صرف نیوز ہی نہیں حقیقی ویوز بھی

ابتک 49 ؍ لاکھ 50 ؍ ہزار کسانوں کا 21 ؍ ہزار کروڑ کا قرض معاف 

432


ممبئی : مہاراشٹر میں چھتر پتی شیواجی مہاراج کسان وقار اسکیم کے تحت اب تک لگ بھگ پچاس لاکھ کسانوں کو جوڑا جاچکا ہے ۔وزیر اعلیٰ دیویندر فڑ نویس کا کہنا ہے کہ ان کسانوں کے اکیس ہزار کروڑ روپئے چکائے جاچکے ہیں ۔مہاراشٹر کے وزیر اعلیٰ فڑنویس نے بتایا کل 49 ؍ لاکھ 50 ؍ ہزار کسانوں کو قرض چھوٹ کی فہرست میں شامل کیا جاچکا ہے ۔ اتنے کسانوں کیلئے 21 ؍ ہزار کروڑ روپئے اب تک چکائے جاچکے ہیں ۔ واضح ہو کہ حکومت مہاراشٹر کی اہم اسکیم گذشتہ سال شروع کی گئی تھی ۔ حالانکہ اس کے باوجود مہاراشٹر میں کسانوں کی خود کشی کے بڑھتے اعداد و شمار کی وجہ سے اپوزیشن لگاتار سوال اٹھاتا رہا ہے ۔ حزب مخالف  کا کہنا ہے کہ اس کے دور اقتدار میں آٹھ ہزار چوہتر کسانوں نے خود کشی کی جبکہ موجودہ حکومت کے صرف چار سال میں ہی دس ہزار سے زائد کسانوں نے خود کشی کرلی ہے ۔  ایک آفشیل اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے جولائی تک 1307 کسانوں نے خودکشی کی ہے ۔ مراٹھواڑہ میں رواں سال 477 کسانوں کی خود کشی کے معاملے سامنے آئے ہیں جبکہ پچھلے سال یہ عدد 454 تھے ۔ اس سے بھی تشویشناک حالت یہ ہے کہ ودربھ علاقہ میں جہاں سے خود وزیر اعلیٰ ہیں اس سال بھی زیادہ کسانوں کی خود کشی کے معاملے سامنے آئے ہیں ۔ یہاں ابتک 598 کسانوں نے خود کشی کی ہے ۔ حالانکہ یہ اعداد و شمار گذشتہ سال کے مقابلے 58 کم ہیں ۔ کسانوں کے مسائل کا حل نہ نکل پانے کے سبب ہی مہاراشٹر میں کسان متشدد ہوا ہے ۔ قرض معافی کا مطالبہ کرنے اور پارلیمنٹ کا گھیرائو کرنے کے لئے کل مہاراشٹر میں لگ بھگ تیس ہزار کسان ہر شہر اور ضلع سے رواں سال مارچ کیلئے متحد تھے اور تھانے میں انہوں نے احتجاج بھی کیا تھا ۔ فصلوں کی قیمت بھی ایک سنجیدہ مسئلہ ہے ۔ مرکز نے حال ہی میں 14 فصلوں کی کم سے کم قیمت میں اضافہ کیا ہے ۔ اس کے باوجود یہاں کے کسانوں کا ماننا ہے کہ سرکاری خرید کی فی الحال جو حالت ہے اسے دیکھتے ہوئے انہیں رقم کیلئے مہینوں انتظار کرنا پڑسکتا ہے ۔کسانوں کا کہنا ہے کہ جب تک سرکاری خرید کے معاملات کو زیادہ بہتر نہیں کیا جاتا تب تک انہیں کم سے کم قیمت کا فائدہ ٹھیک طرح سے نہیں مل سکتا ۔

Leave A Reply

Your email address will not be published.