صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مزمل شیخ نے میرا روڈ آکر  اپنی بیمار ماں کی عیادت کی 

چند گھنٹوں کیلئے ناسک جیل سے میرا روڈ آنے کا خرچ ۷۰ ؍ہزار روپئے

1,008

ممبئی : مزمل شیخ جنہیں سیشن کورٹ سے ممبئی بم دھماکہ مقدمہ میں سزا ہوئی ہے اور جو ناسک سینٹرل جیل میں ہیں ۔ آج صبح گیارہ بجے میرا روڈ اپنی رہائش گاہ پر پولس کی بھاری جمعیت اور سنگینوں کے سائے میں آئے اور اپنی بیمار ماں کی عیادت کی ۔ اس درمیان پورے میرا روڈ کے اس علاقہ کو پولس چھائونی میں تبدیل کردیا گیا تھا ۔ رشتہ داروں اور ملنے جلنے والوں پر بھی پولس کی گہری نظر تھی سب کے نام اور موبائل نمبربھی پولس نے نوٹ کئے ۔ میڈیا کو اجازت نہیں تھی کہ وہ کسی طرح کی کوئی تصویر لیں ۔ چپہ چپہ پر موجود پولس اس بات کا خیال رکھ رہی تھی کہ کوئی مزمل شیخ سے گفتگو نہ کرسکے ۔ بہر حال ماں کی عیادت یا اس مقدس ہستی سے ملاقات کا وقفہ شام ساڑھے پانچ بجے ختم ہو گیا اور جیل انتظامیہ کی جانب سے پولس اہلکار و افسران انہیں لے کر دوبارہ ناسک جیل روانہ ہوگئے ۔ واضح ہو کہ ان چند گھنٹوں کے سرکاری اخراجات کی رقم ستر ہزار بتائی گئی ہے جسے مزمل شیخ کو برداشت کرنے کا سپریم کورٹ نے حکم دیا تھا ۔

سپریم کورٹ نے دو ماہ قبل ان کی ایک دن جسے چند گھنٹہ کہنا مناسب رہے گا ، کی پیرول منظور کی تھی ۔ مذکورہ بم دھماکوں کے الزام سے بری ہونے والے عبد الواحد شیخ نے بتایا کہ مزمل نے ایک سال قبل ناسک جیل انتظامیہ سے ایک ماہ کی پیرول کی گزارش کی تھی ۔ انہوں نےماں کی بیماری کیلئے یہ پیرول مانگی تھی چونکہ ان کی والدہ کا آپریشن ہونا تھا وہ بیمار تھیں اور ان کی دیکھ ریکھ کرنے والا کوئی نہیں تھا ۔ ان کے والد عطا الرحمن بھی سخت علیل اور انصاف کیلئے بھاگتے بھاگتے حوصلہ کھو بیٹھے تھے اور بالآخر ۵ ؍ جنوری کو دل کےشدید دورے کے بعد مجبور باپ ہندوستانی جمہوریت اور سیکولرزم کے ڈھنڈورچیوں کے لئے ایک خاموش پیغام چھوڑ کر ہمیشہ کیلئے اس دنیا کے مصائب سے نجات پاگئے ۔

عبدالواحد کی مطابق مزمل شیخ کی پیرول کی درخواست کو جیل انتظامیہ نے مسترد کردیا۔اس کے بعد انہوں نے اسے ہائی کورٹ میں چیلنج کیا لیکں ہائی کورٹ نے بھی اسے مسترد کردیا ۔ سپریم کورٹ نے دریا دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک ماہ کے پیرول کی درخواست کو صرف ایک دن یعنی محض چند گھنٹوں کیلئے دو ماہ قبل منظور کیا جس پر آج اس وقت عمل کیا گیا جب مزمل شیخ کے والد تیرہ برسوں سے بوڑھی آنکھوں میں اپنے تین بچوں کے دیدار کا خواب لئے تھک کر موت کی آغوش میں پناہ لے چکے ۔ سپریم کورٹ نے مذکورہ چند گھنٹوں کے پیرول کو اس شرط پر منظور کیا تھا کہ اس کے سارے اخراجات مزمل شیخ برداشت کریں گے ۔ ان میں گاڑیوں کی آمد ورفت کا کرایہ پولس افسران کی اضافہ تنخواہ وغیرہ شامل ہے جس کی مجموعی رقم ستر ہزار بتائی گئی تھی ۔ ظاہر سی بات ہے کہ قید و بند کی صعوبتیں جھیلنے والا یا اس کا بوڑھا باپ اس کی استطاعت کہاں رکھتا تھا ؟ مذکورہ ستر ہزار کی رقم کے سلسلے میں معلوم ہوا کہ انہوں نے جمعیت سے بھی رابطہ کیا لیکن جمعیت علما جو محسورین کے مقدمے لڑتی ہے نے تیس ہزار سے زائد دینے سے معذوری ظاہر کی تھی ۔ والد کے انتقال کے بعد کسی طرح رشتہ داروں نے یہ رقم اکٹھا کی اور اس طرح چند گھنٹوں کیلئے مزمل شیخ بیمار والدہ سے ملاقات کرسکے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.