صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

سال نو ، اے سال نو!

511

محمد حسین ساحلؔ ۔ ممبئی

اے سال نو! اتنا بتا! تو اپنے ساتھ کیا لائے گا؟

زخموں کی سوغات لائے گا؟

آنسوئوں کی برسات لائے گا؟

معصوموں کی آہیں لائے گا؟

اے سال نو! اتنا بتا! تو اپنے ساتھ کیا لائے گا؟

لہو سے تر ہولی لائے گا؟

پھٹتے بموں کی دیوالی لائے گا؟

مرجھائے پھولوں کی لالی لائے گا؟

اے سال نو! اتنا بتا! تو اپنے ساتھ کیا لائے گا؟

لٹتی عصمتوں  کا بازار لائے گا؟

نیزے  پہ معصوموں کا سر لائے گا؟

جلتے گھروں کا منظر لائے گا؟

خون میں لت پت خنجر لائے گا؟

اے سال نو! اتنا بتا! تو اپنے ساتھ کیا لائے گا؟

تیلگی جیسا بدکار لائے گا؟

شرما جیسا مکار لائے گا؟

ظالم حکمراں اور حوالات لائے گا؟

یا پھر جلتا ہوا گجرات لائے گا؟

اے سال نو! اتنا بتا! تو اپنے ساتھ کیا لائے گا؟

بے روزگاری کا سیلاب لائے گا؟

نوٹ بندی کا عذاب لائے گا؟

عدم مساوات کی کتاب لائے گا؟

جھوٹے وعدوں کی تراب لائے گا؟

یا نا اہل حکمراں کا عتاب لائے گا؟

اے سال نو! اتنا بتا! تو اپنے ساتھ کیا لائے گا؟

OOO

Mohd.Husain Sahil

Email:husainarjuli@gmail.com

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.