صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

مسلم تنظیموں نے بابری مسجد کے تعلق سے ایک بار پھر سپریم کورٹ کے فیصلہ تسلیم کرنے کی بات کہی

574

ممبئی : ایک جانب جہاں ہندوتوا قوتیں ملک میں لاقانونیت پھیلانا چاہتی ہیں وہیں مسلمان سختی کے ساتھ قانون کے احترام کی باتیں کرتے ہیں ۔ ۶ ؍ دسمبر کے موقعہ پر مسلم تنظیموں اور ان کے نمایندوں سمیت سیاسی لیڈروں نے اس کا اعادہ کیا کہ وہ ملک کے دستور پر اعتماد رکھتے اور قانون کا احترام کرتے ہیں ۔

انجینئر توفیق اسلم خان : جماعت اسلامی مہاراشٹر کے امیر حلقہ انجینئر توفیق اسلم خان نے کہا املک کی تاریخ میں یہ سیاہ دن ہے ۔ اس دن دستور کے باغیوں نے جو کچھ کیا اس کی قیمت ملک کو اب تک ادا کرنی پڑ رہی ہے ۔ ملک میں چونکہ قانون کی حکمرانی ہے اس لئے عدلیہ سے جو بھی فیصلہ آئے اسے سب کو ہی ماننا ہی پڑے گا ۔ یہ پوچھے جانے پر کیا سپریم کورٹ اس معاملہ میں فیصلہ سنائے گا یا یونہی معاملہ التوا میں رہے گا انہوں نے کہا کہ ’نہیں ایسا نہیں انہیں فیصلہ تو دینا ہی ہوگا خواہ اس میں کچھ دیر ہو‘۔ احتجاج وغیرہ سے متعلق پوچھے جانے پر انہوں نے کہا کہ اس کی فی الحال ضرورت نہیں ہے کیونکہ مسئلہ عدلیہ میں ہے ۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اللہ سے دعا کریں کے درست فیصلہ آئے ۔

نواب ملک قومی ترجمان راشٹر وادی کانگریس پارٹی کا کہنا ہے بابری مسجد کا معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اس لئے کسی طرح کے آرڈیننس اور قانون بنانے کی ضرورت نہیں ۔ اس ملک میں عدلیہ کی بااختیاری برقرار رہنی چاہئے ۔ جو کچھ بھی اس کا فیصلہ ہوگا وہ سب کو ماننا ہوگا یہی موقف میرا ہے اور یہی راشٹر وادی کانگریس پارٹی کا بھی ہے ۔

نسیم خان ایم ایل اے کانگریس سابق ریاستی وزیر برائے اقلیتی امور : ۶ ؍ دسمبر ۱۹۹۲ کو جس طرح ملک کے سپریم کورٹ کے امتناع کے باوجود قانون کی دھجیاں اڑائی گئیں وہ قابل مذمت ہے ۔ ایک بار پھر جس طرح ملک کی فضا رام مندر کی تعمیر کے نام پر بکھیرنے کی کوشش کی جارہی ہے وہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے ۔مرکز اور اتر پردیش کی بی جے پی حکومتیں امن و امان کی فضا کو بگاڑ رہی ہیں ۔ معاملہ سپریم کورٹ میں ہے اور وہاں سے جو فیصلہ ہوگا وہ سب کو ماننا ہوگا ۔یہ پوچھے جانے پر کہ آپ قانون اور عدلیہ کی بات کرتے ہیں لیکن آپ کی پارٹی کے لیڈر جیسے کرپا شنکر سنگھ وغیر کہتے ہیں کہ رام مندر کی تعمیر قانون بنا کر یا آرڈیننس لاکر جلد سے جلد کرنی چاہئے ۔ یہ ہمارے آستھا کی بات ہے ،پر نسم خان کا کہنا ہے کہ ملک کے آئین اور قانون سے بڑا کوئی نہیں خواہ وہ کوئی بھی ہو ۔

ابو عاصم اعظمی : سماج وادی پارٹی مہاراشٹر کے سربراہ نے اپنے منفرد انداز کے مطابق کہا کہ یہ ملک کیلئے سیاہ دن ہے ۔ اس دن کو انہوں نے اس لئے منتخب کیا کیونکہ اس دن ڈاکٹر امبیڈکر کی برسی منائی جاتی ہے ۔ گویا انہوں نے اس دن سپریم کورٹ کیخلاف جاکر بابری مسجد کی شہادت کے گھنائونے کردار کو انجام دے کر یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ وہ دستور ہند کو نہیں مانتے ۔ ہم ان لوگوں سے کہان چاہیں گے کہ جو لوگ اس ملک کے دستور کو مانتے ہیں اور اس پر اعتماد رکھتے ہیں انہیں ایسے لوگوں  خلاف کھل کر میدان میں آنا چاہئے ۔ ان قوتوں کو جو ملک کے دستور کے خلاف ہیں روکنا اور ان کی قوتوں کو کچلنا ضروری ہے ۔ جس ۶ ؍دسمبر ۱۹۹۲ کو انہوں نے دستور سے بغاوت اور عدلیہ کی توہین کی  اس دن کو یہ یوم شجاعت یا یوم فتح مناتے ہیں جبکہ یہ دن ہندوستان کی تاریخ میں سیاہ دن ہے اور رہتی دنیا تک اسے سیاہ دن کے طور پر ہی منایا جائے گا۔کانگریس کا کردار واضح نہیں ،بابری مسجد میں تالا ڈالنے سے لے کراس کی شہادت تک کی ساری ذمہ داری کانگریس کے ہی سر ہے ۔ کانگریس کا دستور ضرور سیکولر ہے لیکن اس کی سوچ فرقہ وارانہ ہو چکی ہے ۔دستور کے باوجود مسلمان اس ملک میں ٹھگا ہوا سا محسوس کرتا ہے ۔ مسلمانوں کے اس احساس کو بدلنا اور امن کی فضا بحال کرنا دستور پر اعتماد رکھنے والوں کی ذمہ داری ہے ۔

مستقیم احسن اعظمی : جمعیتہ العلما مہاراشٹر کے سربراہ مستقیم احسن اعظمی کے مطابق الیکشن قریب آنے پر مسئلہ اٹھایا جاتا ہے صرف اس لئے کہ اس سے سیاسی مفاد کا حصول ہو ۔ انہوں نے مایوسی کا اظہار کیا کہ کچھ ہونا نہیں ہے ۔ سپریم کورٹ فیصلہ نہیں دے گا ۔ الیکشن کے بعد چار سال کچھ نہیں ہوتا ہے اور آخری سال میں اسے اچھالا جاتا ہے اور ہنگامہ آرائی کا مقصد سیاست کے سوا کیا ہے ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.