صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

 ناکام حکومت کا شہروں کے نام تبدیل کرنےکی کوشش

وعدوں کی تکمیل ومنشور میں درج مسائل حل کرنے کی بجائے عوام کو جذباتی مسائل میں الجھایا جارہا ہے

506

اورنگ آباد:(نامہ نگار)انتخابات کیلئے حکومت کے پا س عوامی فلاح و بہبود کے موضوعات نہ ہونے کی وجہ سے اور گذشتہ انتخاب میں کئے گئے وعدے پورے نہ ہونے کی وجہ سے حکومت شہروں کے نام تبدیل کرنے کی تیاری کی جارہی ہے۔ اصل میں حکومت نے جو وعدے کئے تھے وہ پورا کرنے میں ناکام ثابت ہوئی ہے جس کی وجہ سے ان اہم موضوعات کی طرف سے توجہ ہٹائی جارہی ہے حالانکہ مودی حکومت کے منشور میں صاف طور پر تحریر تھا کہ وہ برسر اقتدار ہوتے ہی مہنگائی پر شکنجہ کسے گی،غیر ملکوں میں موجودسیاہ دولت واپس لائیگی،بے روزگاروں کو روزگار مہیاکروائے گی،غریب کے بینک کھاتوں میں پندرہ لاکھ روپے آئیںگے،ملک کی معیشت مضبوط ہوگی لیکن منشور میں تحریر شدہ ایک بھی وعدے کی تکمیل نہیں کی گئی برعکس اسکے شہروں اور اضلاع کے نام تبدیل کرنے کا حوا کھڑا کیا جارہا ہے اور ایسے افراد جو صرف ملک کی ترقی کے نام پر ووٹ دیا کرتے تھے ان کے ذہنوں میں بھی منافرت پیدا کی جارہی ہے انہی ریاست کے شہروں کے نام بدلے جارہے ہیں جہاں بھاجپا اقتدار میںہیں اتر پردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ نے الہ آباد کا نام بدل کر پریاس راج کردیا ،فیض آباد کا ایودھیا کردیا گیا اور اب احمد آباد کا نام کرناوتی کرنے کیلئے گجرات کے وزیر اعلیٰ وجئے روپانی کوشش میں ہے ۔اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر اور عثمان آباد کا دھاراشیو کرنے کیلئے شیوسینا کے ممبر آف اسمبلی سنجے رائوت نے بذریعے ٹوئٹ وزیر اعلیٰ دیوندر فرنویس سے مطالبہ کیا ہے جس کی وجہ سے آئندہ حلقہ پارلیمانی انتخاب میں سیاسی ہلچل پیدا ہونے کے قوی امکانات ہیں ۔بھاجپا کے نائب ریاستی صدر ڈاکٹر بھاگوت کراڑ بھی اورنگ آباد کے نام تبدیل کئے جانے کی حمایت کررہے ہے انہوں نے کہا کہ اورنگ آباد شہر کا نام تبدیل کرنے میں بھاجپا کی حمایت ہے مئیر اور اور ضلع پریشد صدر شیوسینا کا ہے دونوں ایوان میں شیوسینا کو نام تبدیلی کیلئے قرارداد منظور کرواکر وزیر اعلیٰ کو روانہ کرنی چاہئے جبکہ انہوں نے شہری ترقی کے کاموں کے موضوعات سے کنارہ کشی کی وزیر اعلیٰ نے شہر کی ترقی کیلئے ۴۰۰؍کروڑ روپے کا فنڈ مہیا کیا لیکن شہر میں ترقیاتی کام نہیں کے برابرہیں ۔کچرا نکاسی کا مسئلہ،پانی فراہمی،خستہ حال سڑکیں اور روزگار کے وسائل موجود نہیں لیکن حکومت رام مندر،تین طلاق،شہروں کے ہندو نام کرنے کے درپے ہے اور ملک میں منافرت برپا کرنے پر تلی ہوئی ہے اور اب چار سالہ اقتدار کا عوام جواب طلب کرنے لگی ہے تو ان کی توجہ ہٹانے کا کام برسراقتدار طبقہ کی طرف سے کیا جانے لگا ہے اور اس کا پورا پورا فائدہ آئندہ انتخابات میں اٹھایا جائیگا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.