صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مرحوم الیاس اعظمی سیاسی وسماجی سوجھ بوجھ رکھنے والی ایک عظیم شخصیت تھے،جوزندگی کے ہر ایک پہلو پر نظر رکھتے تھے اور ضمیروملت کاکبھی سودا نہیں کیا،تعزیتی اجلاس میں ریاست اور ملک کی قدآور شخصیات اور معززین نے اظہار خیال کرتے ہوئے ان کی موت کو ملت وقوم کا بھاری نقصان قراردیا

76,636

مرحوم الیاس اعظمی سیاسی وسماجی سوجھ بوجھ رکھنے والی ایک عظیم شخصیت تھے،جوزندگی کے ہر ایک پہلو پر نظر رکھتے تھے اور ضمیروملت کاکبھی سودا نہیں کیا،تعزیتی اجلاس میں ریاست اور ملک کی قدآور شخصیات اور معززین نے اظہار خیال کرتے ہوئے ان کی موت کو ملت وقوم کا بھاری نقصان قراردیا سابق ممبرپارلیمنٹ اور ہر دلعزیز سیاسی رہنماء الیاس اعظمی سیاسی وسماجی سوجھ بوجھ رکھنے والی ایک عظیم شخصیت تھے

جو زندگی کے ہر ایک پہلو پر گہری نظر رکھتے تھے،خصوصی طور پر سیاست،تاریخ اور سماجی انصاف کے ساتھ ساتھ مسلم مسائل کے تعلق سے ان کی گرفت کافی مضبوط رہی اور ساری عمر اس اقلیتوں ،دبے ،کچلے اور پسماندہ طبقات کو انصاف دلانے کے لیے جدوجہد کرتے رہے۔

ان خیالات کا اظہار گزشتہ مرحوم الیاس اعظمی کے تعزیتی اجلاس میں ریاستی اور قومی شخصیات نے انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کیا۔

اور یہ بھی اظہار کیا گیا کہ ملک کی موجودہ سنگین صورتحال میں آج شدت سے ان کی کمی محسوس ہورہی ہے۔

مہاراشٹر کے کابینی وزیر اور سنئیر رہنماء چھگن بھجبل نے اپنے اچھوتے انداز میں یہ کہہ کر سب کا دل جیت لیا کہ "مرحوم الیاس اعظمی ایسی شخصیت کے مالک تھے جو جب بھی سامنے آجائے تو ان کے پیر چھونے کو دل چاہتا ہےاورپندرہ بیس سال کے تعلقات کے دوران میں نے محسوس کیا کہ وہ ملک کی سیاست کے ہر ایک پہلو سے واقف ہیں اور اس پر کسی بھی موقع پر مدلل بولنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

ہندوستانی تاریخ ،سیاست اور سماجی انصاف پر گہری نظر رکھتے تھے اور انہوں نے اس کے لیے تاحیات جدوجہد بھی کی۔”اپنے صدارتی خطبہ میں سابق گورنر جھاڑ کھنڈاور میزورم عزیز قریشی نے بڑی بے باکی سے اس بات کا اظہار کیا کہ تاریخ گواہ ہے کہ شخصیات حالات اور وقت بناتے ہیں ،لیکن مرحوم الیاس اعظمی ایسی شخصیت کے مالک رہے جو تاریخ مرتب کرتے ہیں اوریہی وجہ ہے کہ وہ اپنی بے باکی اور جرات مندی سے کسی کے سامنے اپنی بات کہنے سے نہیں چوکتے ہیں۔انہوں نے اس بات پر تشویش کا اظہار کیا کہ مسلمانوں کو ملک میں ڈرانے کی کوشش کی جارہی اوریہ لوگ ڈرنے لگے ہیں،لیکن ہم قرآن اور پیغمبر ص کو ماننے والے ہیں ، اس لیے ڈرنا نہیں چاہئیے۔عزیز قریشی نے کہاکہ ہندوستان میں کچھ عناصر اسپین کی تاریخ دوڑانے کی کوشش کررہے ہیں،جہاں کے مسلمانوں نے دنیا کو سائنس ،الجبرا اور طب سے مالا مال کیا لیکن اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے اسپین کی 800 سال مسلم۔حکومت کا خاتمہ ہوگیا۔انہوں نے کہاکہ ملک کے اتحاد کے لیے مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتے ہیں ،لیکن حد سے تجاوز کیے جانے پر اینٹ کا جواب پتھر سے دینے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔

