوال مڈبھیڑ میں تلسی رام کے مار گرانے کے دعویٰ پر بھی کئی ہیں ۔

خصوصی سی بی آئی عدالت کے جج ایس جے شرما کے فیصلہ پر ایک نظر

جج ایس جے شرما کا پورا فیصلہ تقریبا ۳۵۰ صفحات کا ہے ۔ جس میں سلسلہ وار طریقہ سے انہوں نے ہر اٹھنے والے سوالوں کے جواب دینے کی کوشش کی ہے ۔ کیوں کہ انہیں بھی اس بات کا اندازہ ہے کہ ان کا فیصلہ آسانی سے سبھی کے گلے اترنا مشکل ہے ۔ شاید اسی لئے انہوں نے اپنے تبصرہ میں لکھا ہے ’ہو سکتا ہے اس فیصلہ سے سماج اور متاثر خاندان میں غصہ اور جھنجھلاہٹ پیدا ہو ، لیکن بنا پختہ ثبوت کے صرف جذبات میں بہہ کر فیصلہ نہیں دیا جاتا ۔ استغاثہ کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ کیس کو ثابت کرے وہ بھی پختہ ثبوتوں کی بنیاد پر‘ ۔

جج کے مطابق ملزم نمبر ۷ عبد الرحمن اپنے ڈسچارج اپلیکیشن میں ہی اس دن احمد آباد میں ہونے سے انکار کر چکا ہے ۔ راجستھان پولس کے ڈی وئی ایس پی سدھیر جوشی کا دعویٰ ہے کہ پولس انسپکٹر عبد الرحمن کے فون سے انہیں کال آئی تھی کہ تلسی رام بھیلواڑا میں کرایہ کے مکان میں چھپا ہوا ہے ۔ لیکن نہ تو جوشی اور نہ ہی عبد الرحمن کے موبائل فون کی تفتیش کی گئی ۔ عبد الرحمن کے فون کے سی ڈی آر اور ڈاٹا اس کی لوکیشن سے پتہ چل سکتا تھا لیکن وہ بھی نہیں کیا گیا ۔ ادے پور کے ایس پی دنیش ایم این کا ڈرائیور پورنمل مینا جو معاملہ میں اہم گواہ تھا وہ بھی مکر گیا ۔ لاگ بک میں بھی صرف ایس پی دنیش ایم این کے وزٹ کا ذکر ہے ۔ سب انسپکٹر ہمانشو اور شیام سنگھ سے متعلق بھی یہ ثابت نہیں ہوپایا کہ دونوں واردات کے پہلے یا بعد میں موقعہ پر موجود تھے ۔ تفتیشی ایجنسی نے ان کا موبائل فون ضبط نہیں کیا اور نا ہی سی ڈی آر ملا جس سے ان کا لوکیشن معلوم ہو سکتا تھا ۔ یہاں تک کہ گجرات اے ٹی ایس کے پولس افسروں کا موبائل موکیشن بھی نہیں لیا گیا ۔

اے ٹی ایس  کے انسپکٹر این ایچ ڈابی جن پر سہراب الدین کو ۲ گولی مارنے کا الزام ہے اس کا بھی موقعہ پر ہونا ثابت نہیں ہو پایا ۔ کیوں کہ پولس کے ڈرائیور بھی عدالت میں مکر گئے ۔ ان کا کہنا ہے کہ ہم وہاں آفس کی گاڑی نہیں لے گئے تھے ۔ ہم وہاں گئے ہی نہیں تھے ۔ رہی بات سہراب الدین کی جانگھ سے ملی گولی کا ڈابی کے ریوالور کی ہونے والی تصدیق کی تو اس ریوالور سے گولی چلی تھی یہ تو ایف اے ایل میں ثابت ہوا ، لیکن وہ ریوالور اس دن ڈابی کے پاس تھا یا نہیں یہ ریکارڈ سے ثابت نہیں ہو پایا ۔ نام نہاد بندوقوں کے ایشو کرنے کا بھی ثبوت نہیں ملا ۔ ان کے ریکارڈ بھی نہیں جمع کئے گئے ۔ خالی کارتوسوں سے بندوقوں کے میلان سے جڑے سوال کے جواب بھی نہیں مل پائے ۔

