صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ڈاکڑوں کی لاپر واہی سے ساڑھے چار سال کے بچےکی زندگی جہنم !

 غلط علاج کر نے والے ڈاکٹروں کے خلاف متاثرہ بچے کےوالد کی شکایت پروزیر اعظم کے دفتر سے رِیاست کے پرنسپل سیکریٹری کو تفتیش کا حکم

509

بھیونڈی:(عارِف اگاسکر)بھارتی رِیاست مہاراشٹر کےبھیونڈی شہر میں واقع تروپتی اسپتال ، سوامی اسٹون کلینک اورتھانے کے ویدانت چلڈرین اسپتال کےڈاکٹروں کی لا پر واہی سے غیبی نگر میں رہائش پذیر عبد اللہ مومن نامی ساڑھے چار سالہ بچے کی زند گی جہنم بن گئی ہے ۔ طبی خدمت میں لاپرواہی بر ت کر معصوم بچے کی زند گی سے کھلواڑ کر نے والے ڈاکٹروں سمیت اسپتال انتظامیہ پرفوجداری کارروائی کر نے کا مطالبہ متاثرہ بچے کے والد محمد یا سین محمد احمد مومن نے وزیر اعظم نریندر مودی ، صدر جمہوریہ ، میڈیکل کائونسل آف انڈیا ، رِیاست کے وزیر اعلیٰ ، وزیر برائے صحت ، تھانے میو نسپل کمشنر ، میئر ، میڈیکل افسران اور بھیونڈی نظام پور شہر میو نسپل کارپوریشن کے کمشنر منو ہر ہیرے کو ایک مکتوب روانہ کر تے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ان کے بچے کی زند گی سے کھلواڑ کر نے والے ڈاکٹروں سمیت اسپتال انتظامیہ پر فوجداری کارروائی کی جائے ۔ اسی دوران وزیر اعظم دفتر سےرِیاست کے پرنسپل سکریٹری کوحکم جاری کیا گیا ہے کہ مذکورہ معاملہ کی مکمل تفتیش کر نے کے بعد اس کی تفصیلات وزیر اعظم کے دفتر کو فراہم کی جائے ۔ جس کے سبب متذکرہ معصوم بچے کے علاج کے دوران لا پر واہی برتنے والے ڈاکٹروں سمیت اسپتال انتظامیہ میں زبردست کھلبلی مچ گئی ہے ۔

مو صولہ اطلاع کے مطابق بھیونڈی میو نسپل کارپوریشن میں صفائی ملازم کے طور پرکام کر نے والے محمد یا سین محمد احمد مومن کا ساڑھے چار سالہ بیٹا عبدللہ مومن گزشتہ سال ۲۰۱۷ء میں رئیس ہائی اسکول کمپائونڈ میں واقع کے ایم ای ایس انگریزی میڈیم اسکول میں جو نیئر کے جی ( اسٹرا بیری) میں زیر تعلیم تھا ۔ گزشتہ سال عبد اللہ کو پتھری کی شکایت ہو نے پر اس کے والدمحمد یا سین مومن اسے علاج کی خاطر ۲۱؍ نومبر ۲۰۱۷ء کو بھیونڈی کے تروپتی اسپتال سے منسلک سوامی اسٹون کلینک میں ڈاکٹر گجانن سوامی  کے پاس لے گئے تھے ۔ ڈاکٹر گجانن سوامی اور تروپتی اسپتال انتظامیہ نے محمد یاسین مومن کو مشورہ دیا کہ ان کے بچے کے پتھری کا آپریشن کر نا ہوگاجس کے لیے ۲۵؍ ہزار روپے کا خرچ آئے گا ۔ اسی کے ساتھ آپریشن کر نے کے لیے بھیونڈی کے معصوم اسپتال سے بچے کا فٹنیس سر ٹفکیٹ بھی لانے کے لیے کہا ۔ ۲۷؍ نومبر کو عبداللہ کے والد نے فٹنیس سرٹفکیٹ سمیت دیگر جانچ کے بعدآپریشن کے لیے ۲۵؍ ہزار روپے فیس میں سے ۱۵؍ ہزار روپے پیشگی ادا کیے ۔ لیکن اس وقت ڈاکٹر سنتوش پاٹل کے غیر حاضر رہنے سے دوسرے دن آپریشن کر نے کی تاریخ مقرر کی گئی ۔ ۲۸؍ نومبر ۲۰۱۷ء کی شام میں ۴؍ بجے پتھری کے آپریشن کے لیے عبد اللہ کو آپریشن ٹھیٹر میں لے جا یا گیا۔لیکن عبد اللہ کا آپریشن نہ کرتے ہوئے ڈھائی گھنٹوں بعد شام میں ساڑھے سات بجےتھانے کے ویدانت اسپتال کی امبیولینس طلب کر کے عبد اللہ کو تھانے کے ویدانت اسپتال میں داخل کیا گیا ۔ جہاں رات بھر عبد اللہ کو وینٹی لیٹر پر رکھا گیا ۔

