صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

اسلام میں علامتی قربانی کا کوئی تصور نہیں یہ مسلمانوں کیلئے ایک مقدس فریضہ ہے :مفتی محمد اسماعیل

36,337

ممبئی: ہندوستان ایک سیکولر ملک ہے دستور ہند نے یہاں رہنے والے تمام مذاہب کے لوگوں کوآزادانہ زندگی گزارنے کا اختیار دیا ہے۔ مہاراشٹر کی مہا وکاس آگھاڑی حکومت کی جانب سے اگر قربانی کے سلسلے میں علامتی قربانی کرکے اس معاملے کو ختم کرنے کی گائیڈ لائن جاری ہوتی ہے تو یہ کسی بھی درجے میں قابل قبول نہیں ہے۔ مہاراشٹر میں جاری دو روزہ مانسون اجلاس کے دوران صحافیوں سےگفتگو کرتے ہوئے صنعتی شہر مالیگاوں سے ایم آئی ایم کے رکن اسمبلی مفتی محمد اسماعیل نے یہ باتیں کہیں ۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام ایک مکمل دین ہے اور اسلام میں قربانی ایک مقدس فریضہ ہے اور اسی فریضے کو مسلمان قربانی کے طور پر انجام دیتے ہیں۔

مفتی اسماعیل نے کہا قربانی کرکے ہم کسی کو تکلیف نہیں دیتے اور نہ ہی ہمارا مذہب ہمیں یہ سکھاتا ہے۔ ہم تو قربانی صرف اللہ کی راہ میں کرتے ہیں اگر سرکار اس قسم کا فیصلہ لیتی ہے کہ قربانی نہ کی جائے بلکہ علامتی قربانی کی جائے تو یہ بات مسلمانوں کو قطعی قابل قبول نہیں ۔ مہا وکاس آگھاڑی سرکار میں ہمیں یکسر نظر انداز کیا جا رہا ہے ، سرکار نے گائیڈ جاری کرنے سے قبل نہ مسلمانوں سے بات کی اور نہ ہی مسلم رہنماوں سے بلکہ اس کے بارے میں حکومت کو فیصلہ لینے سے قبل مسلم رہنماؤں سے مشورہ کرنا چاہیے تھا۔ کسی سے مشورہ نہ کرنا من مانی کرنا یہ بہت غلط بات ہے۔

انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر حکومت کی جانب سے عید الاضحیٰ پر علامتی قربانی کرنے کی گائیڈ لائنز جاری کرنے پر مسلمانوں میں بے چینی اور ناراضگی پائی جارہی ہے جس کی گونج اسمبلی سیشن میں بھی سنائی دی۔ مفتی اسماعیل قاسمی نے کہا کہ مسلمانوں نے ابھی تک جو بھی کیا ہے وہ ہمیشہ قانونی طریقے سے کیا ہے لیکن اسلام میں علامتی قربانی کا کوئی تصور نہیں ہے۔ اس لیے حکومت کو فوری طور پر اس گائیڈ لائنز پر نظر ثانی کرنا چاہیے۔

قربانی کے معاملے میں ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور نواب ملک کی خاموشی اور قربانی پر فلمی ڈائیلاگ ’’قربانی اللہ کو پیاری ہوگئی‘‘ بولنے پر مفتی اسماعیل نے کہا کہ ‘نواب ملک اس وقت مہا وکاس آگھاڑی اتحاد میں نہ صرف شامل ہیں بلکہ اقلیتی امور کے وزیر بھی ہیں انہیں مسلمانوں کی نمائندگی کرتے ہوئے حکومت سے بات کرنی چاہئے تھی۔ قربانی جیسے سنجیدہ مسئلے پر اس طرح سے نہیں بولنا چاہیے کیونکہ یہ مسلمانوں کا اہم مذہبی فریضہ ہے۔ وہ بھلے ہی برسرِ اقتدار حکومت کے وزیر ہیں لیکن مسلمانوں کے مسائل کے تعلق سے اُنہیں حکومت سے بات کرنی چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام میں قربانی ایک مقدس فریضہ ہے اور اسی فریضے کو مسلمان قربانی کے طور پر انجام دیتے ہیں۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.