صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

چار سال میں بی جے پی شیوسینا نے مہاراشٹر کو تباہ کردیا: اشوک چوہان

حکومت کی اشتہار بازی زوردار لیکن کام اس کے بالکل برعکس۔ اورنگ آباد ضلع میں جن سنگھرش یاترا کا نہایت جوش وخروش سے استقبال

672

اورنگ آباد: ریاستی کانگریس کا مرکزی وریاستی بی جے پی وشیوسینا حکومت کے خلاف جاری ریاستی سطح کے جن سنگھرش یاترا کے دوران آج یہاں مہاراشٹرپردیش کانگریس کے صدراشوک چوہان نے ریاستی حکومت پر جم کر تنقید کی اور کہا کہ گزشتہ چار برسوںمیں اس حکومت نے مہاراشٹر کو تباہی کے کگار کے پہونچادیا ہے۔ وزیراعلیٰ لوگوں کو گمراہ کرنے والے وعدوں اور اعلانات کے سوا کچھ نہیں کیا۔ پورا مہاراشٹر آج خشک سالی کا شکار ہے لیکن خشک سالی سے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے لوگوں کے دکھ دردسے آگاہی کی ضرورت وزیراعلیٰ کو محسوس نہیں ہورہی ہے جو نہایت افسوسناک ہے۔ یہ حکومت تمام محاذ پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے۔ بی جے پی وشیوسینا نے مل کر پوری ریاست کو تباہی کے دہانے پر پہونچادیا ہے۔

واضح رہے کہ یہ جن سنگھرش یاترا آج اورنگ آبادضلع میں پہونچا جہاں فرداپور وکنّڑ میں عظیم الشان جلسہ ¿ عام کا انعقاد ہوا۔ اس جلسے سے خطابکرتے ہوئے اشوک چوہان نے ملک کی سابق وزیراعظم اندراگاندھی کی برسی اورملک کے پہلے وزیرداخلہ سردار ولبھ بھائی پٹیل کی یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش کی اورمرکزی وریاستی حکومتوں پر چوطرفہ تنقید کی۔ اس اجلاس میں سابق وزیر ہرش وردھن پاٹل، سابق اقلیتی امور کے وزیر اور ریاستی کانگریس کے نائب صدر محمد عارف نسیم خان، ایم ایل اے عبدالستار، سابق ایم ایل اے ڈاکٹر کلیان کالے، نتن پاٹل، کانگریس سیوادل کے ریاستی صدر ولاس اوتاڑے، ریاستی کانگریس کے جنرل سکریٹری پرکاش سوناو ¿نے، رام کشن اوجھا، سکریٹری وجئے کامڈ، شاہ عالم شیخ اوراورنگ آباد شہر کے کانگریس کے صدر سابق یم ایل اے نامدیوراو ¿ پوار وغیرہ موجود تھے۔

