صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

منووادی ایجںڈا ہیں ملک مخالف ، قومی سلامتی اور یو اے پی اے قوانین : رہائی منچ

اجتماعی بھیڑ انسپکٹر کی جان لیتی ہے اور یوگی ہجومی تشدد سے انکار کرتے ہیں : اسد حیات/پرویز پرواز کو یوگی حکومت کے خلاف بولنے کی سزا ملی : فرمان نقوی

727

لکھنو: رہائی منچ نے جسٹس راجیندر سچر کی کی پہلی پر جمہوری آوازوں پر بڑھتے حملوں کیخلاف لکھنئو میں سمینار منعقد کیا ۔ سیمینار میں مقررین نے اس بات پر سخت احتجاج جتایا کہ حق و انصاف کی آواز اٹھانے والے لیڈروں پر حملے میں اضافہ ہوتا جارہا ہے ۔ یوگی حکومت میں یو اے پی اے ،این ایس اے ، اورملک مخالف جیسے غیر انسانی قوانین کے تحت پسماندہ طبقات پر شکنجہ کسا جارہا ہے ۔

جمہوری حقوق کی لڑائی لڑنے والے لیڈر ارجن پرساد سنگھ نے کہا کہ مودی حکومت میں دستور کے ذریعہ دی گئی آزادی کے حق پر حملے تیز ہو گئے ہیں ۔ بھیما کورے گائوں کے بعد شہری حقوق کے لیڈروں کے گھروں میں پولس کے ذریعہ مارے گئے چھاپے اور ان کی بیجا گرفتاریاں کی گئیں ۔ ان کارروائیوں نے ثابت کردیا کہ دابھولکر ،کلبرگی ، پنسارے اور گوری لنکیش کے قاتل فاشسٹ قوتیں کسی بھی حد تک جاسکتی ہیں ۔ کشمیر میں چھوٹے چھوٹے بچوں تک کو پیلیٹ گنوں کا نشانہ بنایا جاتا ہے اور کبھی اسکولی بچوں کو پتھر باز کہہ کر گولیوں کا شکار بنایا جاتا ہے ۔ سہراب الدین معاملہ میں تو ایک بار پھر سے نظام عدل پر ہی سوال کھڑے کردیئے ہیں کہ اگر ملزم رسوخ والا ہوگا تو اس کو سزا نہیں ہوگی ۔

یوگی آدتیہ ناتھ نفرت انگیز تقریر معاملہ کے عرضی گزار پرویز پرواز کو جھوٹے معاملے میں جیل بھیجنے کے سوال پر یوپی میں فرضی انکائونٹر معاملے میں الہ آباد ہائی کورٹ میں پیروی کرنے والے ایڈووکیٹ فرمان نقوی نے بات رکھی ۔ یوگی کے خلاف نفرت آمیز تقریر والا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور عرضٰ گزار پرویز پرواز نے یہ کبھی قبول نہیں کیا کہ انہوں نے کوئی سی ڈی راست طور پر پولس کو ۲۰۱۳ میں دی تھی ۔ پرویز کا ہائی کورٹ میں کہنا تھا کہ انہوں نے سی ڈی ۲۰۰۷ میں اپنے حلف نامہ کے ساتھ سی جے ایم عدالت میں داخل کی تھی جو آج بھی ٹوٹڑی ہوئی حالت میں ریکارڈ پر ہے ۔ اسے کبھی فارنسک جانچ کیلئے نہیں بھیجا گیا ۔ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر التوا ہے اور ریاستی حکومت نے ابھی تک کوئی بھی جواب داخل نہیں کیا ہے ۔ یوگی کے ذریعہ نجی طور پر پرویز کو نشانہ بناتے ہوئے سیاسی انتقام کے تحت کارروائی کی جارہی ہے ۔ انہوں نے آئی ٹی ایکٹ میں کمپیوٹر جانچنے کے حق سمیت کی جارہی بدیلیوں کو شہریوں کی آزادی اور شخصی رازداری پر حملہ قرار دیا ۔ ایسے قانونی اہتمام کی مشروعیت کو عدالت میں چیلنج کرنا چاہئے ۔ منمانے طریقہ سے شہروں کے نام تبدیل کرنے کی کارروائی قانون کے مطابق نہ ہو کر سیاست سے متاثر ہے ۔ الہ آباد کا نام تبدیل کئے جانے کے معاملہ میں ہم عدالت کے فیصلہ کا انتظار کررہے ہیں ۔

