صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مرحوم ڈاکٹر ریحان انصاری اپنے ہدف پر جنون کی حد تک کام کرنے والے عظیم انسان تھے

معروف معالج ، خطاط اور فیض نوری نستعلیق کے خالق کو محبتوں اور اخلاص سے بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا

678

ممبئی : بدھ ۱۶ ؍جنوری کو خیر امت ٹرسٹ نزد امام باڑہ جنوبی ممبئی میں ڈاکٹر ریحان انصاری کی اچانک رحلت پر دوستوں ، ہم پیشہ اور رشتہ داروں نے  ایک تعزیتی نشست میں محبتوں اور اخلاص سے بھرپور خراج عقیدت پیش کیا گیا ۔ مذکورہ تعزیتی نشست خیر امت ٹرسٹ ، اردو کارواں اور کاوش کی مشترکہ کوششوں سے منعقد کیا گیا تھا ۔ دوستوں اور احباب نے مرحوم کے ان پہلوئوں کو بھی شرکا کے سامنے رکھا جنہیں ان کے علاوہ کوئی نہیں جانتا تھا ۔ اظہار رائے کرنے والوں نے مرحوم کو اپنے پیشہ اور کام کے تئیں ایماندار اور مخلص قرار دیا ۔ شرکا کا خیال ہے کہ مرحوم جس کام میں جڑتے تھے اس کو جنون کی حد تک خصوصی توجہ کے ساتھ انجام تک پہنچاتے تھے ۔

سرفراز آرزو نے بتایا کہ کچھ لوگ ہوتے ہیں جو متضاد کاموں کو بھی بخوبی نبھاتے ہیں ریحان انصاری مرحوم ان میں سے ایک تھے ۔ انہوں نے مثال دے کر بتایا کہ کہاں ایک معالج اور کہاں خطاطی اور آرٹ ، یہ محض کام کے تئیں ان کا جنون ہی تھا کہ وہ جہاں بھی گئے جس بھی شعبہ میں کام کیا اس کا حق ادا کردیا ۔ نہال صغیر کا کہنا تھا کہ وہ ان سے شاید ایک یا دو بار ہی ملے لیکن ان کے اخلاص کی وجہ سے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ بہت پرانی شناسائی تھی ۔ نہال صغیر نے کہا کیا بات ہے کہ مرحوم کوئی سلیبریٹی نہیں تھے اس کے باوجود ایک زمانہ ان کا معترف ہے ۔ یہ محض ان کے اخلاص کی بدولت ہے ۔ وہ باہر جیسے نظر آتے تھے اندرون اس سے زیادہ بہتر تھا اسی اللہ نے ان سے محبت کرنے والوں کی تعداد بہت بڑھا دی ہے ۔ ہمیں بھی چاہئے کہ وہ جن نیک راہوں پر چلے اور لوگوں کی فلاح میں اپنی زندگی کھپایا اسی طرح اپنی شخصیت کو بنائیں ۔

ڈاکٹر کاظم ملک نے کہا کہ وہ کسی سے شکوہ شکایت نہیں کرتے تھے بس اپنے کام میں مصروف رہنے والے تھے ۔ اردو اور سائنس بھی ان کی دلچسپی کا ایک شعبہ تھا جس پر انہوں نے کام بھی کیا ۔ ٹائمس آف انڈیا کے صحافی وجیہ الدین نے کہا کہ ایک رپورٹ میں نادانستہ مجھ سے ان کا نام چھوٹ گیا حالانکہ جس تعلق سے وپ رپورٹ تھی اس پر سب سے زیادہ کام انہی کا تھا لیکن نے ملاقات پر کسی قسم کا شکوہ نہیں کیا بلکہ میں خود ہی ان سے اپنی بھول کیلئے معذرت کی تھی ۔

ڈاکٹر ریحان انصاری نے صحافت کی شروعات عبدالسمیع بوبیرے کے صبح امید سے کی تھی ۔ شرکا کا کہنا تھا کہ عبد السمیع بوبیرے کا احترام وہ اپنے والد کی طرح کرتے تھے ۔ آرٹ اور خطاطی میں انہیں اسلم کرتپوری سے ملی لیکن یہ ان کا ہی کمال تھا کہ انہوں نے کئی شعبوں میں کام کیا اور آخر وقت تک ان سب سے وابستہ رہے ۔ مرحوم ڈاکٹر ریحان انصاری کے بہنوئی نے بتایا کہ آخر وقت میں بھی وہ کسی نئے فونٹ پر کام کررہے تھے ۔ اس کے علاوہ وہ پی ایچ ڈی کررہے تھے جس سے وہ پورا نہیں کرسکے لیکن اس کا مقالہ ان کے کمپیوٹر میں محفوظ ہے اسے شائع کیا جانا چاہئے ۔ تعزیتی نشست میں ہاشم چوگلے ، سلیم الوارے ، کاوش کے اخلاق سر ، پروفیسر شعبانہ خان ، مرحوم کے چچا زاد بھائی اور بہنوئی سمیت کئی معروف سماجی کارکنوں اور تعلیمی شعبہ سے جڑے لوگوں نے مرحوم ڈاکٹر ریحان انصاری کی شخصیت ان کی کاوشوں اور ان کے اہداف کے تعلق سے اپنی بات پیش کی ۔ نشست کی نظامت اردو کارواں کے فرید خان کی کی ۔ انہوں نے اپنی بات کہتے ہوئے فرمایا کہ ہم شخصیت کی زندگی میں اسے وہ مقام نہیں دے پاتے لیکن اس کے مرنے کے بعد اس کی شخصیت میں چھپی ہوئی خوبیوں کو عوام کے سامنے لاتے ہیں ہم مردہ پرست بن چکے ہیں ۔

 

 

 

 

 

Leave A Reply

Your email address will not be published.