جج کے مطابق اسپتال میں سہراب الدین کے لاش کی شناخت کرنے والے ڈی وائی ایس پی ایم ایل پرمار معاملے میں اہم گواہ بن سکتے تھے لیکن انہیں ملزم بنا دیا گیا ۔ جج کا دعویٰ ہے کہ سی آئی ڈی اور سی بی آئی دونوں اپنی کہانی ثابت کرنے میں ناکام رہے ۔ ثبوتوں کو سہی طریقہ سے جٹائے نہیں گئے ۔ ابتدائی ثبوت بھی نہیں مل پایا ۔ میں مجبور ہوں سی بی کی کہانی کے مطابق سہراب الدین شیخ اپنی بیوی کے ساتھ اندور سے حیدر آباد گیا تھا ۔ وہاں گجرات اے ٹی ایس کی ٹیم گئی ۔ سہراب الدین شیخ اپنی بیوی کوثر بی کے ساتھ حیدر آباد سے سانگلی کی بس میں جارہا تھا ۔ اس بس میں تلسی رام پرجا پتی بھی تھا ۔ تبھی ۲۳ نومبر کو حیدر آباد سے پیچھا کررہی پولس ٹیم نے بس رکوا کر تینوں کو اتار کر اپنی حراست میں لے لیا ۔ تلسی رام کو بعد میں چھوڑ دیا گیا لیکن سہراب الدین اور کوثر بی کا قتل کردیا گیا ۔ لیکن جج ایس جے شرما کے مطابق تو پورے معاملے میں تین تین ایجنسیوں نے تفتیش کی پر ایک بھی ایجنسی سہراب الدین شیخ اور کوثر بی کے اندور سے حیدر آباد جانے کی بات ثابت نہیں کر پائی ۔

یہ بتایا گیا کہ وہاں وہ ماروتی کار سے گیا لیکن کار ضبط نہیں ہوئی ۔ اس کا دوست کلیم الدین جس نے سہراب الدین کو حیدر آباد میں دیکھنے کا دعویٰ کیا تھا اس بیان نہیں لیا گیا ۔ تلسی رام کے وہاں ہونے کا دعویٰ کیا گیا تھا لیکن اس سے بھی نہیں پوچھا گیا ۔ کلیم الدین عرف نعیم الدین کی بہن جسے آپا نام سے پکارتے تھے اور جس نے سی بی آئی کو بتایا تھا کہ سہراب الدین اور کوثر بی حیدر آباد آئے تھے اس نے بھی سی بی آئی کی کہانی کو سپورٹ نہیں کیا ۔ ان کے حیدرآباد میں رہنے کا کوئی ثبوت نہیں ملنے سے پورے سفر کی کہانی ہی مشتبہ ہے ۔ یہاں تک کہ جس بس میں گئے تھے اس بس کا ٹکٹ بھی سہراب الدین اور کوثر بی کے نام نہ ہو کر کسی سلمان اور شیخ احمد کے نام بک تھا لیکن وہ کون تھے یہ پتہ نہیں چلا ۔ حیرانی کی بات یہ بھی ہے کہ نا تو کوئی ٹریول ایجنٹ اور کوئی اور ان دونوں کے فوٹو پہچان پایا ۔ مسافروں میں سے ایک آپٹے جوڑا نے ان کی تصویر دیکھ بس میں ہونے کا دعویٰ ضرور کیا تھا ۔ان کا ۱۶۴ کے تحت بیان بھی ہوا تھا لیکن مقدمے کے دوران عدالت میں دونوں مکر گئے ۔

سہراب الدین کے بھائی رباب الدین نے ایک بار کہا تھا کہ سہراب الدین نے بتایا تھا کہ وہ سانگلی بس سے جارہا تھا ۔ لیکن جب تفتیش ہوئی تو رباب الدین کا وہ فون جمع ہی کیا گیا ۔ ورنہ اس سے کچھ پتہ چل سکتا تھا ۔ بتایا گیا کہ کوثر بی اس وقت حاملہ تھی لیکن اس کے ثبوت کے طور پر کوئی میڈیکل پیپر جمع نہیں کئے گئے اور اگر وہ حمالہ تھی تو حیدر آباد سے سانگلی کیلئے بس کیوں ؟ بتایا گیا کہ احمد آباد اے ٹی ایس کی ایک ٹیم حیدر آباد گئی تھی لیکن کون سی گاڑی ، کہاں کہاں رکے اس کے بھی کوئی پختہ ثبوت پیش نہیں کئے گئے ۔

یہاں تک کہ وہاں سی آر پی ایف گیسٹ ہائوس کے ریکارڈ میں جس کوالیس کار کا نمبر نوٹ تھا اسے چلانے والے گجرات اے ٹی ایس کے ڈرائیور ناتھوبا جڈیجہ چارج شیٹ گواہ پی ڈبلیو ۱۰۵ اور دوسرے ڈرائیور گرودیال سنگھ چارج شیٹ گواہ پی ڈبلیو ۱۰۶ جو اہم گواہ تھے انہوں نے بتایا کہ وہ نمبر پلیٹ انہوں نے ۲۲ نومبر کو تبدیل کی تھی جبکہ رجسٹر میں ۲۱ نومبر کو ہی وہ نمبر نوٹ کیا گیا تھا ۔

پونے کے سدھو ڈھابہ میں ان دونوں کے اغوا کے بعد کھانا کھانے کی بات بتائی جارہی ہے وہ بھی ثابت نہیں ہو پائی ۔ گواہ مکر گئے ۔ بتایا گیا کہ وہاں سے سبھی کو ولساڑ لایا گیا ۔ ولساڑ سے تلسی کو جانے دیا گیا ۔ اگر دونوں کو مارنا تھا تو تلسی کو کیوں چھوڑ دیا گیا اور سال بھر بعد مارا گیا ۔ اگر اسے بھی مارنا تھا تو تبھی اسے بھی مڈ بھیڑ میں مارا دکھا سکتے تھے ۔