گورکھپور فساد معاملہ میں یوگی آدتیہ ناتھ و دیگر کے خلاف قانونی لڑائی لڑنے والے سماجی کارکن اسد حیات ایڈووکیٹ نے کہا کہ ریاستی حکومت شہریوں کے مفاد کی محافظ ہوتی ہے ۔ متاثر عوام پہلے حکومت سے امید کرتے ہیں اور اس کے بعد ہی عدالت جاتے ہیں ۔ لیکن جب مجرم ہی حکومت پر قبضہ جمائے بیٹھے ہوں تو حکومت مجرمین کے حق میں طرفدار بن جاتی ہے ۔ ایسی حالت میں ان مجرمین سے لڑنے والے شہریوں کا استحصال ہوتا ہے ۔ پرویز حیات کا معاملہ اسکی مثال ہے جنہیں دو معاملوں میں فرضی طور سے پھنسایا گیا ہے ۔ سی ڈی کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے ۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سی ڈی انہوں نے پولس کو دی ہی نہیں تھی اور پولس اہلکاروں نے ایسی کوئی ضبطی کی کارروائی نہیں کی جس میں لکھا ہو کہ مارچ ۲۰۱۳ میں متنازعہ سی ڈی اپنے دستخط کے ساتھ انہیں سونپی ۔ یوگی آدتیہ ناتھ نے اپنی حکومت آنے کے بعد اپنے جرائم کے فائل کو رد کروادیا ۔ یہ ایسا معاملہ ہے ہے کہ جس میں انصاف کا قتل ہوا ہے ۔ ہماری جدو جہد جاری رہے گی ۔ یوگی آدتیہ ناتھ سر عام یہ کیوں نہیں کہتے کہ انہوں نے ایسی کوئی تقریر کی ہی نہیں تھی ۔ جو رجت شرما کے ذریعہ آپ کی عدالت میں دکھایا گیا تھا ۔ یوگی آدتیہ ناتھ کو حکومت مٰں بنے رہنے کا کوئی اخلاقی حق نہیں ہے اور نہ ہی وہ سچائی کے محافظ ہیں ۔

یوپی میں ماب لنچنگ کے کئی واقعات ہوئے مگر افسوس ہے کہ وزیر اعلیٰ کو اپنے پولس اہلکار کے قتل کے بعد بھی ماب لنچنگ کا کوئی واقعہ نظر نہیں آتا ۔ اسی طرح دوسری ریاستوں میں واقعات ہو رہے ہیں مگر ان میں پولس کا کردار غیر جانبدارانہ نہیں ہے ۔ پہلو خان کیس میں چھ نامزد افراد کو کلین چٹ دے دی گئی جنکے مجرمانہ کردار کے بارے میں پہلو خان نے اپنی موت سے قبل بتایا تھا ۔ اسی طرح رکبر ماب لنچنگ میں ایم ایل اے کے کردار کی جانچ ہی نہیں کی گئی اور ماسٹر مائنڈ نول کشور کو بھی سلاخوں کے پیچھے نہیں ڈالا گیا جس نے خود پولس پر الزام عائد کیا تھا کہ پولس کے ٹارچر سے رکبر کی موت ہوئی ہے ۔ فیصل لنچنگ کیس مٰں دونوں مجرمین جنکو ضمانت مل گئی تھی عدالت سے بھاگ چکے ہیں اور اب پولس انہیں ڈھوںڈنے کا ناٹک کررہی ہے ۔ اخلاق لِنچِگ کیس میں سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود روزانہ سماعت نہیں ہو رہی ہے سرکاری وکیلوں کی دلچسپی مقدموں ککے جلد تشفیہ میں نہیں ہے ۔ ان سب کے پیچھے سیاسی لوگوں کی دلچسپی ہے کہ سیاسی لوگوں کو سزا ملے ۔

کانپور مٰں بے گناہوں پر عائد قومی سلامتی قانون کے معاملہ پر ایڈووکیٹ شکیل احمد نے کہا کہ جن کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ نہیں انہیں قومی سلامتی کیلئے خطرہ بتایا جارہاہے ۔ اس بات پر غور کیا جانا چاہئے کہ قومی سلامتی قانون اور گینگسٹر ایکٹ میں واضح فرق ہے ۔ قومی سلامتی قانون سیاسی انتقام کے سبب عائد کیا جارہا ہے ۔ مقصد ہے ہندو اور مسلمانوں کے درمیان خلیج کو مزید گہرا کرنا اور ایک فرقہ کی ملک مخالف شبیہ بنانا ۔ انگریزی حکومت میں رولیٹ ایکٹ نافذ کیا گیا تھا جس میں وکیل ،دلیل ،اپیل کیلئے بھی کوئی جگہ نہیں تھی اور محب وطن افراد کو راست جیل بھیج دیا جاتا تھا ۔ آزاد ملک میں قومی سلامتی قانون اسی استحصالی قانون کا نیا روپ ہے جہاں متاثر کو وکیل کے ذریعہ پیروی سے روک دیا جاتا ہے ۔ ۲۰۱۷ میں کانپور فساد کے بعد بی جے پی ایم ایل اے کے دبائو میں ہندو مسلم یکجہتی کی مثال حکیم خان پر قومی سلامتی قانون لگا دیا گیا ۔ گیارہ مہینے بعد وہ جیل سے رہا کئے گئے ہیں ۔ انصاف میں دیری ناانصافی کے برابر ہے ۔ کانپور سے لے کر بہرائچ ، بارہ بنکی ، اعظم گڑھ ، کاسگنج ، مظفر نگر ، سہارنپور میرٹھ سمیت کئی جگہوں پر قومی سلامتی قانون بے گناہوں کے گلے کی پھانس بن گیا ہے ۔

