صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

علماء دین کی خدمت میں

705

ممتاز میر

گذشتہ چند سالوں سے ہم یہ سمجھنے لگے ہیں کہ حضور ﷺ جس طرح عالم دین بھی تھے اور عالم دنیا بھی ۔اسی طرح فی زمانہ عالم کہلانے کا مستحق وہ شخص ہے جو عالم دین بھی ہو اور عالم دنیا بھی۔روایتی مدارس کے فارغ اب عالم نہیں کہلائے جا سکتے۔اب ہم اسرار عالم راشد شاذ وغیرہم قسم کے لوگوں کوعالم سمجھتے ہیں۔حیرت انگیز بات یہ ہے کہ یہ دونوں حضرات مولانا مودودیؒ کی فکر اور لٹریچر کی بدولت ہی یہاں تک پہونچے ہیں مگر ساتھ ہی یہ مولانا کے ناقد بھی ہیں۔اور ان ہی پر کیا موقوف مولانا کے بہت سے متاثرین ان کے ناقدین بھی ہیں اور یہ بھی مولانا کی تربیت کی ایک خوبی ہے۔گروہ بندیوں کے شکار اسے سمجھ تو سکتے ہیں تعریف نہیں کر سکتے۔ چند دنوں پہلے جناب عمر فراہی کا ایک مضمون’’بیسویں صدی کا ابن تیمیہ‘‘نظر سے گزرا تھا۔گو کہ اس وقت اسے سرسری نظر سے دیکھنے کے باوجود ہمیں لگا تھا کہ مولانا مودودیؒ کو ابن تیمیہ سے تشبیہ دیناکچھ نہ کچھ مصیبت لائے گا مگر اتنی جلدی کی امید نہ تھی۔جس طرح ابن تیمیہ نے اپنے وقت میں نئے خیالات پیش کئے تھے اسی طرح مولانا مودودیؒ نے بھی اپنے وقت میں کیا تھا ۔اور وہی کام مودودیؒ کے شاگرد آج کر رہے ہیں۔ابن تیمیہ بھی صاحب سیف و قلم تھے۔اسی طرح مولانا مودودی نے بھی ایک بار ہاتھوں میں ہتھیار اٹھا لیا تھا ۔دارورسن کی آزمائش سے بھی بار ہا گزرے۔اب وہ علماء کرام جو اس سعادت سے محروم رہے انھیں اور ان کے متبعین کو یہ خلش تو تا قیامت رہے گی کہ ہم یا ہمارے اسلاف اس آزمائش کے مکلف کیوں نہ سمجھے گئے؟مگر اس سب کے باوجود ہم یہ سمجھتے ہیں کہ جناب عمرنے مذکورہ مضمون لکھ کر اوراس میں مولانا کی کتاب خلافت و ملوکیت جو کہ ۵۲ سال پہلے لکھی گئی تھی کا ذکر کرکے ’’مہا پاپ‘‘ کیا ہے یہ کتاب دراصل روایتی علماء کے لئے بل فائٹنگ والے سرخ کپڑےMuletaکا حکم رکھتی ہے یا کہہ لیں کہ ان کی چڑ بن گئی ہے۔دیکھئے مولانا ندیم الواجدی اپنے مضمون ’’صحابہء کرام اور جمہورعلمائے امت‘‘ میں جناب فراہی کی تمام باتوں کو پی گئے ہیں مگر خلافت و ملوکیت کو اپنے اسلاف کی طرح پکڑ لیا ہے اور ایسا پکڑا کہ عدل راستبازی کو بھی خیر باد کہہ دیا۔اپنے مضمون میں مولانا ندیم الواجدی لکھتے ہیں’’جماعت اسلامی کے بانی اور مشہور مفکر اور مصنف مولاناابوالاعلیٰ مودودی نے خلافت و ملوکیت لکھ کر صحابہء کرام پر تنقید کے فتنے کو بال وپر عطا کئے حالانکہ ان کے خیالات کا جن کو تاریخی حقائق کہتے ہیں بھر پور رد کیا گیا۔