ہندومت پر اظہار خیال کرتے ہوئے عزیز قریشی نے کہاکہ ہندوتوا آرآرایس اور بی جے پی کی دین ہے ،اور ان کی کوشش ملک کی تہذیب وتمدن اور وراثت کو تباہ کرنا ہے جبکہ ہندومت ایک عظیم فلاسفہ ہے،عزیز قریشی نے کہاکہ مسلم۔لیڈروں کے بارے میں یہ عام خیال ہے۔انہیں خریدا جاسکتا ہے۔

قابل فروخت ہے،لیکن الیاسی اعظمی کی شخصیت ان سے کافی بلند تھی ایسی شخصیت جوتاریخ کو جنم دیتی ہے۔جودھپور مولانا آزاد یونیورسٹی کے سابق چیئرمین اور وائس چانسلر اور ماہر اسلامیات اختر الواسع نے الیاس اعظمی کی شخصیت کے کئی پہلوؤں پر روشنی ڈالی ۔اور کہاکہ ان کی جیسی شخصیت برسوں اور صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں، جو ملک اور ملت کے فکر مند رہتی اور ان۔کی فلاح وبہبود اور سرخروئی کے لیے تن من دھن کی بازی۔لگادیتے ہیں۔الیاس اعظمی سیکولرزم اورجمہوریت کی بقاء کے لیے سرگرم رہے۔

ایسے دور میں جب ملک ایک نازک دور سے گزر رہا ،الیاس اعظمی کی کمی شدت سے محسوس کی جائے گی،کیونکہ یہ ایک ایسا دور ہے جس میں حالات کا شکار ہم ہی بن رہے ہیں۔لیکن ہمیں مایوس ہونے کی ضرورت مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پر اعتماد رہنا ہے۔

مشہور سنئیرصحافی معصوم مرادآبادی نے کہاکہ وہ گزشتہ دوتین دہائیوں سے پارلیمنٹ کی رپورٹنگ کررہے ہیں۔اور یہ پایا کہ الیاس اعظمی دوراندیشی اور حکمت عملی کے ساتھ رائے بناتے تھے۔جذباتی فیصلے نہیں کرتے تھے،انہوں نے ہمیشہ ہوا کے رخ کے خلاف کام کرتے تھے اور اپنی بات پر دلیل کے ساتھ اٹل رہتے تھے۔جبکہ وہ سیاست پیسہ خرچ کرکے کرتے اور ان کی اولاد نقش قدم پر چل رہی ہے۔

انہوں نے ایک واقعہ بتا یا کہ جمعہ کے روز الیاس اعظمی پارلیمنٹ کی مسجد کے باہر درخت کے نیچے کھڑے رہ۔کرعوام ی مسائل سنتے تھے۔جبکہ دوسرے ممبران نماز کی ادائیگی کے بعد فورا چلے جاتے تھے۔

صدر انجمن اسلام ڈاکٹر ظہیرقاضی نے انہیں ایک مثالی شخصیت قرار دیتے ہوئے کہاکہ ہمیں انہیں ،رول ماڈل بنانا چاہیئےانہوں نے مالیگاوں بم بلاسٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہاکہ انہوں نے پارلیمنٹ میں بے باک سے پیش کیا اور ملت وقوم کو کبھی بچنے والے انسان نہیں تھے۔علماء سے جڑے ہوئے تھے ۔ایک ایسے انٹلکچول سیاست دان تھے۔چائے پر چرچہ رکھتے اور کھل کر اظہار کرتے تھے۔

ڈاکٹر ظہیرقاضی نے ان کے صاحبزادے ارشد صدیقی کو مشورہ دیا کہ تعلیمی ادارے قائم کیے ہیں اور وہ مجھ سے کہتے تھے کہ تعلیمی وراثت چھوڑے جانا چاہیئے۔جبکہ ان کے نام پرسالانہ ٹاک رکھا جائے ،انجمن اسلام تعاون کرے گا۔ایم ایل اے امین پٹیل نے کہاکہ انہیں سیاست پرعبور حا صل تھا ۔

قوم اور سیاست میں بڑھ چڑھ حصہ لیتے اور ملی مسائل پرکھل کر بولتے تھے۔بلکہ حصہ لیتے تھے۔فی الحال وقت نازک ہے ،لیکن۔مایوس ہونے کی ضرورت نہیں ہے یہ نازک دور بھی نکل جائے گا ۔مسلم پرسنل لاء کے رکن مولانا محمود دریا بادی نے بھی انہیں ایک باشعور سیاستداں قراردیا۔لکھنئو سے تشریف فرما نفیس اعظمی نے اپنے خیالات پیش کیے ۔

