صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

انجمن اسلام کی حمایت میں مسلمان ، بنگالی بابا کے چنگل سے چھڑائیں سونا پور میدان

1,022

 

شاہد انصاری 

ممبئی : مہاراشٹر کا سب سے بڑا تعلیمی ادارہ انجمن اسلام نے پورے مہاراشٹر کے مسلمانوں سے یہ اپیل کی ہے کہ وہ چھوٹا سونا پور قبرستان میدان کے لئے حق اور انصاف کیلئے منافقت ،ضعیف الاعتقادی اور بابا گری کے خلاف چھیڑی ہوئی مہم میں ریاست بھر کے مسلمان شامل ہوں ۔انجمن نے مسلمانوں سے اس بات کی اپیل کی ہے کہ مسلم معاشرہ میں خواتین کی تعلیمی پسماندگی کو دیکھتے ہوئے ان کے لئے چھوٹا سونا پور قبرستاب میدان میں کالج کھولنے کا منصوبہ رکھتی ہے تاکہ مسلم خواتین پڑھ لکھ کر اونچا مقام حاصل کریں ۔لیکن انجمن کی اس منشا کو لے منافقت کی دنیا کے بے تاج بادشاہ ،مانڈوالی ماسٹر ،آزاد میدان فسادات اور قتل کے ملزم ،توڑوئے ناگپاڑہ معین اشرف عرف بابا بنگالی اپنی شدت پسندی اور جہالت کی ذہنیت کے سبب نہیں چاہتے کہ یہاں کالج بنے ۔کیوں کہ کالج اگر بنا تو اس کی دوکانداری بند ہو جائے گی ۔
انجمن نے ریاست بھر کے مسلمانوں سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس جگہ پر کچھ مہینے پہلے ایک شخص کا قتل ہو گیا تھا کیوں کہ بابا بنگالی گینگ متحرک ہے اور یہ معاملہ ختم نہیں ہوا کہ دوسرا معاملہ سامنے آیا جس میں چھوٹا سونا پور بلال مسجد کے حوض میں بابا بنگالی کے بھکت تیراکی سیکھ رہے ہیں ۔اس میں خواتین ،بچے اور نوجوان سب شامل ہیں ۔اس ویڈیو کے بعد نہ صرف انجمن اسلام بلکہ پوری ریاست کے مسلمانوں میں غم و غصہ پایا جارہا ہے ۔بابا بنگالی گینگ کی جانب سے پہلے اس ویڈیو کو جھٹلانے کی کوشش کی جارہی تھی اور اس کے بعد سوشل سائٹ پر بنگالی اینڈ کمپنی نے ایک ویڈیو پوسٹ کر کے یہ ثابت کردیا کہ وہ ویڈیو اسی مسجد کا ہے ۔ اپنی اپیل میں انجمن اسلام نے پوری ریاست کے مسلمانوں سے کہا ہے کہ اگر انہیں چھوٹا سونا پور مسجد کے حوض میں نہانے کی واردات غلط لگتی ہے تو وہ اپنے اپنے طور پر ممبئی پولس کمشنر سے بابا بنگالی گینگ اور اس کے ان بھکتوں کے خلاف شکایت کریں جنہوں نے مسجد کی پاکیزگی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔

بابا بنگالی

عوامی وکاس پارٹی کے صدر شمشیر خان پٹھان نے کہا کہ بنگالی کا یہ بیان کہ وہ صاف صفائی کررہے تھے،یہ بہت ہی شرم کی بات ہے ، اتنا بڑا جھوٹ وہ بھی ایک بابا کے ذریعہ یہ ناقابل برداشت ہے ۔اگر بابا بنگالی میں تھوڑی بھی شرم باقی ہے تو وہ ان بھکتوں کو حوض میں نہا رہے تھے انہیں میڈیا کے سامنے لائیں اور بتائیں کہ وہ کس طرح حوض کی صفائی کررہے تھے اور اس کے بعد فیصلہ عوام پر چھوڑ دینا چاہئے ،اگر عوام کہتے ہیں کہ صفائی کا یہ طریقہ جس میں خواتین بچے اور مرد نہارہے ہیں صحیح ہے تو پھر اسی طرح ممبئی کی دوسری مساجد کے حوضوں کو صاف کیا جائے ۔اگر عوام یہ غلط مانتے ہیں تو ان شیطانوں کو سزا دینی چاہئے جنہوں نے مسجد اور نمازیوں کی پاکیزگی کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے –

Leave A Reply

Your email address will not be published.