صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

بی ایم سی اور مقامی لیڈروں کی لاپروانی کی وجہ سے گوونڈی میں خسرہ کا پھیلاؤ ہوا : عام آدمی پارٹی

43,961

قاسم مہدی نے الزام لگایا کہ جنوری سے گوونڈی میں خسرہ کے کیس سامنے آنے کے باوجود شہری انتظامیہ اور سماج وادی پارٹی کے مقامی لیڈر بڑے پیمانے پر بربادی کا انتظار کرتے رہے

ممبئی : ممبئی عظمیٰ میونسپل کارپوریشن (بی ایم سی) نے ممبئی میں خسرہ کے ۱۰۳۷؍ معالات کی تصدیق کردی ہے، جن میں سے ایک بڑی تعداد ایم ایسٹ وارڈ سے درج کی گئ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خسرہ کے ۱۲؍ کلسٹروں میں سے ۵؍ گوونڈی میں ہیں۔

عام آدمی پارٹی کے سینیر لیڈر اور سابق صحافی قاسم مہدی نے اس معاملے میں اپنا رد عمل ظاہر کرتے ہوئے بی ایم سی اور مقامی لیڈروں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا۔ نیشنل ہیلتھ مشن کے مطابق خسرہ کے ٹیکے کی پہلی خوراک یونیورسل امیونائزیشن پروگرام کے تحت بچے کو ۹ سے ۱۲ مہینے کی عمرکےاندر دے دینا چاہئے ۔ دوسری خوراک ۱۶ سے ۲۴ مہینے کی عمر کے دوران دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’بی ایم سی نے ۹ ماہ سے پانچ سال تک کے ایسے بیس ہزار بچوں کا پتہ چلایا ہے جنہیں آج تک پہلی خوراک بھی نہیں دی گئی ہے۔ کیا اب تک بی ایم سی سورہی تھی کہ معاملہ سنگین ہوجائے تب ٹیکے دینے کا پروگرام شروع کریں گے؟‘‘

مرکز کی طرف سے مقرر کردہ ایک ٹیم نے اس ماہ کے اوائل میں متاثرہ علاقوں کا دورہ کیا تو پتہ چلا کہ خسرہ کے ۶۰؍ فیصد معاملات میں خسرہ کا ٹیکہ لیا ہی نہیں گیا تھا اور ۴۰؍ فیصد معاملات میں دوسری خوراک نہیں لی گئی تھی جو کہ پیدائش کے سولہویں مہینے کے بعد لی جاتی ہے۔

قاسم مہدی نے کہا کہ ’’اس حقیقت کے پیش نظر کہ گوونڈی میں اس بیماری کے پھیلاؤ کا خطرہ سب سے زیادہ ہے، بی ایم سی کو چاہئے تھا کہ ہیلتھ کیئر مراکز اور آنگن واڑی ورکرس کو یہ ذمہ داری  سونپ دی ہوتی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ کوئی بھی بچہ خسرہ کے ٹیکے سے محروم نہیں رہے گا۔ اور اگر لوگ ٹیکہ لینے سے ہچکچارہے تھے تو بی ایم سی کو چاہئے تھا کہ ٹیکوں کے تعلق سے اپنے عوامی آگاہی کے پروگرام کو تیز کرتی۔‘‘

خسرہ کے معاملات جنوری سے آنا شروع ہوگئے تھے لیکن بی ایم سی اس وقت جاگی جب کچھ جانیں چلی گئیں۔ قاسم مہدی نے مقامی کارپوریٹروں اور ایم ایل اے ابو عاصم اعظمی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ اپنی ذمہ داری نبھانے میں ناکام رہے اور انہوں نے اس مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ ’’ابو عاصم اعظمی نے اسپتال کا دورہ کرکے کچھ مریضوں سے ملاقات ضرور کی لیکن وہ سب فوٹو سیشن کے لئے تھا کیونکہ بی ایم سی الیکشن نزدیک آرہے ہیں۔ اگر انہیں واقعی تشویش ہوتی تو وہ اس بیماری کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے جنوری میں ہی کوئی قدم اٹھاتے۔ ابو عاصم اعظمی کی طرح ان کے کارپوریٹر بھی ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہے اور مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔ یہ لوگ گوونڈی کے عوام کو صرف ایک ووٹ بینک سمجھتے ہیں۔ لیکن اس بار میونسپل الیکشن میں عوام انہیں انجکشن لگا کر ان کے ہوش ٹھکانے پر لے آئیں گے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.