صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ممبئی میں ریپ ،گینگ ریپ اور اغوا کی وارداتوں میں کمی نہیں آئی ، آر ٹی آئی سے ہوا خلاصہ 

1,057

 

شاہد انصاری
ممبئی :سال دوہزار تیرہ میں ممبئی کے شکتی مل میں خاتون فوٹو گرافر کے ساتھ ہوئے اجتماعی زنا بالجبر کے بعد ممبئی پولس نے سخت قانون بنائے لیکن معاملہ آج بھی جوں کا توں برقرار ہے ۔ممبئی میں اجتماعی زنا بالجبر کی وارداتوں میں کسی بھی طرح کی کمی نہیں آئی ایسی معلومات آر ٹی آئی سے سماجی کارکن چیتن کوٹھاری نے حاصل کی ہے ۔
ممبئی میں اپریل دو ہزار سترہ سے لے کر مارچ دو ہزار اٹھارہ تک جنسی زیادتی کے نو معاملے درج کئے گئے ہیں ۔یہ جانکاری آر ٹی آئی کے ذریعہ حاصل کی گئی ہے ۔آر ٹی آئی سے یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ سال دو ہزار چودہ میں اٹھارہ اجتماعی زنا بالجبر کے معاملات درج کئے گئے تھے ۔دوہزار تیرہ میں بھی اٹھارہ ہی تھے دو ہزار بارہ میں آٹھ ،دوہزار گیارہ میں نو اور دو ہزار دس میں سات معاملے تھے جبکہ سال دوہزار نو میں اجتماعی زنا بالجبر کے دس معاملے روشنی میں آئے تھے ۔
زنا بالجبر کے ساتھ جنسی زیادتی اور اغوا کی وارداتوں میں بھی گذشتہ دس سالوں میں کمی آنے کی بجائے اضافہ ہی ہوا ہے ۔آر ٹی آئی سے ملی معلومات کے مطابق اپریل دو ہزار سترہ سے لے کر مارچ دو ہزار اٹھارہ تک جنسی زیادتی کے آٹھ سو دوجبکہ اغوا کے دو ہزار ایک سو انسٹھ معاملے درج کئے گئے ۔یہ ریکارڈ یہ بتاتا ہے کہ بیتے دس برسوں میں جنسی زیادتی اور اغوا کی وارداتوں میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے ۔
سال دوہزار تیرہ میں جنسی زیادتی کے چار سو چھتیس اور اغوا کے دو سو ساٹھ معاملے درج کئے گئے وہیں دو ہزار چودہ میں جنسی زیادتی کے چھ سو پانچ معاملے اور اغوا کے پانچ سو بیالیس معاملے درج ہوئے ۔یکم جنوری دو ہزار پندرہ سے اکتیس مارچ دو ہزار پندرہ تک جنسی زیادتی کے ایک سو بہتر معاملے اور اغوا کے تین سو چھیالیس ریکارڈ کئے گئے ۔یکم اپریک دو ہزار پندرہ سے اپریل دو ہزار سولہ تک جنسی زیادتی کے پانچ سو بیالیس اور اغوا کے اٹھارہ سو چار درج ہوئے ۔
ممبئی میں جنسی زیادتی کو لے کر ہم اور پہلے کے درج معاملات پر نظر ڈالتے ہیں پہلے مقابلے ان میں اضافہ ہوا ہے ۔سال دو ہزار دو میں جنسی زیادتی کے ایک سو اٹھائیس اور اغوا کے ایک سو انیس ،سال دو ہزار تین میں جنسی زیادتی کے ایک سو تینتیس اور اغوا کے ایک سو پچاس ،سال دو ہزار چار میں جنسی زیادتی کے ایک سو چھیاسی اور اغوا کے ایک سو پچھتر،سال دو ہزار پانچ میں جنسی زیادتی کے ایک سو اٹھانوے اور اغوا کے ایک سو ستانوے ،سال دو ہزار چھ میں جنسی زیادتی کے ایک سو ترسٹھ اور اغوا کے ایک سو چھیاسی ،سال دو ہزار سات میں جنسی زیادتی کے ایک سو بہتر اور اغوا کے ایک سو چھہتر،سال دو ہزار آٹھ میں جنسی زیادتی کے دو سو پندرہ اور اغوا کے ایک سو نواسی ،سال دو ہزار نو جنسی زیادتی کے ایک سو اٹھہتر اور اغوا کے ایک سو اڑتالیس ،سال دو ہزار دس میں جنسی زیادتی کے ایک سو بیانوے اور اغوا کے ایک سو بیانوے ،سال دو ہزار گیارہ میں جنسی زیادتی کے دو سو انیس اور اغوا کے دو سو بیس معاملے درج کئے گئے جبکہ سال دو ہزار بارہ میں جنسی زیادتی کے دو سو اکتیس اور اغوا کی دو سوگیارہ وارداتوں کو درج کیا گیا ۔
ان معاملوں کو دیکھ کر سماجی کارکن شوکت علی بیڈگری نے کہا کہ درج معاملوں کو دیکھ کر اغوا اور زنا بالجبر جیسی وارداتوں کو لے کر ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ ان میں اضافہ ہوگیا ہے بلکہ اس کا ایک اور پہلویہ بھی ہے کہ اب معاملے زیادہ درج ہو رہے ہیں ۔پہلے اس قسم کے معالات پر پولس اسٹیشنوں میں متاثرہ کی شکایت پر توجہ دینے کی بجائے پولس والے ڈرا دھمکا کر بھگا دیتے تھے ۔اب حالات بہت بدل گئے ہیں ، اب پولس کو کسی بھی حال میں معاملہ درج کرنا ہوتا ہے ۔دوسری اہم بات یہ ہے کہ ہمیں یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ اس پر سزا کتنوں کو ہوئی اور بری کتنے ہوئے ۔ایک بات اور کہ خواتین کے تحفظ کے لئے ممبئی پولس نے جو خواتین سیل شعبہ بنایا ہے وہ بھی کسی کام نہیں ہے اس میں کارکنوں کی تعداد بہت کم ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.