صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ہندووں کو خوش کرنے کے لئےمسلم نوجوانوں پر سرعام لاٹھی برسانے والے پولس اہلکاروں کو عدالت نے سنائی سزا لیکن۔

83,968

گجرات ہائی کورٹ نے جمعرات کو چار پولیس اہلکاروں کو کھیڑا میں گزشتہ سال مسلم نوجوانوں کو سرعام کوڑے مارنے سے متعلق ایک کیس میں توہین عدالت کا مجرم قرار دیا۔جسٹس اے ایس سپیہیا اور گیتا گوپی کی بنچ نے ان افسران کو – انسپکٹر اے وی پرمار، سب انسپکٹر ڈی بی کماوت، کانسٹیبل راجو بھائی رمیش بھائی ڈابھی اور ہیڈ کانسٹیبل کناک سنگھ لکشمن سنگھ – کو 14 دن کی سادہ قید کی سزا سنائی۔اس نے ان پر 2000 روپے جرمانہ عائد کیا اور کہا کہ اگر وہ رقم ادا کرنے میں ناکام رہے تو انہیں مزید تین دن کے لیے جیل بھیج دیا جائے۔تاہم ہائی کورٹ نے ملزم اہلکاروں کو اپیل دائر کرنے کے قابل بنانے کے لیے تین ماہ کے لیے حکم امتناعی جاری کر دیا۔

ججز نے کہا کہ وہ ناخوش ہیں کہ ایک دن آیا جس پر عدالت کو ایسا حکم دینا پڑا۔ بنچ نے کہا کہ مسلم مردوں کو سرعام کوڑے مارنا "غیر انسانی” اور "انسانیت کے خلاف عمل” ہے۔اکتوبر 2022 میں، مسلم مردوں پر الزام تھا کہ انہوں نے کھیڑا کے اندھیلا گاؤں میں ایک مسجد کے قریب گربا کے مقام پر پتھراؤ کیاتھا۔ اگلے دن پانچ مسلمانوں کو عوام کے سامنے گھسیٹا گیا، ایک کھمبے سے باندھ دیا گیا اور پولیس نے ہجوم کے سامنے ان پر لاٹھیاں برسائی ، اوراس دوران ہجومی خوشی مناتے ہوئے نعرے بازی کرتا رہاکوڑے مارنے کی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ پانچوں افراد کو عوام سے معافی مانگنے کو کہا جا رہا ہے۔4 اکتوبر کو ہائی کورٹ نے پرمار، کماوت، دابھی اور کناک سنگھ کے خلاف توہین عدالت کے الزامات عائد کرنے کا حکم دیا۔

16 اکتوبر کو مسلمان مردوں نے عہدیداروں سے مالی معاوضہ لینے سے انکار کردیا۔پولیس اہلکاروں نے ہائی کورٹ پر زور دیا تھا کہ وہ انہیں سزا نہ دینے پر غور کرے، اور دعویٰ کیا کہ لوگوں کو ان کے کولہوں پر مارنا حراستی تشدد کے مترادف نہیں ہے۔تاہم ہائی کورٹ نے کہا کہ پولیس اہلکاروں نے ڈی کے باسو کیس میں سپریم کورٹ کے رہنما خطوط کی خلاف ورزی کی ۔1996 میں ڈی کے باسو کے فیصلے میں، سپریم کورٹ نے رہنما خطوط وضع کیے جن کی پولیس کو کسی بھی شخص کو گرفتار یا حراست میں لیتے وقت عمل کرنا چاہیے۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.