صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مہاراشٹر حکومت کے عدم استحکام کی بات محض افواہ : شرد پوار

این سی پی سربراہ نے یہ بھی کہا کہ ادھو ٹھاکرے حکومت اور مقننہ کے لئے نئے ہیں اس کے باوجود خوش اسلوبی سے ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں

268,689

ممبئی : مہاراشٹر میں جاری سیاسی رسہ کشی کے درمیان این سی پی کے سربراہ شرد پوار نے واضح کیا ہے کہ حکومت کا عدم استحکام محض ایک افواہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مہاوکاس اگھاڑی میں شامل دوست پارٹیاں آپس میں متحد ہو کرریاست میں کورونا کے خلاف جنگ میں حصہ لے رہی ہیں ۔ ریاست میں چونکہ کورونا کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے جوکہ تشویش ناک صورتحال بنی ہوئی ہے لیکن اس پر جلد ہی قابو پالینے میں مہاراشٹر سرکار کامیاب ہو جائے گی ۔ شرد پوار نے ایک انٹرویو دیتے ہوئے ادھو ٹھاکرے کو بطور وزیر اعلی کامیاب ترین ریاستی سربراہ قرار دیا ۔ انہوں نے سابق وزیر اعلیٰ دیویندر فڑنویس کا نام لئے بغیر کہا کہ اگھاڑی میں رنجش کی باتیں بی جے پی کے ایک لیڈر کی جانب سے آئی ہیں اور اسے ہوا دینے کا کام میڈیا کے چند لوگوں نے کیا ۔

شرد پوار نے مزید کہا کہ سب سے بڑی پارٹی ہو کر بھی اقتدار سے دور رہنے والی بی جے پی ابھی تک شکست کی شرمندگی سے دوچار ہے اس پر طرہ یہ کہ اسمبلی انتخابات کے بعد حکومت بنانے کی غیرآئینی ، غیر قانونی اور ناکام کوشش کی وجہ سے گہرا دھچکا لگا ہے ۔ بی جے پی کو چاہئے کہ وہ سچائی کو قبول کرتے ہوئے کورونا کے خلاف جاری جنگ میں حکومت کا ساتھ دے ۔ کورونا کا قہر نہ صرف مہاراشٹر بلکہ پورے ملک میں جاری ہے ۔ ملک کے تمام صوبے اس سے لڑ رہے ہیں ۔ مہاوکاس اگھاڑی سرکار کورونا سے پوری قوت کے ساتھ جنگ کر رہی ہے ریاستی حکومت کو کسی بھی قسم کا خطرہ نہیں ہے ۔ عوام سیاسی اور انتظامی استحکام چاہتے ہیں جو ہماری حکومت دے رہی ہے۔

پوار نےادھو ٹھاکرے کے تعلق سے کہا کہ وہ حکومت اور مقننہ کے لئے نئے ہیں اس کے باوجود بہت ہی خوش اسلوبی سے حکومت کی ذمہ داریاں نبھا رہے ہیں ۔ جبکہ وہ پہلی بار قانون ساز کونسل کے رکن بننے کے ساتھ ایک مخلوط اور مستحکم حکومت بھی چلا رہے ہیں ۔ شیوسینا سے لے کر این سی پی اور کانگریس تک ان کی کابینہ میں بہت سے سینئر وزرائ ہیں ۔ اس کے باوجود میں یہ ضرور کہوں گا کہ ٹھاکرے اچھے وزیر اعلی اور ٹیم لیڈر کے طور پر ابھرے ہیں اور ان کے کام کرنے کا اندازنہ صرف سب سے جدا ہے بلکہ مثبت بھی ہے ۔ وہ اپنے اتحادی سے باقاعدگی سے صلاح و مشورہ بھی کرتے ہیں ۔ وزیر اعلی کی حیثیت سے کئی گھنٹوں تک کام کرتے ہیں ۔

ریاست سے کورونا کے خاتمے کے تعلق سے انہوں نے کہا کہ مہاراشٹر کی کچھ خصوصیات کو سمجھنا ضروری ہے ۔ ہمارے پاس گنجان آبادی والےممبئی جیسے بڑے بڑے کئی شہر ہیں ۔ کچی آبادی اور قصبے کی تعداد بھی زیادہ ہے ۔ شردپوار نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ پاورلوم کا شہرمالیگاؤں جہاں اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد جو پاور لوم صنعت سے منسلک ہیں ان کے کارخانے اور مکان ایک ہی جگہ ہیں ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ایک ہی جگہ کام اور رہائش رکھتے ہیں جس کی وجہ سے معاشرتی دوری مشکل ہوچکی ہے اور یہاں انفیکشن میں مسلسل اضافہ ہوتا جارہا ہے ، لیکن ماضی سے کچھ مثبت رجحانات بھی سامنے آئے ہیں اور ہمیں یقین ہے کہ ہم کامیاب ہوں گے ۔

ریاست میں جاری لاک ڈائون کے خاتمے کے تعلق سے کہا کہ دو ماہ تک لاک ڈاؤن باقی رہے گا ۔ اس تعلق سے مرکزی حکومت کیا فیصلہ کرتی ہے ، مجھے نہیں معلوم مگر لاک ڈائون کی چوتھی مدت تک ریاست کی معاشی حالت بہت خراب ہوچکی ہے اس لئے کاروبار کو آہستہ آہستہ شروع کرنا چاہئے ۔ کورونا کی اس وبأ سے لڑتے ہوئے کاروبار ، صنعت اور معیشت کو دوبارہ شروع کرنا ضروری ہے ۔ یقینا ہمیں کام کے ساتھ ساتھ معاشرتی دوری ، صفائی ستھرائی کا بھی خیال رکھنا ہوگا ۔

شردپوار نے مزید کہا کہ ‘مہاراشٹر ایک ایسی ریاست ہے جہاں یوپی ، بہار ، شمالی ریاستوں اور ہندوستان کے دیگر حصوں کے لوگوں کو بھی روزگار مہیا کراتی ہے ۔ یہاں سے روزانہ 40 سے زیادہ ٹرینیں روانہ ہوتی ہیں ۔ مجھے یاد ہے اسمبلی انتخابات کی تشہیری مہم کے دوران بی جے پی کے ایک رہنما (امیت شاہ) ہر جلسے میں پوچھتے تھے کہ ’شرد پوار نے مہاراشٹر کے لئے کیا کیا‘؟ تب میں نے کہا تھا شرد پوار اور مہاراشٹرا نے یہی کیا ہے کہ ہم ہندوستان بھر میں لوگوں کو روزگار فراہم کرتے ہیں ۔ بی جے پی نہ تو اسے سمجھ سکتی ہے اور نہ ہی اس کی تعریف کر سکتی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.