تروپتی اسپتال کے ڈاکٹروں کے ذریعہ بتایا گیا کہ صبح اس کا آپریشن کر کے دو دن میں عبداللہ کو ڈسچارج کیا جائے گا ۔ اور آپریشن کے لیے پیشگی ادا کی ہوئی ۱۵؍ ہزار کی رقم بھی عبد اللہ کے والد کو لو ٹادی گئی ۔ اس دوران جب اس کے و الد نے اپنے بیٹے کو دیکھا جواپنے جسم کوسکوڑتا تھا اور بُری طرح تڑپ رہا تھا ۔ اس کے ہاتھ اور پیر ٹیڑھے ہو گئے تھے اور وہ پاگلوں جیسی حرکتیں کر رہا تھا ۔ بعد ازاں عبد اللہ کو تھانے کے ویدانت چلڈ رین اسپتال میں انتہائی نگہداشت والے کمرےاوراین آئی سی یو میں بارہ دن تک رکھ کر عبد اللہ کی مختلف جانچ کر نے کے لیے کہا گیا ۔ لیکن اس درمیان عبد اللہ کو جس پتھری کی شکایت تھی اس کا کوئی علاج نہیں کیا گیا ۔ جبکہ ویدانت اسپتال کے ڈاکٹروں نے عبد اللہ کے خاندان والوں کواس سے ملاقات بھی کر نے نہیں دی ۔ مہنگے علاج کے بعد بھی عبد اللہ کی طبیعت میں کوئی سدھار نہ آنے سےاس کے والد نے ڈاکٹروں سے استفسار کیا ۔ جس پر ڈاکٹروں نے انھیں جھوٹا سرٹفکیٹ دیتے ہوئے کہاکہ ان کا بیٹا ٹھیک ہو گیا ہے ۔ لیکن  ویدانت اسپتال کے ڈاکٹروں نے انھیں یہ نہیں بتایا کہ ان کے بیٹے کی حالت اتنی خراب کیوں ہوئی تھی ۔

یاسین مومن نے اپنے شکایتی مکتوب میں یہ الزام عائد کیا ہے کہ ویدانت چلڈرن اسپتال انتظامیہ نےانھیں۱۲؍ دن کا  ایک لاکھ روپےبل ادا کر نے کے لیے کہا اور عبد اللہ کے ٹھیک ہو نےکا جھوٹا سرٹفکیٹ دے کر بھیونڈی کے تروپتی اسپتال ، سوامی اسٹون کلینک اورڈاکٹر سنتوش پاٹل کی غلطیوں پر پردہ ڈالنے کا کام کیا ہے ۔ عبد اللہ کی طبیعت مزید بگڑ نے پراسے ممبئی میں واقع سیفی اسپتال میں داخل کیا گیا۔جہاں اس کا ای سی جی اور ایم آر آئی اور دیگر ضروری جانچ دوبارہ کی گئ ۔ اس سلسلے میں سیفی اسپتال کے ڈاکٹر اُدانی سے عبد اللہ کی صحت کے تعلق سے تفتیش کر نے پر انھوں نے بتایا کہ بھیونڈی کے تروپتی اسپتال،سوامی کلینک ، ڈاکٹر سنتوش پاٹل اور تھانے کے ویدانت اسپتال نےاس کے علاج میں لاپرواہی بر تی ہےاور غلط علاج کیا ہے ۔ جسے سُب کر یاسین مومن سکتے میںآ گئے ۔ اور انھوں نے تروپتی اسپتال کے ڈاکٹروں کے ذریعہ عبد اللہ پر کیے گئے علاج کی رپورٹ کی نقول طلب کی ۔