معاملہ میں جو شکایت کنندہ رباب الدین شیخ کو معلوم ہی نہیں تھا کہ تلسی رام پرجا پتی بھی ان دونوں کے ساتھ تھا ۔ رباب الدین نے بتایا تھا کہ تلسی رام نے اجین میں ایک پیپر سہی کردیا تھا اور اسے پچھتاوا تھا کہ اس کی وجہ سے سہراب الدین شیخ کی موت ہوئی ۔ یہ بات بھی سال ۲۰۰۶ میں ہوئی تھی لیکن اس نے سال ۲۰۱۱ میں بتائی ۔ پہلے کیون نہیں بتایا ؟ یہ بات بھی جیل کے قیدیوں سے سنی سنائی تھی ۔ جیل میں سنی سنائی بات کو سچ کسیے مانا جاسکتا ہے جب جیل کے قیدی بھی اپنی بات سے مکر گئے ہوں ۔

سی بی آئی کی کہانی ہے کہ تلسی رام حیدر آباد سے بس میں سہراب الدین کے ساتھ ہی تھا جبکہ بھیلواڑا میں جس مکان سے تلسی رام کو گرفتار کیا گیا تھا اس مکان کا مالک چندن کمار جھا نے بتایا ہے کہ ۱۵ دنوں سے تلسی اس مکان میں تھا ۔ عدالت کے مطابق جتنی بھی کڑی جوڑنے کی کوشش کی گئی وہ جڑی ہی نہیں ۔ اس لئے سہراب الدین کو کس نے مارا یہ ثابت نہیں ہو پایا ۔ کوثر بی کا کیا ہوا یہ پتہ نہیں چل پایا ۔ خاص بات یہ ہے کہ اتنی ساری خامیوں کے باوجود جج ایس جے شرما پیروی افسر وشواس مینا اور سی بی آئی کے سینئر پی پی بی پی راجو کو یہ کہہ سراہا کہ دونوں نے کیس ثابت کرانے کے لئے بہت کوشش کی ۔

سازش کے تار نہیں جُڑ پائے

سی بی آئی کا الزام رہا ہے کہ سہراب الدین شیخ اور تلسی پرجا پتی مڈبھیڑ ایک ہی سازش کا حصہ تھا ۔ اس لئے سپوریم کورٹ کے حکم پر دونوں معاملہ کی مشترکہ تفتیش کی گئی اور ملزمین کی تعداد ۳۸ ہوگئی ۔ لیکن اس مدت میں تفتیش کی خامیوں کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سازش کے سبھی ۱۶ ملزمین بری ہو گئے ۔ بچ گئے تھے کل ۲۲ وہ پولس ملازمین جو موقعہ واردات پر موجود تھے ۔ چارج شیٹ میں اس معاملہ میں تقریبا ۷۰۰ گواہ تھے ۔ لیکن بلایا گیا صرف ۲۱۰ کو اس میں بھی سازش سے جُڑے گواہون کو نہیں بلکہ دونوں مڈبھیڑ کے پنچ ڈاکٹر ، متعلقہ پولس اہلکار اور تفتیشی اہلکاروں کو ۔ اس میں بھی ۹۲ مکر گئے ۔ سازش سے جُڑے گواہوں کو یہ کہہ کر نہیں بلایا گیا کہ جو ملزمین بری ہو چکے ہیں ان سے جڑے گواہوں کا کیا کام ؟ یہاں تک کہ گواہوں کے کراس ایگزامینیشن میں بھی سازش کے ملزمین سے جُڑے سوالوں کو پچھنے پر بھی ٹوک دیا جاتا تھا ۔ یہ سب کھلی عدالت میں سب نے دیکھا ہے ۔ سازش سے جُڑی تفتیش کو انجام دینے والے سی آئی ڈی کے اس وقت کے تفتیشی افسر رجنیش رائے جومعاملہ میں اہم گواہ ثابت ہو سکتے تھے انہیں گواہی کیلئے طلب ہی نہیں کیا گیا ۔

جج نے اپنے تبصرہ میں واضح طور سے کہا ہے کہ اس معاملہ میں سی بی آئی سچ جاننے کی بجائے پہلے سے لکھی لکھائی کہانی کو ثابت کرنے میں لگی رہی ۔ پورا معاملہ سیاسی مفاد کے تحت کھڑا کیا گیا ۔ پر یہ بھی حقیقت ہے کہ سہراب الدین شیخ کی موت ہوئی اور کوثر بی لاپتہ ہے ۔ سہراب الدین کے انکائونٹر کی ایف آئی آر درج ہے تو کوئی تو اس کے لئے ذمہ دار ہے ۔ لیکن ۱۳ برسوں میں سی آئی ڈی اور سی بی آئی کی تفتیش اور خصوصی عدالت میں مقدمہ کی سماعت کے بعد بھی سچ سے پردہ نہیں اٹھ پانا پورے نظام پر سے بھروسہ اٹھنے جیسا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.