انہوں نے کہاکہ الیاس اعظمی نے ہمیشہ مظلوموں کا ساتھ دیتے اور ملی مسائل۔پران کی واضح پالیسی رہی۔تکی الدین ندوی پرروفیسر ابو ظہبی یونیورسٹی نے انہیں سیاست میں رحمت کا نمونہ تھے اور سیاست میں انکا ہاتھ کوئی پکڑنہیں سکتا تھا،ایک خاص بات بتائی کہ انہوں نے آخیر تک علماء اور دانشوروں سے رابطہ رکھا۔ہمیں بھی ان سے مشورہ کو شامل زندگی رکھا جائے۔یہ۔

ایمان کاجز ہے۔زندگی میں سرگرم رہیں،لیکن اللہ والوں کے رابطے میں رکھیں۔سابق ایم۔پی اور رضوی ایجوکیشنل سوسائٹی کے روح رواں ڈاکٹر اختراحن رضوی نے کہاکہ وہ زمینی لیڈر تھے اور وہ کھل کر اظہار کرتے تھے ۔ضمیر کے ساتھ رکھتے تھے اور قوم کا سودا کبھی نہیں کیا۔دراصل الیاس اعظمی کو ” ون مین آرمی”:کہہ سکتے ہیں۔انہوں نے یہ سبق دیا کہ آپ باضمیر رہیں گے تو قوم بھی آپ کی قدر کرے گی۔ اپنی بات بولنے سے گریز نہیں کرتے تھے۔

الہ آباد یونیورسٹی کے سابق اسٹوڈنٹس لیڈر اکھلیش پرتاپ نے کہاکہ مجھ میں اور ان۔میں زمین آسمان کا فرق رہا میں ناستک اور وہ پکے نمازی تھے ،لیکن۔1982 سے ساتھ رہا۔وہ جلدی چلے گئے،ملک میں ابھی ان کی ضرورت تھی۔کیونکہںہندوستان میں حالات انتہائی سخت ہیں اور زمینی لیڈر تھے۔ایسے علاقوں کام کیا۔جہاں گولیاں بھی چلتی تھیں اور مارکٹائی بھی ہوتی تھی۔

بدراعظمی نے کہاکہ ڈاکٹرفریدی کے ساتھ مجلس مشاورت میں رہے اور۔ہندومسلم اتحاد کے لیے ہمیشہ سرگرم۔رہے،انہوں نے بھر پور تعاون۔دلت اور پسماندہ طبقات کے لیے نفیس عباسی کے ساتھ کام کیا۔گلف ممالک میں مواقع فراہم ہونے لگے،چنانچہ انٹر نیشنل پاسپورٹ کے لیے اٹل بہاری واجپائی کو میمورنڈم دیا اور وزارت خارجہ نے اقلیتی فرقے کے پاسپورٹ کے لیے سہولیات فراہم کیں۔اور آسانی سے پاسپورٹ بننے لگے۔

وہ ایک ۔دوراندیش انسان تھے اورپہلےہی بتاچکے تھے کہ بی جے پی کی حکومت بنے گی۔راج ناتھ سے ملاقات کا ذکر کیا۔ اہم بات یہ تھی ریزرویشن 28 فیصد میں سے مسلمانوں کو8.5 فیصدریزرویشن دینے پر اتفاق ہوا تھا لیکن حالات بدل کررہے گئے،اس اہم مشن کو اپنوں نے سبوتاز کردیا ان کی۔دوسروں نے نہیں بلکہ اپنوں نے بھی قدر نہیں کی۔

ڈاکٹر ایم اے پاٹنکر نے انہیں ایک یاد رکھے جانے والی شخصیت قرار دیا جبکہ۔اسلسم جمخانہ والا کے صدر اور سابق ایم ایل اے ایڈوکیٹ یوسف ابراہانی نے کہاکہ انہیں خوشی ہے کہ ان کی اولاد ان کے نقش قدم۔پر چل رہی ہے۔ابتداء میں سعید خان نے تعارف پیش کیا اور ایک ڈاکومینٹری دکھائی گئی جس کا اسکرپٹ معصوم مرادآبادی اور آواز پروفیسر قاسم امام نے دی ہے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.