لیکن اسپتال کے عملہ نے انھیں تشفی بخش جواب نہیں دیا جس پر انھوں نے پولیس میں شکایت درج کر نے کی دھمکی دی ۔ جس کے بعد تروپتی اسپتال انتظامیہ نےانھیں مکمل کاغذات نہ دیتے ہوئےادھورے کاغذات دیئے ۔ مذکورہ کاغذات کو جب دیگر ماہر ڈاکٹروں کو دکھایا گیا تو تروپتی اسپتال کے ڈاکٹر سوامی کے ذریعہ غلط علاج کر نے کا انکشاف ہوا۔مذکورہ رپورٹ کے ذریعہ یہ بھی پتہ چلا کہ ڈاکٹر سنتوش نے عبد اللہ کےریڑھ کی ہڈی میں انجکشن کے ذریعہ بے ہو شی کی زیادہ دوائی دی تھی ۔ جس کی وجہ سے عبد اللہ کوجسمانی تکلیف ہوئی اور وہ اپنے جسم کو سکوڑ کر پاگلوں جیسی حرکتیں کر نے لگا ۔ جبکہ بچوں کو اس طرح بے ہو شی کا انجکشن نہیں لگایا جا تا ۔ اس طرح انجکشن دینے پر بچے کی کمر کا نچلا حصہ معذور ہو جاتا ہے۔ اور اسے میڈیکل کے پروفیشن میں جرم قراردیا گیا ہے ۔ ایک سال گزرنے کے بعد بھی عبد اللہ کی صحت میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ اسے ایک جگہ ٹھیک سے بیٹھنا بھی نہیں آتا اور نہ ہی وہ خود کھا پی سکتا ہے ۔

اس پراچانک دورہ پڑتا ہے اور وہ رات بھر نہ سوتا ہے اور تڑپتا رہتا ہے ۔ اس پر مسلسل کسی نہ کسی کو نظر رکھنا پڑتی ہے۔ اس وجہ سے اس کی تعلیم بھی ادھوری رہ گئی ہے ۔ بچے کی اس حالت کو دیکھ کر اس کے والد کو دل کا دورہ پڑگیاہے ۔ جس کی وجہ سے اس کا پورا خاندان پریشانی میں مبتلاء ہو گیا ہے ۔ اسی وجہ سے عبد اللہ کے والد یاسین مومن نےان کے بیٹےکی زندگی سے کھلواڑ کر نے والے ڈاکٹروں پر فوجداری معاملہ درج کرا نے کے لیےوزیر اعظم نر یندر مودی ، صدر جمہوریہ ، میڈیکل کاونسل آف انڈیا ، وزیر اعلیٰ ، ریاستی وزیر صحت کو ایک مکتوب روانہ کیا ہے ۔ جس پر غور کر نے کے بعد وزیر اعظم کے دفتر سے رِیاست کے پر نسپل سیکریٹری کو ہدایت دی گئی ہے کہ اس معاملہ کی مکمل تفتیش کر کے اس کی تفصیلات سےوزیر اعظم کے دفتر کو آگاہ کیا جائے ۔ اس ضمن میں عبد اللہ کے والد نے بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بیٹے کی زند گی سے کھلواڑ کر نے والے ڈاکٹروں پر جب تک کوئی کارروائی نہیں ہو تی اور اس اسپتال کو بند نہیں کیا جا تا تب تک وہ اپنی قانونی لڑائی جاری رکھیں گے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.