جلسے سے خطاب کرتے ہوئے اشوک چوہان نے کہا کہ گزشتہ چار برسوں میں بی جے پی وشیوسینا نے ریاست کو تباہی کے دہانے پر پہونچادیا ہے۔ کسانوں کوان کی فصلوں کی قیمت نہیں مل رہی ہے۔ جن کسانوں کی فصلیں ژالہ باری کی شکار ہوئی ہیں، انہیں معاوضہ نہیں دیا جارہا ہے۔ ڈیڑھ سال قبل اعلان ہونے کے باوجود کسانوں کو قرض معافی کا فائدہ نہیں مل رہا ہے۔ کسانوں کو نہ تو ان کی تباہ ہوچکی فصلوں کا کوئی معاوضہ مل رہا ہے اور نہ ہی نئے فصل کے لئے انہیں قرض دیا جارہا ہے۔ خشک سالی کی وجہ سے کسانوں انتہائی مشکلات کا سامنا کررہے ہیں لیکن وزیراعلیٰ اے سی کیبن میں بیٹھ کر نیوزچینلوں کو محض انٹرویو دے رہے ہیں اور جھوٹے اعداد وشمار پیش کرکے ریاست کی عوام کو گمراہ کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بی جے پی وشیوسینا نے جھوٹے وعدے اور اعلانات کرکے لوگوں کے ووٹ حاصل کئے لیکن گزشتہ چار سالوں میں ایک بھی وعدے پورے نہیں کئے۔ دھنگر سماج کو ریزرویشن دینے کے بارے میں حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ کابینہ کی پہلی ہی میٹنگ میں اس تعلق سے فیصلہ لیا جائے گا لیکن چار سال ہوگئے اور اس دوران سیکڑوں میٹنگیں ہوئیں لیکن دھنگر سماج کے ریزرویشن دینے کے بارے میں کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ یہی حال مراٹھا اور مسلم ریزرویشن کے بارے میں ہے کہ اسے قصداً الجھایا جارہا ہے۔ ریاست میں لاءاینڈ آرڈر کی صورت حال انتہائی ابتر ہوچکی ہے۔ ملک میں سبب سے زیادہ مہنگا پٹرول وڈیژل مہاراشٹر میں فروخت ہورہا ہے ۔ حکومت پٹرولیم پر غیرمناسب ٹیکس وسرچارج لگاکر عوام کو لوٹ رہی ہے۔ ریاست میں سڑکیں انتہائی خستہ حال ہوچکی ہیں۔ اس حکومت کی اشتہار بازی نہایت زوردار ہے لیکن کام اس کے بالکل برعکس۔ اشوک چوہان نے کہا کہ چھترپتی شیواجی مہاراج اور ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا نام لے کر لوگوں سے ان کے ووٹ لئے گئے، لیکن ان کی یادگار قائم کرنے کا کام ہنوز شروع نہیں ہوسکا ہے۔ گزشتہ چار سالوں میں انہوں نے کچھ نہیں کیا اس لئے اب یہ رام مندر کا موضوع دوبارہ لارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مودی نے انتخابات کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ ہرسال دو کروڑ نوجوانوں کو ملازمت دیں گے، لیکن اب ان نوجوانوں کو پکوڑے بنانے کے لئے کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سرحد پر ہمارے فوجی شہید ہورہے ہیں اور مودی پاکستان جاکر نواز شریف کے برتھ ڈے میں شرکت کرتے ہیں۔ اپنے ایک فوجی کے سر کے بدلے پاکستان کے دس فوجیوں کے سرلانے کی بات کرنے والے مودی پاکستان سے شکر لے کرآئے۔ اصل ۶۵انچ کا سینہ سردار پٹیل کا تھا نہ کہ مودی کا ہے۔

اس موقع پرخطاب کرتے ہوئے سابق اقلیتی امور کے وزیر محمد عارف نسیم خان نے کہا کہ مرکز کی مودی وریاست کی فڈنویس حکومت ہر محاذ پر بری طرح ناکام ہوچکی ہے اور اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے وہ ایک بار پھر بابری مسجد ورام مندر کا معاملہ اچھال رہی ہے۔ بی جے پی کے دور میں نہ صرف ریاست بلکہ پورے ملک میں افراتفری کا عالم ہے۔انہیںاس بات کا احساس ہوچکا ہے کہ آئندہ الیکشن میں عوام ان سے ان کے وعدوں اورکاموں کا حساب طلب کرے گی اس لئے یہ عوام کو ہندو مسلم، دیش بھکتی ودیش دروہی جیسے جذباتی باتوں میں الجھانا چاہتے ہیں، لیکن عوام ان سے زیادہ ہوشیار ہے، عوام پر اب بی جے پی کا کوئی داو ¿ نہیں چلنے والا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب سے بی جے پی کی حکومت آئی ہے، اقلیتی طبقے پر ظلم ونا انصافی بڑھ گئی ہے۔ اقلیتی طبقوں کے تحفظ کے لئے یہ فرقہ پرست حکومت تبدیل ہونی چاہئے۔ جبکہ سابق وزیر عبدالستان نے بھی اپنے خاص انداز میں بی جے پی وشیوسینا کی جم کر خبر لی۔

اس جن سنگھرش یاترا کے تیسرے مرحلے کا آج اورنگ آباد کے سنسکرتک میدان میں ایک عظیم الشان اجلاس کے بعد اختتام ہوگا، جس میں راجیہ سبھا میں حزبِ مخالف لیڈر غلام نبی آزاد، آل انڈیا کانگریس کے جنرل سکریٹری ومہاراشٹر کے نگراں کے ملکارجن کھڑگے، ریاستی کانگریس کے صدر اشوک چوہان سمیت ریاست کے تمام اہم کانگریسی لیڈران شریک ہونگے۔

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.