حضرت مولانا محمد میاں دیوبندی نے ’شواہد تقدس‘ لکھ کر مولانا مودودی کو آئینہ دکھلایا۔حضرت مولانا تقی عثمانی نے بھی ’حضرت معاویہ اور حقائق ‘میں اس کا اصولی جائزہ لیا۔‘‘یہاں مولانا ندیم نے بات ختم کردی ہے۔اگروہ ایماندار ہوتے تو مزید لکھتے کہ مولانا عامر عثمانی ؒ دیوبندی نے اپنے رسالے تجلی کے خلافت و ملوکیت نمبر میں شواہد تقدس کا ایسا پوسٹ مارٹم کیا کہ آج تک باڈی کے ٹکڑے جمع نہ کئے جا سکے۔اللہ رحم کرے ،ہمارے روایتی علماء کرام اپنے گروہ کی سبکی سے بچنے کی خاطر اس طرح کتمان حق سے کام لیتے ہیں۔مولانا مودودیؒ نے خلافت و ملوکیت لکھتے وقت ایک سوال قائم کیا تھا وہی سوال آج ہم مولانا ندیم الواجدی سے پھر پوچھتے ہیں۔خلافت ۳۰ سال میں کیوں ختم ہو گئی۔نظام غلط تھا یا حکمرانوں سے لغزشیں ،کوتاہیاں ہوئیں یا خامیاں جوچاہے کہہ لو۔۔تھیں؟آپ صحابہء کرام کا حوالہ دے کر مسلمانوں کو تو چپ بٹھاسکتے ہیں ہم غیر مسلموں کو کیا جواب دیں گے؟آج تو دنیا پہلے کے مقابلے میں بہت کھلی ہوئی ہے ۔مولانا ! یہ مسائل انھیں پیش آتے ہیں جو غیر مسلم ماحول میں رہتے ہیں۔اور ان کے درمیان رہ کراپنے دین کو ناقابل تسخیر بنا کر پیش کرنا چاہتے ہیں۔وہاں صحابہ کے احترام کی باتیں کرنا کار عبث ہے۔اب ظاہر ہے نوجوانوں کو جو جدید وسائل یا ہتھیار فراہم کرے گا وہی عالم مانا جائے گا ۔آپ کتنے ہی بڑے عالم دین ہوں اس کا فائدہ کیا جو ہمیں درپیش مسائل میں کام نہ آسکے۔میرے پاس ایک لمبی فہرست ہے جو کہتے ہیں کہ مودودی ؒ کے لٹریچر نے ہمیں اپنے گرد و پیش میں سر اٹھا کر جینا سکھایا ۔ویسے ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ خلافت وملوکیت کے تو کم وبیش ہر صفحے پرمولانا مودودیؒ نے اس مورخ یا مصنف کا حوالہ دیا ہے جہاں سے انھوں نے اپنا موقف اخذ کیا ہے۔پھر ان مورخین یا مصنفین کو نشانہ بنانے کی بجائے مولانا مودودیؒ کوکیوں نشانہ بنایا جاتا ہے ۔مولانا ہم پر احسان کیجئے اس سوال کا جواب دے دیجئے۔یہ بھی بتائیے کہ طلقاء کن صحابہء کرام کو کہا جاتا ہے اور کیوں؟
ویسے یہ بحث مولانا سلمان حسینی ندوی کی ایک تقریر سے شروع ہوئی۔شاید وہ محرم میں کربلا کے واقعات پر تقریر کر رہے ہوں۔اس تقریر میں انھوں نے لا شعوری طور پر مولانا مودودیؒ کے موقف کی حمایت کردی ہے۔سونے پر سہاگہ عمر فراہی کا مضمون۔۔۔گروہی فتنے پھر جاگ گئے۔مولانا مودودیؒ پھر نشانے پر آگئے۔تفردات کا وظیفہ پڑھا جانے لگا۔ مولانا مودودی ؒ نے ایک بار کہا تھا(ہم بھی یہی سمجھتے ہیں)کہ میری آخرت کی فکر مجھ سے زیادہ میرے مخالفین کو ہے۔ اس مضمون کو لکھتے ہوئے خیالات کا ایک ہجوم دماغ پر یلغار کر رہا ہے ۔