صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

قانون حق تعلیم کے تحت ۲۵؍ فیصد کوٹہ میں داخلوں کا عمل آئندہ ماہ

ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے سرپرستوں کی رہنمائی کے لئے موبائل ایپ شروع کیا

444

اورنگ آباد:(جمیل شیخ) قانون حق تعلیم کے تحت پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کو تعلیمی اداروں میں ۲۵ فیصد داخلے دینا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ضلع پریشد ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے ملی اطلاعات کے مطابق رائٹ ٹو ایجوکیشن  ایکٹ کے تحت پسماندہ بچوں کے داخلوں کا عمل آئندہ ماہ سے شروع کیاجارہا ہے ۔ اور داخلوں سے متعلق سرپرستوں اور ذمہ داروں کی رہنمائی کے لئے ایک موبائل اپلیکیشن شروع کیاگیا ہے ۔ تفصیلات کے مطابق ہر تعلیمی سال کے آغاز سے قبل قانون حق تعلیم کے تحت پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کے ۲۵ فیصد ریزرویشن کی کارروائی مکمل کرلی جاتی ہے ۔ ضلع پریشد ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے اس سال بھی تیاریاں شروع کردی ہیں ۔

نرسری اور پہلی جماعت میں پسماندہ طبقات سے تعلق رکھنے والے بچوں کے داخلے کا عمل آئندہ ماہ فروری میں شروع کردیا جائے ۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق پہلی جماعت  میں داخلے کے لئے بچے کی عمر کم از کم ۶ سال اور نرسری میں داخلے کے لئے تین سال ہونا لازمی ہے ۔ آئندہ تعلیمی سال ۲۰۱۹۔۲۰ کے لئے  داخلوں کی درحواست آن لائن حاصل کی جائے گی ۔ ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ کے مطابق گذشتہ سال ضلع کے ۳۶۵ اسکولوں میں داخلوں کے لئے پسماندہ طبقات کے ۶۳۷۵ نشستیں مختص کی گئی تھیں ان کے لئے ۱۱ ؍ہزار ۷۶۴ درخواستیں موصول ہوئیں تھی یہ داخلے چار مرحلوں میں کئے گئے تھے ۔ اور ۶۷۰۹ طلبہ کو ۲۵ فیصد کوٹہ کے تحت داخلے دئے گئے جبکہ ۳ ہزار۷۱۴ طلبہ کی اسکول پہنچے تھے ۔

ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ سے یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہیں کہ تعلیمی سال ۲۰۱۹ کے دوران شروع ہورہے نرسری میں داخلوں کے لئے ۳۰ ستمبر ۲۰۱۹ کو بچے کی عمر تین سال مکمل ہونا چاہئے۔ اسی طرح پہلی جماعت میں داخلے کے لئے بچے کی عمر ۶ سال لازمی ہے۔ داخلوں کے لئے رہائش کا صداقت نامہ تاریخ پیدائش سے متعلق میونسپل کارپوریشن یا دیگر اداروں کا جاری کردہ برتھ سرٹفیکٹ اگر بچہ کسی درجہ فہرست جماعت سے تعلق رکھتا ہوںتو کاسٹ سرٹیفیکٹ اور اگر وہ کھلے زمرے میں ہوں تو سالانہ آمدنی ایک لاکھ سے کم ہونی چاہئے جسمانی طور پر اگر کوئی نقص ہوں تو ڈزایبلیٹی  سریٹفیکٹ پیش کرنا لازمی ہوگا ضلع پریشد ایجوکیشن ڈپارٹمنٹ نے سرپرستوں سے داخلوں کے اس عمل میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل کی ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.