صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بہار کی طرز پر ممبئی میں جادو گر پولس والے کے پپو بیٹے نے ایم پی ایس سی پاس کیا 

737
مکرند دگڑ کھیر

 

شاہد انصاری 

ممبئی : ممبئی پولس کے جادوگر  جگاڑو پولس انسپکٹرسبھاش دگڑکھیر کے بیٹے  پپو  نے  ایم پی ایس سی پاس کیا ہے ۔اس کے بعد پولس محکمہ میں اس جادوگر  جگاڑو پولس والے کے پپو بیٹے کی وجہ سے افراتفری ہے ۔ ممبئی پولس کے جادو گر انسپکٹر سبھاش دگڑ کھیر کے بیٹے مکرند دگڑ کھیر نے اسی سال ایم پی ایس سی کے تحت بی ایم سی کے اسسٹنٹ کمشنر عہدہ کے لئے ہونے والے امتحان پاس کرلیا ہے ۔اس کے بعد محکمہ میں پپو پاس ہو گیا کے بول گونج رہے ہیں ۔کیوں کہ باپ جادو گر تو ہے ہی اب جلد ہی بیٹا بی ایم سی میں اسسٹنٹ کمشنر بنے گا ۔کئی اہلکار ابھی بھی اس فکر میں ہیں کہ آخر جادو ٹونے کا اثر یہاں کیسے ہو سکتا ہے ۔اس سوچ کی وجہ یہ ہے کہ پپو پڑھنے لکھنے میں بالکل پپو ہی ہے پھر وہ ایم پی ایس سی کے امتحان میں پاس کس طرح ہو گیا ۔اس کا پاس ہونا کسی سحریا جادو ٹونا سے کم نہیں ہے ۔ان باتوں کو دیکھتے ہوئے ہم نے ممبئی پولس کے ساحر پولس والے اور پپو کے والد سبھاش دگڑ کھیر سے رابطہ کیا اور پپو کے ویڈیو انٹر ویو کی بات کہی لیکن دگڑ کھیر نے رابطہ سے منقطع کردیا ۔اس کے بعد انہونے  دوسرے نمبر سے فون کیا جب ہم نے انہیں ان کے بیٹے  مکرند دگڑ کھیر کے ویڈیو انٹر ویو کی بات کی تو انہوں نے کوئی جواب نہ دیا اور فون کاٹ دیا۔اس کے بعد انہوں نے  مسیج بھیج کر کہا انہوں نے کہا کہ ان کے ہو نہار بیٹے مکرند دگڑ کھیر نے اب تک کسی بھی قسم کا ایم پی ایس سی کا امتحان پاس نہیں کیا ہے ۔حالانکہ ایم پی ایس سی کی جو لسٹ ہمارے پاس ہے اس میں پپو مکرند دگڑ کھیر تحریری امتحان میں پاس ہوا ہے اور اس کا رول نمبر MB003182 ہے اور چار مئی کوصبح نو بجکر پینتالیس منٹ پر اس کا انٹر ویو ہوا ہے فی الحال لوگوں کی نگاہیں اس پر ٹکی ہوئی ہیں کہ جس طرح سے پپو تحریری امتحان میں پاس ہوا ہے کیا اب انٹر ویو میں بھی اسی طرح کا جادو ہوگا تب جاکر پپو پوری طرح پاس ہوگا ۔
چاروں طرف شور بپا ہے کہ پپو پاس ہو گیا
سماجی کارکن شوکت علی بیڈگری نے کہا اگر کسی امید وار نے ایم پی ایس سی پاس کیا ہے اب اگر وہ امید وار ویڈیو انٹر ویو میں آنا کانی کررہا ہے تو ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ دال میں کچھ کالا ہے ۔ کیوں کہ ویڈیو انٹر ویومیں اس سے اس کی صلاحیت کے مطابق سوال پوچھے جائیں گے اور وہان کے جواب ڈھنگ سے نہیں دے پائے گا تو اس کی پول اسی طرح کھل جائے گی جیسے بہار کے ٹاپر کی کھلی تھی ۔ اس لئے اس معاملے میں پپو سمیت ان سارے امیدواروں کی تفتیش ہو نی چاہئے جنہوں نے سال دو ہزار اٹھارہ میں ایم پی ایس سی پاس کیا ہے ۔ کیوں کہ ایسے نہ جانے کتنے امیدوار ہیں جو ایک بار نہیں بلکہ کئی بار محنت کرنے کے باوجود امتحان پاس نہیں کر پاتے اور پپو ایک ہی بار میں پاس ہو گیا تو اس کے پیچھے ضرور کسی جادو یا جگاڑ ہوگا جس نے ایک ہی جھٹکے میں ایم پی ایس سی کا امتحان پاس کرلیا ۔بیڈ گری نے مطالبہ کیا ہے کہ اس کی اعلیٰ سطحی جانچ ہونی چاہئے اور پپو کا ویڈیو انٹر ویو ہونا چاہئے ۔اس میں اس سے ایم پی ایس سی کی سطح کے سوالات کئے جائیں ۔جس کا جواب امتحان میں پپونے دیا ہے تب ہی دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو پائے گا اور یہ بھی پتہ چل جائے گا کہ ایم پی ایس سی کے اس سال کے امتحان میں پپو کے پیچھے کس قسم کا جادو یا جگاڑ کا ہاتھ ہے جس کے دم پر پپو پاس ہو گیا ۔اگر اس معاملے کی جانچ نہیں ہوئی اور اسے سنجیدگی سے نہیں لیا گیا تو ہم حکومت سے تحریر ی طور پر جانچ کا مطالبہ کریں گے نیز اس معاملے کی تفتیش کیلئے ہائی کورٹ بھی جائیں گے ۔

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.