اور مضمون کو مربوط رکھنا مشکل ہو رہا ہے ۔ہم نے درجنوں بار لکھا ہے کہ ہم ہندوستانی اصلاًان مشرکین کی اولاد ہیں جو انسان کیا شجر و ہجر کو بھگوان بنا دیتے ہیں۔اس لئے عقیدت میں غلو ہماری گھٹی میں پڑا ہوا ہے۔تو جناب مولانا واجدی صاحب۔جس طرح اللہ آپ کا ہے اسی طرح ہمارا بھی ہے۔حضور ﷺآپ کے ہیں صحابہؓ آپ کے ہیں اسی طرح ہمارے بھی ہیں۔آپ اپنی عقیدت اپنے پاس رکھئے ہمیں اپنی اسٹائل سے دین کو برتنے دیجئے۔آپ اپنی عقیدت میں اپنے اسلاف کو کس طرح بھگوان بنادیتے ہو یہ دیکھنا ہو تو علامہ ارشدالقادری مرحوم کی زلزلہ پڑھئے جس پر ایک دیوبندی عالم عامر عثمانی ؒ کا تبصرہ تھا کہ اگر یہ دیوبندی لٹریچر ہے تو ایسے لٹریچر کو چوراہے پر رکھ کر آگ لگا دینا چاہئے۔
بچپن سے ہمیں یہ بتایا گیا کہ قرآن کو بغیر وضو ہاتھ نہیں لگایا جاسکتا۔مگر اس پر ہماری طبیعت کبھی مطمئن نہیں ہوتی تھی۔ابھی چند سال پہلے فی ظلال القرآن میں اس پر بحث پڑھی۔ سید قطب شہید نے لکھا ہے صرف پاک وصاف ہونا ضروری ہے۔مولانا مودودیؒ خود پکے حنفی اور روایتی طلاق ثلاثہ کے حامی تھے ۔جبکہ ہماری طبیعت حنفی طلاق ثلاثہ کے ہمیشہ خلاف رہی۔ مولانا مودودیؒ نے لکھا ہے کہ نبی ﷺ پرجادو کا اثر سال چھ مہینے رہاتھا ۔ہمارے نزدیک نبی پر جادو کا اثر اتنا ہی ہو سکتا ہے جتنا موسیٰؑ پر ہوا تھا ۔ان تمام باتوں کے باوجودہمارے دل سے ہمارے دماغ سے مولانا مودودیؒ کا احسان ختم کیا کم بھی نہیں ہوتا۔وہ انسان تھے خدا نہیں تھے۔اسی طرح ہمارے صحابہء کرام بھی انسان ہی تھے۔اور یہ بات خود ان کے درمیان موجود اختلافات سے اچھی طرح مترشح ہوتی ہے۔اور بھی بہت ساری باتیں ہیں کیا کیا لکھیں ۔اس سب کے باوجودآپ کوحق ہے کہ آپ صحابہء کرام کے ساتھ جو چاہے معاملہ کریں۔مگر دوسروں کو اپنی لفاظی سے مجبور نہ کریں کہ وہی عقیدہ وہ بھی رکھیں ۔آپ کو خدا کے سامنے اپنا حساب دینا ہے انھیں اپنا ہمیں اپنا۔
کہتے ہیں جو قومیں ماضی سے سبق حاصل نہیں کرتیں ان کا مستقبل بھی سبق بن جاتا ہے۔اس کے باوجود ہم اپنے دوست عمر فراہی سے کہیں گے کہ وہ اپنے ہیرو کی جتنی چاہیں تعریف کریں جہاں چاہیں پہونچادیں مگر امام الہند،شیخ الہندو شیخ الاسلام قسم کے لوگوں پر انگلی نہ اٹھائیں۔انھیں ان کے متبعین کے دماغوں میں بھگوان بنے رہنے دیں اس وقت تک جب تک اسلام غالب نہ آجائے۔تب ہم خوب بحث کریں گے تاکہ پھر مغلوب ہوجائیں۔مستقبل کا ہلاکوجب پھر بغداد پر حملہ آور ہو تو ہمیں خلافت و ملوکیت کی بحث میں مبتلا پائے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔7697376137

Leave A Reply

Your email address will not be published.