صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

تمباکو نوشی کے سبب ۵۲ سالہ شخص کو کینسر

جسلوک اسپتال میں کامیاب آپریشن کے بعد بتدریج رو بصحت

480

ممبئی : (ریحان یونس) ایک 52 سالہ شخص جو اپنی عمر کے 30 ویں سال سے تمباکو نوشی کرتا رہا ہے حال ہی میں اسے آخری درجہ کا کینسر ہونے کا انکشاف ہوا جو اس کے جبڑوں اور گال میں پھیل چکا تھا ۔ ڈاکٹروں نے اس کے بائیں جبڑے اور گال کا متاثرہ حصہ نکال کر اس کے پیروں کا کچھ حصہ نکال کر متاثر جگہ کی پیوند کاری کی تھی ۔ منہ کے کینسر کا انکشاف ہونے سے مریض کافی صدمہ میں تھا اور وہ تمباکو نوشی ترک کرنے کا ارادہ رکھتا تھا کیونکہ اسے احساس تھا کہ وہ ابھی خطرہ سے باہر ہے ۔ متاثر صنعت کار نے کہا کہ میں غذائیت سے بھرپور خوراک لیتا تھا ۔ منہ میں السر ہونے کے سبب اس کا آغاز ہوا ۔ ابتدائی علاج نہ کروانے کے سبب السر کی بیماری بڑھتی گئی تب ہی ایک ڈاکٹر نے مجھے بایوپسی ٹیسٹ کروانے کی صلاح دی اور میرا شک درست ثابت ہوا ۔

سرجیکل اونکولوجسٹ ڈاکٹر ستیش راو کے مطابق منہ کا کینسر اکثر تمباکو نوشی کی وجہ سے ہوتا ہے ۔ مذکورہ مریض کا جسلوک اسپتال میں آپریشن کرنے کرنے والے ڈاکٹر راو نے کہا کہ اس آپریشن میں مریض کا بایاں جبڑا ، گال اور بائیں جانب کے تمام دانت نکالنے پڑے ۔ متاثر مقام کی پیوند کاری کے لئے ہڈیوں گوشت اور خون کی نالیوں کو بائیں پیر کے نچلے حصہ سے نکال کر متاثر مقام پر پیوند کاری کی گئی ۔ دوران علاج مریض کو تین ماہ تک پتلی غذائیں استعمال کرنی ہوگی ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو نوشی کرنے والوں کو ہر وقت کینسر کا خطرہ ہوتا ہے ۔ لیکن تمباکو نوشی ترک کرنے کے بعد یہ خطرات حد درجہ کم ہو جاتے ہیں ۔ اس لئے ہر کسی کو ان نقصان دہ چیزوں کے استعمال سے دور رہنا چاہیے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.