سمینار کی صدارت کررہے رہائی منچ کے صدر محمد شعیب نے کہا کہ اسی پریس کلب میں پرویز پرواز نے یہ خدشہ ظاہر کیا تھا کہ یوگی حکومت بننے کے بعد وہ خود کو غیر محفوظ محسوس کر رہے ہیں کیونکہ انہون نے آدتیہ ناتھ کی انتقامی سیاست کے خلاف آواز اٹھائی ہے ۔ یہ اندیشہ سچ ثابت ہوا اور آج ان کا خاندان دہشت میں جینے کو مجبور ہے ۔ سبھی شعبوں میں حکومت کی ناکام حکومت کبھی دھرم سبھا منعقد کرتی ہے تو کبھی شہروں کے نام بدلتی ہے ۔ سنجلی ہو یا آسفہ آج ملک کی بیٹیاں محفوظ نہیں ہیں ۔ اس سیاہ دور کے خلاف اور اپنی آنے والی نسلوں کیلئے ہمیں لڑنا ہی ہوگا ۔ ملک مخالف ، قومی سلامتی اور یو اے پی اے کے نام پر جس طرح پسماندہ اور محروم طبقات پر جس طرح تھوک کے حساب سے مقدمے لادے جارہے ہیں اس سے صاف ہے کہ حکومت منو وادی ایجنڈے پر کام کررہی ہے ۔ راجدھانی دہلی میں دستور کی کاپیاں پھونک دی جاتی ہیں تو مجرم کے نام پر دلت پسماندہ اور مسلمانوں کی مڈبھیڑ کے نام پر قتل کردی جاتی ہے ۔ آج ایسے دور میں جسٹس راجیندر سچر یاد آجاتے ہیں کہ مسلمانوں کی حالت دلتوں ست بھی بد تر ہے ۔

رہائی منچ لیڈر شکیل قریشی نے کہا کہ راجا جی پورم میں ملک مخالف نعرہ لگانے کے نام پر مقامی بی جے پی ایم ایل اے ، وشو ہندو پریشد اور بجرنگ دل کے لیڈروں نے ایودھیا میں ہوئی دھرم سبھا کے لئے ماحول بنانے کے مقصد سے مسلم نوجوانوں پر نعرے لگانے کا جھوٹا الزام تراشا جبکہ واقعہ کے وقت مقامی تھانے کی پولس موجود تھی ۔ اس کے باوجود ۴۶ افراد پر ملک مخالف ہونے کا مقدمہ دائر کردیاگیا ۔

مظفر نگر میں قومی سلامتی قانون کے نام پر کی جارہی کارروائی کو لے کر رہائی منچ لیڈر رویش عالم نے کہا کہ مظفر نگر میں جو آگ ۲۰۱۳ میں لگائی گئی وہ اب تک پرسکون نہیں ہوئی ہے ۔ اس کا خمیازہ پوربلیان کے لوگوں کو قومی سلامتی قانون کے تحت بھگتنا پڑرہا ہے ۔ ۱۷ افراد کو قومی سلامتی قانون کے تحت جیل بھیجا گیا ہے ۔

ڈاکٹر منظور علی نے سچر کمیٹی کی سفارشوں کا ذکر کرتے ہوئے سیاسی پارٹیوں کے کردار پر سوال اٹھایا ۔ دلت حقوق کے لئے لڑنے والے کارکن ارون کھوٹے نے جسٹس سچر کے ساتھ گزرے تحریکوں کے تجربات بیان کئے ۔ پروگرام کی نظامت رہائی منچ کے لیڈر مسیح الدین سنجری نے کی ۔

پروگرام میں شہر کی معزز ہستیوں کے علاوہ ایڈووکیٹ عامر نقوی ، سابق رکن پارلیمنٹ الیاس اعظمی ، رام کرشن ، سِرجن یوگی ، آدی یوگی ، ڈاکٹر رخسانہ لاری ، سید شاہنواز قادری ،سید فاروق مقمر سیتا پوری ، پی سی کوریل ، ایان ،نِتِن راج ، انجلی گوڑ ، دلشاد ، روبینہ ،عذریٰ ، پرینکا ، احمد اللہ ، رام کمار ، شاہ عالم شیروانی ، ویرنیدر گپتا ، غفران صدیقی ، ڈاکٹر جمیل احمد ، لقمان ،رویندر پرتاپ ، نوشاد ، فہیم صدیقی ، آفاق ، ویریندر ترپاٹھی ، کے کے شکلا ، اجئے شرما ، ڈاکٹر آر بی راوت ، جیوتی رائے ، رابن ورما ، ڈاکٹر ایم ڈی خان ، شمشیر غاذی پوری ، سچیندر یادو ، اوصاف ، ایڈووکیٹ سنتوش سنگھ ، خالد فتح پوری ، شمس تبریز ،ایس ڈی شکلا ، ملک شہباز اور غفران چودھری بھی شامل تھے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.